باپ کے علاوہ کسی اور کے نام سے کاغذات بنوانا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
باہر ملک جانے کے لیے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کے نام سے کاغذات بنوانا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی نوجوان دوسرے ملک میں روزگار کے لیے جانا چاہے، لیکن اس کا ویزہ وغیرہ نہ لگ رہا ہو، اس کا کوئی عزیز یا دوست باہر ملک میں ہو، اس کے والد کے نام پر اپنے باپ کا نام تبدیل کر کے کاغذات تیار کرواکر یہ باہر جانا چاہے تو اس کے لیے ایسا کرنا شرعاً کیسا ہے؟
جواب
جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنا نسب منسوب کرنا، ناجائز و حرام اور سخت کبیرہ گناہ ہے، حدیث مبارک میں ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت آئی ہے، اور ایسے شخص کے فرائض اور نوافل بھی اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا، اور حدیث کی رو سے اس شخص پر جنت بھی حرام ہے، نیز اپنے باپ کے غیر کی طرف اپنا نسب منسوب کرنے میں جھوٹ اور دھوکہ ہے اور یہ قانونی طور پر بھی جرم ہے، پکڑے جانے کی صورت میں رشوت دینی پڑے گی، جھوٹ بولنا پڑے گا، یا سزا کاٹنی پڑے گی، اور یہ اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنا ہے جوکہ جائز نہیں ہے، لہذا روز گار کے حصول کے لیے، باہر جانے کے لیے یا کسی بھی مقصد کے لیے اپنا نسب تبدیل کرنا، جائز نہیں ہے۔
اپنا نسب تبدیل کرنے والے شخص کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”من ادعی إلی غیر أبیہ أو انتمی إلی غیر موالیہ فعلیہ لعنۃ اللہ و الملٰئکۃ و الناس أجمعین لا یقبل اللہ منہ صرفا و لا عدلا“ جو کوئی اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کا دعوی کرے یا کسی غیر والی کی طرف اپنے آپ کو پہنچائے تو اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور اللہ تعالی اس کے فرائض اور نوافل قبول نہ فرمائے گا۔ (صحیح المسلم جلد 1، ص 442، مطبوعہ کراچی)
نیز ایک اور مقام پر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”من ادعی إلی غیر أبیہ و ھو یعلم أنہ غیر أبیہ فالجنۃ علیہ حرام“ جس شخص کو یہ معلوم ہو کہ اس کا باپ کوئی اور ہے اور اس کے باوجود اپنے آپ کو کسی غیر کی طرف منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔ (بخاری شریف جلد 2، ص 1001، مطبوعہ کراچی)
سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن نسب تبدیل کرنے والے پر جنت حرام ہونے والی حدیث مبارکہ کی صحت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”یہ حدیث بے شک صحیح ہے اور دوسری حدیث اس سے سخت تر ہے کہ ’’جو اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف اپنا نسب منسوب کرے اس پر اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہے، اللہ نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل‘‘ یہ حکم شامل ہے ہر اس شخص کو کہ سید نہیں اور سید بن بیٹھے، شیخ قرشی یا انصاری نہیں اور اپنے آپ کو ایسا شیخ کہے۔ (فتاوی رضویہ جلد 23، ص 199، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
قانونی جرم کے ارتکاب کے بارے میں سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ”إن من الصور المباحۃ ما یکون جرما فی القانون ففی إقتحامہ تعریض النفس للأذی و الإذلال و ھو لایجوز فیجب التحرز عن مثلہ“ ترجمہ: مباح صورتوں میں سے بعض قانونی طور پر جرم ہوتی ہیں، ان میں ملوث ہونا اپنی ذات کو اذیت و ذلت کے لئے پیش کرنا ہے اور وہ ناجائز ہے، اس طرح کی صورتوں سے بچنا ضروری ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد 17، ص 370 رضا فاؤنڈیشن لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتوی نمبر: pin-7761
تاریخ اجراء: 05 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ/22 مئی 2026ء