انبیائے کرام کے لیے مغفرت کی دعا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انبیائے کرام کے لئے مغفرت کی دعا کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
انبیائے کرام علیہم السلام کے لیے مغفرت کی دعا کرسکتےہیں یا نہیں؟
جواب
انبیائے کرام علیہم السلام کے لیے مغفرت کی دعا کرنا ، جائز نہیں کیونکہ اس میں نقص اور توہین کا ایہام ہے۔
علامہ شامی علیہ الرحمہ، علامہ طحطاوی علیہ الرحمہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : ”قال ط: و ينبغي أن لا يجوز غفر الله له وسامحه لما فيه من إيهام نقص ا هـ .أقول : وكذا عفا عنه وإن وقع في القرآن لأن الله تعالى له أن يخاطب عبده بما أراد كما لا يليق أن تخاطب الرعية الأمراء بما تخاطبهم به الملوك“ یعنی یہ کہنا جائز نہیں کہ اللہ پاک نبی کی مغفرت فرمائے ، اس کے گناہوں کو معاف فرمائے کیونکہ اس میں نقص کا وہم پیدا ہوتا ہے۔ اقول: یہی حکم اس دعا کا بھی ہے کہ اللہ پاک اس سے درگزر فرمائے اگرچہ یہ قرآن میں بھی آیا ہے کیونکہ اللہ پاک کو اختیار ہے کہ وہ اپنے بندے کو جس طرح چاہے مخاطب فرمائے جیسا کہ رعایا کہ لئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے حکمرانوں سے ایسے مخاطب ہو جیسے بادشاہ ان سے خطاب کرتا ہے۔ (ردالمحتار، جلد 10، صفحہ 519، مطبوعہ:کوئٹہ)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”أقول: مقطوع به لا شكّ فيه ولا يحتاج فی إمثال ذلك إلى نقل بل إن قصد بذلك حقيقة ما يعطيه كلامه من وقوع الذنوب والإمداد بدعاء مغفرتها خشی عليه أمر عظيم، والعياذ بالله“ یعنی میں کہتا ہوں: اس بات کا ناجائز ہونا قطعی اور یقینی ہے، اس میں کسی قسم کا شک نہیں، اور اس جیسے مسئلے میں کسی نقل کی بھی حاجت نہیں ۔ بلکہ اگر کوئی شخص اس عبارت سے اس کے حقیقی مفہوم کا ارادہ کرے یعنی یہ کہ انبیائے کرام سے واقعی گناہوں کا صدور ہوا ہے اور اسی بنا پر ان کے لیے مغفرت کی دعا کی جائے، تو ایسے شخص کے بارے میں ایک نہایت سنگین معاملے کا اندیشہ ہے۔ العیاذ باللہ۔(جد الممتار، جلد7، صفحہ 241، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2555
تاریخ اجرا: 07جمادی الاولٰی1447ھ / 30 اکتوبر 2025ء