پیشاب کی بو رہ جانے پر کپڑا پاک ہوجائیگا؟

کپڑے سے بچے کا پیشاب دھو دیا لیکن بُو نہیں گئی تو اس کا حکم

دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کسی خاتون کے بچوں نے پیشاب کیا اور اس نے کپڑا فورا نہیں دھویا اور وہ سوکھ گیا، اس عورت نے نلکے کےنیچے جاری پانی سے یقین آنے تک اچھے سے دھویا لیکن تب بھی اس کی بو نہیں گئی(کیوں کہ سوکھنے کے بعد پیشاب کے کپڑے کو اگر دھویا جائے تو اس کی مہک بہت مشکل سے جاتی ہے) تو کیا وہ کپڑا پاک ہوگیا؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

صورت مسئولہ میں وہ کپڑا پاک ہے اس لئے کہ اگر شرعی طریقے کے مطابق پانی سے کپڑا اچھی طرح دھو لیا ہو تو وہ پاک ہو جاتا ہے اور اس کاوہ اثر(یعنی رنگ و بو) جس کا دور کرنا دشوار ہو وہ معاف ہوتاہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے

و إن كانت شيئا لا يزول أثره إلا بمشقة بأن يحتاج في إزالته إلى شيء آخر سوى الماء كالصابون لا يكلف بإزالته

ترجمہ: اگر وہ ایسی نجاست تھی کہ جس کا اثر زائل نہیں ہوتا مگر مشقت سے بایں طور کہ اس کو دور کرنے میں پانی کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً صابون کی ضرورت ہو تو وہ اس کو دور کرنے کا مکلف نہیں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 42، دار الفکر، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے

و مسألۃ النجاسۃ انما امرنا فیھا بالتطھیر بالماء و قد حصل و ما یشق زوالہ عفو و العفو لا یتکلف فی ازالتہ۔

ترجمہ: اور مسئلہ نجاست میں ہمیں صرف یہ حکم دیاگیا کہ پانی سے پاک کردیں یہ کام ہوگیا اور جس اثر کا دُور ہونا دشوار ہو وہ معاف ہے اور جو معاف ہے اسے دُور کرنے کا مکلف نہیں کیاگیا۔ (فتاوی رضویہ جلد 3، صفحہ 474، رضا فاونڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے ”اگر نَجاست دور ہو گئی مگر اس کا کچھ اثر رنگ یا بُو باقی ہے تو اسے بھی زائل کرنا لازم ہے، ہاں اگر اس کا اثر بدقّت جائے تو اثر دور کرنے کی ضرورت نہیں تین مرتبہ دھو لیا پاک ہو گیا، صابون یا کھٹائی یا گرم پانی سے دھونے کی حاجت نہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 397، مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: WAT-3973

تاریخ اجراء: 04 محرم الحرام 1447ھ / 30 جون 2025ء