غلط میٹر ریڈنگ دینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
غلط میٹر ریڈنگ لکھوانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
پاکستانی حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں کے حوالے سے ایسی پالیسی متعارف کرائی گئی ہے کہ اگر کسی صارف کی بجلی کی ماہانہ کھپت ایک مرتبہ 200 یونٹس سے تجاوز کر جائے، تو آئندہ بلوں میں بھی فی یونٹ زیادہ نرخ وصول کیے جاتے ہیں، خواہ بعد میں بجلی کی کھپت 200 یونٹس سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ ایسی صورت میں اگر کوئی شخص اس اضافی مالی بوجھ کو برداشت کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، تو کیا اس کے لیے میٹر ریڈر سے یہ کہنا جائز ہے کہ وہ میٹر میں استعمال شدہ یونٹس سے کم یونٹس درج کرے اور باقی یونٹس کا فرق آئندہ کسی بل میں شامل کر دیا جائے؟
کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟ نیز اگر یہ جائز نہیں تو اس کی کیا شرعی وجہ ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں یونٹس زیادہ استعمال کرنے کے باوجود میٹر ریڈر سے یونٹس کم کروانا شرعاً ناجائز و گناہ ہے، کہ اس طرح یونٹس کم شو کروانے میں دھوکہ دہی کا عنصر واضح ہے، جبکہ دھوکہ دینا ناجائز و گناہ ہے، نیز یہ قانونی جرم بھی ہے، اور قانونی جرم کرتے ہوئے پکڑے جانے کی صورت میں جھوٹ بولنا پڑے گا، یا رشوت دینی پڑے گی، یا اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنا پڑے گا، اور شریعت ان میں سے کسی کی بھی اجازت نہیں دیتی، پھر اگر میٹر ریڈر سے یونٹ کم کروانے کے لیے اسے کچھ نہ کچھ رقم وغیرہ دی جائے (جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے)، تو یہ رشوت کے زمرے میں آئے گی، اور رشوت دینا، اور لینا بھی ناجائز و گناہ ہے۔
چنانچہ دھوکہ کے متعلق صحیح مسلم میں ہے "عن أبي هريرة أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال أصابته السماء يا رسول اللہ، قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني" ترجمہ: ر وایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم غلہ کے ایک ڈھیر پر سے گزرے، تو اپنا ہاتھ شریف اس میں ڈال دیا، آپ علیہ الصلوۃ و السلام کی انگلیوں نے اس میں تری پائی، تو فرمایا: اے غلہ والے! یہ کیا ہے؟ عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم! اس پر بارش ہوئی ہے۔ فرمایا: تو گیلے حصے کو تو نے اوپر کیوں نہیں کردیا، تاکہ اسے لوگ دیکھ لیتے۔ جس نے دھوکہ دیا، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ (صحیح مسلم، ج 1، ص 99، حدیث 102، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
دھوکے کے متعلق مبسوط سرخسی میں ہے "الغدر حرام" ترجمہ: دھوکہ دینا حرام ہے۔ (مبسوط سرخسی، ج 10، ص 96، دار المعرفۃ، بيروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "غَدَر و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے، مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔" (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
جو کام قانونی جرم کی حد میں شامل ہو، اس کی ممانعت کے متعلق جزئیات:
ذلت و رسوائی والے کام سے بچنا ضروری ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لا ینبغی للمؤمن أن یذل نفسہ“ ترجمہ: مومن کو جائز نہیں کہ خود کو ذلت و رسوائی میں مبتلاکرے۔ (جامع الترمذی، ج 02، ص 498، مطبوعہ: لاہور)
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”من اعطی الذلۃ من نفسہ طائعاً غیر مکرہ فلیس منا“ ترجمہ: جو شخص بغیر مجبوری اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔ (الترغیب والترھیب، ج 2، ص 244، مطبوعہ: دار الفکر، بیروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”کسی ایسے امر کا ارتکا ب جو قانوناً، ناجائز ہو اور جرم کی حد تک پہنچے شرعا بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جرم قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کوسزا اور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعا بھی روا نہیں وقد جاء الحدیث عنہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ینھی المومن ان یذل نفسہ۔ (تحقیق نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے حدیث آئی ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام مومن کو اپنے آپ کو ذلت میں ڈالنے سے منع فرماتے ہیں۔)“ (ملخص از فتاوی رضویہ، ج 20، ص 192، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
رشوت کی تعریف کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی رَحْمَۃ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”الرشوۃ بالکسر: ما یعطیہ الشخص للحاکم وغیرہ لیحکم لہ اویحملہ علی ما یرید“ ترجمہ: رشوت (راء کے زیر کے ساتھ): وہ چیز جو کوئی شخص حاکم یا کسی اور کو اس غرض سے دیتا ہے کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کرے یا اسے اس کام پر آمادہ کرے جو وہ چاہتا ہے۔ (رد المحتار، کتاب القضاء، جلد 8، صفحہ 42، مطبوعہ:بیروت)
اپنا کام بنانے کے لئے جو کچھ دیا جائے وہ رشوت ہے ، چنانچہ امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن لکھتے ہیں: ”رشوت لینا مطلقاً حرام ہے۔کسی حالت میں جائز نہیں۔ جو پرایا حق دبانے کے لیے دیا جائے رشوت ہے، یوہیں (یونہی) جو اپنا کام بنانے کے لیے حاکم کو دیا جائے رشوت ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 23، صفحہ 597، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5340
تاریخ اجراء: 13 ربیع الاول 1448ھ/27 اگست 2026ء