غیر مسلم بینک میں سیونگ اکاؤنٹ اور منافع کا شرعی حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امریکہ کے بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا امریکہ کے کسی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں؟
جواب
اگر وہ بینک خاص کفار کی ملکیت ہے اور اس میں کسی مسلمان کا بالکل شیئر نہیں ہے تو اس بینک میں سیونگ اکاؤنٹ میں پیسے رکھ کر نفع حاصل کرنا، جائز ہے، کیونکہ فقہائے کرام نے کافر حربی سے اس طرح کے عقد کے ذریعے نفع لینے کو جائز قرار دیا ہے جس میں دھوکہ نہ ہو، مثلاً کافر کو قرض دے کر زائد رقم لینا مسلمان کے لئے جائز ہے لیکن سود کی نیت ہرگز نہیں کرے بلکہ جائز نفع سمجھ کر لے۔
فتاوی فیض الرسول میں ہے:” وہ بینک جو خالص یہاں کے غیر مسلموں کے ہوں ، ان سے جو زائد روپیہ ملتا ہے، اسے لینا اور اپنے ہر کام میں اسے صَرف کرنا، جائز ہے اور وہ بینک جو مسلمانوں کے ہوں یا مسلم و غیر مسلم دونوں کے مشترکہ ہوں ، ان سے جو زائد روپیہ ملے وہ یقیناً سود و حرام ہے۔“ (فتاوی فیض الرسول، جلد2، صفحہ 385، شبیر برادرز، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2548
تاریخ اجرا: 23ربیع الآخر1447ھ/17 اکتوبر2025ء