بغیر لائسنس کلینک کھولنے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحيم
بغیر لائسنس کلینک کھولنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جواب جاننے سے قبل یہ ذہن نشین ہونا چاہئے کہ ملکی قانون کے مطابق کلینک یا صحت کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھی ادارہ لائسنس حاصل کئے بغیر نہیں کھول سکتے۔ اگر کوئی شخص قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کلینک وغیرہ کھولے گا، تو اسے مختلف قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، مثلاً کلینک سیل ہونے، جرمانہ ادا کرنے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور دیگر مختلف سزاؤں کا مستحق قرار پائے گا۔ نیز ہماری معلومات کے مطابق ڈاکٹر کا لائسنس حاصل کرنے کا طریقہ کار (Process) یہ ہوتا ہے کہ میڈیکل میں MBBS, BDS وغیرہ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد میڈیکل کونسل (Medical Council)سے رجسٹرڈ کسی بھی ادارے میں مخصوص عرصہ کے لئے پریکٹس کرنا ہوتی ہے، اس کے بعد ڈگری اور پریکٹس کی سند کی بنیاد پر شعبۂ میڈیکل کے حکومتی ادارے( جیسا کہ پاکستان میںPMC یعنی Pakistan Medical Commission کے نام سے موجود ہے، اس) کا امتحان کلیئر کر کے لائسنس لینا ہو تا ہے۔ پھر کلینک کھولنا ہو، تو اس کے دیگر لوازمات مکمل کرنے کے بعد اس کی رجسٹریشن بھی کروانی ہوتی ہے۔
اس تفصیل کے بعد پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہے کہ کسی بھی شخص کا لائسنس حاصل کرنے اور رجسٹریشن کے بغیر کلینک یا حفظانِ صحت کا کوئی بھی ادارہ کھولنا شرعاً ناجائز و گناہ ہے، اگرچہ اس نے ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہو اور اپنے شعبے میں بہت ماہر ہو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ لائسنس اور رجسٹریشن کے بغیر کلینک کھولنا ایسا قانونی جرم ہے، جس کے مرتکب کو عمومی طور پر سزا اور ذلت کا سامنا کرنا پڑ تا ہے اور بعض اوقات جیل بھی جانا پڑتا ہے اور ایسا کلینک جاری رکھنے کے لئے جھوٹ، دھوکہ دہی اور رشوت کا بھی تقریبا ضرور ہی ارتکاب کرنا پڑتا ہے اور حکم شرعی یہ ہے کہ حکومت کا کوئی بھی ایساقانون جوخلافِ شرع نہ ہو اور اس کا ارتکاب قانوناً جرم ہو، جس بناپر سزا اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہو، ایسے قانون کی پاسداری کرنا شرعاً بھی ضروری ہوتا ہے اور اس کی خلاف ورزی کر کے خود کو ذلت پر پیش کرنا، جائزنہیں ہوتا۔
خودکوذلت پر پیش کرنے کے متعلق جامع ترمذی میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’لا ینبغی للمؤمن ان یذل نفسہ‘‘ ترجمہ: مؤمن کو جائز نہیں کہ خود کو ذلت و رسوائی میں مبتلاکرے۔ (جامع الترمذی، جلد 2، صفحہ 498، مطبوعہ لاھور)
محدّثِ کبیر علامہ ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ”(لا ینبغی) ای لایجوز ( للمؤمن ان یذل نفسہ) ای باختیارہ“ ترجمہ: حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ مومن کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے اختیار سےاپنے آپ کو ذلت پرپیش کرے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 5، صفحہ 416، مطبوعہ کوئٹہ)
فقہ حنفی کی مشہور کتاب البنایہ شرح ہدایہ میں ہے: ’’اذلال النفس حرام‘‘ ترجمہ: نفس کوذلت پرپیش کرنا حرام ہے۔ (البنایہ شرح الھدایہ، کتاب النکاح، جلد 4، صفحہ 619، مطبوعہ کوئٹہ)
خلافِ قانون امر کا ارتکاب کرنے کے بارے میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ایسے امر کاارتکا ب جو قانوناً،ناجائز ہواور جرم کی حد تک پہنچے، شرعاًبھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جر م قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کوسزااور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعاًبھی روانہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 192، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
نیز یاد رہے کہ شرعی اعتبار سے علاج کرنے کے جائز ہونے کا مدار ڈگری، لائسنس اور رجسٹریشن پر نہیں، بلکہ انسان کے علم پر ہے، لہذا اگر کسی بھی طرح لائسنس تو حاصل کر لیا، کلینک کے تمام لوازمات بھی پورے کر لئے، لیکن علم اور تجربہ کے اعتبار سے علاج کرنے کا اہل نہیں، مثلاً اس نے علمِ طب کو باقاعدہ نہیں پڑھا یا ایک مدت تک طبیبِ حاذق کے پاس رہ کر اتنا تجربہ حاصل نہیں کیا کہ علاج کرنے میں ماہر ہو گیا ہو اور اکثر مریضوں کو اس سے شفاء مل جاتی ہویا تشخیص و علاج میں ایسی فحش غلطیاں کرتا ہو جو بے علم ناتجربہ کار کرتے ہیں، تواگرچہ ڈگری والا ہی ہو تب بھی شرعی طور پر ایسا ڈاکٹر یا حکیم نا اہل ہے اور اس کے لئے مریضوں کا علاج کرنا، شرعاً ناجائز و حرام اور گناہ ہے کہ لائسنس اور رجسٹریشن کی وجہ سے وہ قانونی طور پر تو تحفظ میں آ جائے گا، لیکن شرعاً وہ نا اہل طبیب ہی قرار پائے گا اور محض ان چیزوں کی وجہ سے اس کے لئے لوگوں کا علاج کرنا، جائز نہیں ہو جائے گا۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نااہل طبیب کے لوگوں کا علاج کرنے اور طبیب کے اہل ہونے کا معیار ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”نااہل (طبیب) کو اس (یعنی علاج) میں ہاتھ ڈالنا حرام ہے اور اس کا ترک فرض۔ جس نے اس فن کے باقاعدہ نظریات و عملیات حاصل کئے او ر ایک کافی مدت تک کسی طبیب حاذق کے مطب میں رہ کر کام کیا اور تجربہ حاصل ہوا، اکثر مرضٰی (مریض کی جمع) اس کے ہاتھ پر شفاپاتے ہوں، کم حصہ ناکامیاب رہتاہو، فاحش غلطیاں جیسے بے علم ناتجربہ کارکیاکرتے ہیں تشخیص وعلاج میں نہ کیاکرتا ہو، وہ اہل ہے او راسے بنظرِنفع رسانی خلائق و مسلمین اس سے دست کش ہونا نہ چاہئے، خصوصاً جبکہ دوسرا ایسا وہاں نہ ہو۔ بعض اوقات تشخیص یاعلاج میں غلطی واقع ہونا منافی اہلیت نہیں کہ غلطی سے انبیاءعلیہم الصّلوٰة والسلام معصوم ہیں وبس۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 206، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’طبیب جاہل کہ فنِ طب میں مہارت نہیں رکھتا اور علاج کرنے کو بیٹھ جاتا ہے لوگوں کو دوائیں دے کر ہلاک کرتا ہے۔ آج کل بکثرت ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص سے یا مدرسہ (یعنی میڈیکل اسکول کالج) میں طب پڑھ لیتے ہیں اور علاج و معالجہ سے سابقہ بھی نہیں پڑتا، دو تین برس کے بعد سندِ طب حاصل کر کے مطب کھول لیتے ہیں اور ہر طرح کے مریض پر ہاتھ ڈال دیتے ہیں، مرض سمجھ میں آیا ہویا نہ آیا ہو، نسخے پلاناشروع کردیتے ہیں۔وہ اس کہنے کو کسرِ شان سمجھتے ہیں کہ میری سمجھ میں مرض نہیں آیا، ایسوں کو علاج کرنا کب جائز و درست ہے؟ علاج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مدت دراز تک استاد کامل کے پاس بیٹھے اور ہر قسم کا علاج دیکھے اور استاد کی موجودگی میں علاج کرے اور طریق علاج کو استاد پر پیش کرتا رہے، جب استاد کی سمجھ میں آجائے کہ یہ شخص اب علاج میں ماہر ہوگیا، تو علاج کی اجازت دے۔ آج کل تعلیم اور امتحان کی سندوں کو علاج کے لیے کافی سمجھتے ہیں مگر یہ غلطی ہے اور سخت غلطی ہے۔‘‘ (بہار شریعت، حصہ 15، صفحہ 199، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: ’’بعض لوگ حقیقی معنوں میں باقاعِدہ ڈاکٹر یا حکیم نہ ہونے کے باوجود کلینک یا مطب کھول کر مریضوں کا علاج شروع کر دیتے ہیں، ایسا کرنا قانوناً جرم ہونے کے ساتھ ساتھ شرعاً بھی ممنوع ہے۔ ۔ ۔ یاد رکھئے! جو ماہرطبیب نہ ہو، اس کومریض کے علاج میں ہاتھ ڈالنا کارِ ثواب نہیں، بلکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اگر کوئی ایسا غیر ماہر طبیب کلینک یادو اخانہ کھول کر مریضوں کاعلاج کرنے بیٹھ گیا ہو، تو فوراً یہ ناجائز کام بند کرنا فرض ہے اور توبہ کے تقاضے بھی پورے کرنے ہوں گے۔‘‘ (گھریلو علاج، صفحہ 13 مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Pin-6818
تاریخ اجراء: 26 محرم الحرام 1443ھ/ 04 ستمبر 2021ء