چوڑیوں پر جاندار کی تصویر بنانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
چوڑیوں پر جاندار کی تصاویر بنانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں چوڑیوں پر پینٹنگ کا کام کرتی ہوں، تو کیا میں ان پر مچھلی، ہاتھی، مور، یہ سب بنا سکتی ہوں، یا نہیں؟
جواب
کسی بھی ذی روح (جاندار) کی تصویر بنانا شرعاً ناجائز و حرام اور گناہ کا کام ہے، لہٰذا چوڑیوں پر مچھلی، ہاتھی، مور وغیرہ ذی روح (جاندار) کی تصاویر بنانا، شرعاً ناجائز و گناہ ہے۔
صحيح بخاری کی حدیث پاک ہے ”أن عبد اللہ بن عمر، رضي اللہ عنهما أخبره: أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال:ان الذین یصنعون ھذہ الصوریعذبون یوم القیمۃ یقال لھم احیواماخلقتم“ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک یہ جو تصویریں بناتے ہیں، قیامت کے دن عذاب دیے جائیں گے، ان سے کہا جائے گا: یہ تصویرں جو تم نے بنائی تھیں، اب اُن میں جان ڈالو۔ (صحیح البخاری، صفحہ 1097، رقم الحدیث: 5951، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’فوٹو ہو یا دستی تصویر، پوری ہو یا نیم قد، بنانا، بنوانا سب حرام ہے، نیز اس کا عزت سے رکھنا حرام اگرچہ نصف قد کی ہو کہ تصویر فقط چہرہ کا نام ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 568، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5342
تاریخ اجراء: 13 ربیع الاول 1448ھ/27 اگست 2026ء