آن لائن اکیڈمی کا پیڈ لنک شیئر کرنا کیسا؟

آن لائن اکیڈمی کا پیڈ ورژن داخلہ لنک، بغیر اجازت دوستوں میں شیئر کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آج کل جو آن لائن اکیڈمیاں چل رہی ہیں، ان میں طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ: جب ہم انہیں فیس ادا کرتے ہیں، تو وہ ہمیں ایک لنک اور اس کا پاس ورڈ بھیجتے ہیں، جس کے ذریعے ہماری کلاس ہوتی ہے، اس میں اکثر لڑکے ایسا کرتے ہیں کہ، وہ بغیر اجازت لیے اپنے دوستوں کو بھی وہ لنک اور پاس ورڈ مفت میں دے دیتے ہیں، اس سے یہ ہوتا ہے کہ استاد کے پاس فیس دے کر پڑھنے والے طلبا کم ہو جاتے ہیں، جس سے استاد کا نقصان ہوتا ہے۔ تو کیا یہ عمل درست ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں اگر آن لائن اکیڈمی کی طرف سے صرف اس اکیڈمی میں فیس دے کر پڑھنے والوں کو لنک اور اس کا پاس ورڈ دیا جاتا ہے، کسی اور کو بغیر فیس دیئے پڑھنے کی اجازت نہیں ہوتی، تو پھر فیس دینے والےطلبا کا (فیس نہ دینے والے) کسی اور سٹوڈنٹ کو، اکیڈمی والے سے اجازت لیے بغیر یہ لنک اور پاس ورڈ شیئر کرنا شرعا درست نہیں کہ یہ دھوکہ و خیانت ہے اور یہ دونوں کام ناجائز و حرام ہیں، اسی طرح جولوگ اکیڈمی والوں کی اجازت کے بغیر، مفت پڑھتے ہیں، ان کامفت پڑھنابھی جائزنہیں۔

نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

من غش فلیس منا

ترجمہ: جو دھوکہ دہی کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔ (سنن الترمذی، صفحہ 513، حدیث: 1315، دار ابن کثیر)

امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”امانت میں خیانت اور معاہدہ میں غدر کسی کے ساتھ جائز نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 688، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-4476

تاریخ اجراء: 04 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 26 نومبر 2025ء