مسلمان اور سید کو گالی دینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
عام مسلمان اور سید کو گالی دینے کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
کسی عام مسلمان کو بغیر اذن شرعی کے گالی دیناگناہ کبیرہ، سخت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، حدیث شریف میں تو مسلمان کونا حق گالی دینے والے کو فاسق اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والا کہا گیا ہے۔ اور سادات کرام کو جب اللہ تعالیٰ نے ان کے نسب کی وجہ سے اعزاز و امتیازبخشا ہے تو ان کا عام مسلمانوں سے زیادہ اکرام لازم ہے، ان کو گالی دینا ، گناہ کو مزید بڑھانے کا باعث ہے۔ جس شخص نے بھی کسی عام مسلمان کو یا کسی سید زادے کو کبھی گالی دی، ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس گالی دینے والے گناہ سے توبہ و استغفار کرے اور جس جس کو گالیاں دی ہیں ان سے معافی بھی مانگے، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی توبہ و استغفار کرے، ورنہ حقوق العباد اور حقوق اللہ میں گرفتار اور مستحق عذاب نار ہوگا۔
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سباب المسلم فسوق‘‘ مسلمان کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے۔
اس حدیث کے تحت علامہ نووی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’و أما معنی الحدیث فسب المسلم بغیر حق حرام باجماع الأمۃ و فاعلہ فاسق کما أخبر بہ النبی صلی اللہ علیہ و سلم‘‘ حدیث کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کو بغیر کسی حق کے گالی دینا حرام ہے اس پر امت کا اجماع ہے اور اس کا فاعل فاسق ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خبر دی۔(مسلم شریف مع شرحہ النووی، ج 1، ص 58، مطبوعہ کراچی)
سیدی اعلی حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذا دینا حرام ہے اور گالی دینا سخت حرام ہے اور بعض گالیاں تو کسی وقت حلال نہیں ہو سکتیں اور ان کے دینے والا سخت فاسق اور سلطنت اسلامیہ میں اسی (80) کوڑوں کا مستحق ہوتا ہے ان سے ہلکی گالی بھی بلا وجہ شرعی حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 538، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ”کسی مسلمان جاہل کو بھی بے اذن شرعی گالی دینا حرام قطعی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ”سباب المسلم کالمشرف علی الھلکۃ“ مسلمان کو گالی دینے والا اس شخص کی مانند ہے جو عنقریب ہلاکت میں پڑا چاہتا ہے۔
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم: ”من اٰذٰی مسلما فقد اٰذانی و من اٰذانی فقد اٰذی اللہ“ جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا دی۔“ (فتاوی رضویہ، ج 21، ص 127، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ایک اور مقام پرعلماء و سادات کرام کے بارے میں فرماتے ہیں: ”علماء سادات کو رب العزۃ عز وجل نے اعزاز و امتیاز بخشا تو ان کا عام مسلمانوں سے زیادہ اکرام امر شرع کا امتثال اور صاحب حق کو اس کے حق کا ایفا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ: ﴿قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ-﴾ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو فرما کیا برابر ہو جائیں گے عالم اور جاہل۔“
جب اللہ جل و علا ہی نے علماء و جہلا کو برابر نہ رکھا تو مسلمانوں پر بھی ان کا امتیاز لازم، اسی باب سے ہے، علمائے دین کو مجالس میں صدر مقام و مسند اکرام پر جگہ دینا کہ سلفاً و خلفاً شائع و ذائع اور شرعاً و عرفاً مندوب و مطلوب۔ ام المؤمنین صدیقہ صلی اللہ تعالیٰ علی بعلہا الکریم و علیہا و سلم کی خدمت اقدس میں ایک سائل کا گزر ہوا، اسے ایک ٹکڑا عطا فرما دیا، ایک شخص خوش لباس شاندار گزرا، اسے بٹھا کر کھانا کھلایا، اس بارہ میں ام المؤمنین سے استفسار ہوا، فرمایا: حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر شخص سے اس کے مرتبہ کے لائق برتاؤ کرو، دیکھو یہ تفرقہ برتن اور پتے کے فرق سے کہیں زائد ہے اور عالم و جاہل و سید و غیر سید کا امتیاز سائل و خوش لباس کے امتیازسے کہیں بڑھ کر۔“ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 718، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Pin-7242
تاریخ اجراء: 15 ذو الحجۃ الحرام 1444ھ / 04 جولائی 2023ء