logo logo
AI Search

ماہواری کے پیڈز کہاں پھینکیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت ماہواری کے پیڈز کا کیا کرے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عورت اپنے خصوصی دنوں (پیریڈز) میں جو پیڈز استعمال کرتی ہے، وہ کہاں پھینکے؟ یا ان کا کیا کرے؟

جواب

حیض کے دوران خواتین جو کپڑا یا پیڈ استعمال کرتی ہیں، اسے دفن کرنا بہتر ہے، اور اگر دفن کرنا دشوار ہو، تو پھر کسی تھیلی وغیرہ میں ڈال کر دور کوڑے میں پھینک دیں، عوامی گزرگاہوں میں نہیں پھینکنا چاہئے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے

کان یامر بدفن سبعۃ اشیاء من الانسان: الشعر و الظفر و الدم و الحیضۃ و السن و العلقۃ و المشیمۃ

ترجمہ: آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم انسان سے متعلق سات چیزوں کو دفن کرنے کا حکم فرمایا کرتے تھے: بال، ناخن، خون، حیض کا کپڑا، دانت، خون کا لوتھڑا، نفاس کی جھلی۔ (کنز العمال، جلد 7، صفحہ 127، حدیث: 18320، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

رد المحتار میں ہے

فإذا قلم أظفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفنه، فإن رمى به فلا بأس، و إن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل كره لأنه يورث داء خانية و يدفن أربعة: الظفر و الشعر و خرقة الحيض و الدم

ترجمہ: پس اگر اس نے اپنے ناخن کاٹے، یا اپنے بال تراشے، تو بہتر یہ ہے کہ ان کو دفن کر دے، اگر اس نے پھینک دئیے، تو بھی حرج نہیں، اور اگر ان کو بیت الخلا یا غسل خانہ میں ڈالا، تو مکروہ ہے، اس لیےکہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے، خانیہ۔ اور چار چیزیں دفن کی جائیں: ناخن، بال، حیض کا کپڑا، اور خون۔ (رد المحتار، جلد 9، صفحہ 668، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے چار چیزوں کے متعلق حکم یہ ہے کہ دفن کردی جائیں، بال، ناخن، حیض کا لتا، خون۔ (بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 588، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4772
تاریخ اجراء: 05 رمضان المبارک1447ھ /23 فروری2026ء