logo logo
AI Search

نابالغ کا بے وضو نماز پڑھنا اور قرآن چھونا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا بچوں کا بے وضو قرآن چھونا یا نماز پڑھنا جائز ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ مساجد، مدارس یا گھروں میں چھوٹے نابالغ بچے قرآن پڑھنے کے لئے آتے ہیں، جنہیں قرآن کے ساتھ ساتھ نماز کی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور نماز کے وقت میں وہ نماز بھی ادا کرتے ہیں، لیکن عموما چھوٹے بچوں کو مکمل وضو کرنا نہیں آتا، تو کیا نماز پڑھنے اور قرآن چھونے کے لئے انہیں وضو کرنا ضروری ہے؟ ان کا بے وضو نماز پڑھنایا قرآن چھونا، ناجائز وگناہ ہے؟

جواب

چھوٹے نابالغ بچوں کو نماز و قرآن کی تعلیم کے ساتھ ساتھ شفقت ونرمی سےوضو کی تعلیم بھی دینی چاہیے تاکہ انہیں وضو کا طریقہ بھی آئے اور عادت بھی بن جائے، لیکن سختی نہیں کرنی چاہیے تاکہ نماز و قرآن سے بھاگ ہی نہ جائیں۔ نمازپڑھنے یا قرآن چھونے سے پہلے ان پر وضو کرنا فرض نہیں، بے وضو بھی نماز پڑھ اور قرآن چھو سکتے ہیں، اس میں کوئی گناہ نہیں، کیونکہ نابالغ بچے وضو، غسل، نماز، روزے ودیگر احکامِ شرع کے مکلف نہیں ہوتے۔

نابالغ کا بے وضو نماز پڑھنے کے متعلق علامہ شُرُنبلالی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1069ھ / 1658ء) لکھتے ہیں:

و شرط وجوبه العقل و البلوغ و الاسلام وقدرة على استعمال الماء الكافي و وجود الحدث

ترجمہ: اور وضو کے واجب ہونے کی شرط عقل، بلوغ، اسلام، بقدر کفایت پانی کے استعمال پر قدرت، اور حدث کا موجود ہونا ہے۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح، صفحہ 47، 48، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اپنے ہی اس قول (و البلوغ) کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

لعدم تكليف القاصر و توقف صحة صلاته عليه

ترجمہ:قاصر (نابالغ) کے مکلف نہ ہونے کی وجہ اور وضو پر اس (نابالغ) کی نماز کے صحت کے موقوف نہ ہونے کی وجہ سے۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، صفحہ 47، 48، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:

فلا تجب على مجنون ولا على كافر، بناء على المشهور من أن الكفار غير مخاطبين بالعبادات، و لا على عاجز عن استعمال المطهر، ولا على فاقد الماء أي و التراب، و لا على صبي

ترجمہ: تو وضو نہ مجنون پر واجب ہے اور نہ کافر پرمشہور قول کی بنا پر کہ کفار عبادات کے مکلف نہیں ہیں اور نہ اس شخص پر جو پاک کرنے والے کے استعمال سے عاجز ہو، نہ اس پر جس کے پاس پانی اور مٹی دونوں موجود نہ ہوں، اور نہ ہی بچے پر۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 1، صفحہ 202، مطبوعہ کوئٹہ)

نابالغ کو بے وضو قرآن چھونے کی اجازت کے متعلق در مختار میں ہے:

و لا یکرہ مس صبی لمصحف ولوح

ترجمہ: بچے کوقرآن یا جس تختی پر قرآن لکھا ہو اسے چھونا مکروہ نہیں۔ (در مختار، کتاب الطھارة، باب سنن الغسل، ج 1، ص 174، مطبوعہ دار الفکر)

عدمِ کراہت کی وجہ بیان کرتے ہوئے مذکورہ بالاعبارت کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:

فیہ أن الصبی غیر مکلف و الظاھر أن المراد لا یکرہ لولیہ أن یترکہ یمس۔

ترجمہ: کیونکہ نابالغ غیر مکلف ہے اور بظاہر اس سے مراد یہ ہے کہ اگربچے کا سرپرست اسے قرآن چھونے دے، تو سرپرست کے لئے بھی مکروہ نہیں۔ (رد المحتار، کتاب الطھارة، باب سنن الغسل، ج 1، ص 174، مطبوعہ دار الفکر)

تبیین الحقائق میں ہے:

و کرہ بعض أصحابنا دفع المصحف و اللوح الذی کتب فیہ القرآن الی الصبیان و لم یر بعضھم بہ بأسا و ھو الصحیح لأن فی تکلیفھم بالوضوء حرجا بھم و فی تأخیرھم الی البلوغ تقلیل حفظ القرآن فیرخص للضرورة

ترجمہ: ہمارے بعض اصحاب نے قرآن پاک اور وہ تختی جس پر قرآن لکھا ہو بچوں کو دینے کو مکروہ قرار دیا ہے اور بعض نے اس میں کوئی حرج نہ جانا اور یہی صحیح ہےکیونکہ بچوں کو وضو کا مکلف بنانے میں حرج ہے اور اگر ان کے بالغ ہونے تک قرآن ان کو نہ دیا جائے تو حفظِ قرآن میں کمی واقع ہوگی لہٰذا بوجہ ضرورت بچوں کو قرآن پاک دینے کی رخصت دی گئی ہے۔ (تبیین الحقائق، کتاب الطھارة، باب الحیض، ج 1، ص 58، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

بچوں کو وضو کا طریقہ سکھانے کے متعلق صدرالشریعہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں: نابالغ پر وُضو فرض نہیں مگر ان سے وُضو کرانا چاہیئے تاکہ عادت ہو اور وُضو کرنا آجائے اور مسائلِ وُضو سے آگاہ ہو جائیں۔ (بھار شریعت، ج 10، ص 302، مطبوعہ مکتبة المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: عبد الرب شاکرعطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9764
تاریخ اجراء: 09 شعبان المعظم1447ھ / 29 جنوری2026ء