کیا قوالی سننا جائز ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
قوالی کا شرعی حکم کیا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
بعض بزرگانِ مشربِ چشت کی جانب نسبت کی جاتی ہے کہ وہ ”قوالی“ سنا کرتے تھے، مگر کسی بھی بات کو محض آدھی سُن کر قبول کرنا اور پھر حجت بنا کر اپنی مرضی کے مطابق عمل شروع کرنا ہرگز درست نہیں۔ یاد رکھیے کہ اگرچہ بعض مشائخِ چشت کا سماع منقول ہے، مگر وہ سماع مزامیر یعنی آلاتِ موسیقی سے پاک اور جملہ شرائطِ سماع سے متصف ہوتا تھا، جبکہ آج کے زمانے میں شاید ہی پاک وہند میں کوئی ایسی جگہ ہو کہ جہاں قوالی شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہو۔ ہمارے ہاں ہونے والی محافلِ قوالی، آلاتِ موسیقی، فاسق قوال، جاہل سامعین اور بیہودہ رقص وناچ کے بغیر ہوتی ہی نہیں، لہذا ایسی قوالیوں کو مشائخ چشت کی جانب منسوب کر کے جواز کا بہانہ کرنا، درحقیقت شیطانی چال ہے۔ یاد رکھیے کہ اُن بزرگانِ دین کے متعلق یہ بات کہنا کہ وہ موجودہ زمانے کی طرح مزامیر کے ساتھ سنتے تھے، یہ سراسر بہتان اور اُن کی شانِ صَفا کے سو فیصد خلاف ہے۔ خود غور کیجیے کہ جو مشائخ خود مزامیر کو صاف الفاظ میں حرام قرار دیں، نیز اپنی کتب میں واضح لفظوں میں شرائطِ سماع بیان کریں اور اُن شرائط سے مزامیر کو خارج کریں، وہ کیونکر خود ایسی قوالیاں سنیں گے کہ جو مزامیر پر مشتمل ہوں، لہذا جو قوالی وہ سنتے تھے، وہ عین شریعتِ مطہرہ کے مطابق اور ہر طرح کے مفاسدِ دینیہ ودنیویہ سے خالی ہوتی تھی۔
اور جن بعض مشائخ کا مزامیر کے ساتھ سماع ثابت ہے، تو وہ لوگ اُس مقام عالی پر فائز تھے کہ اُن کے نُفوس ظلماتِ نفس، کدوراتِ باطن اور ہر طرح کے فتنہِ نفس سے بالکل پاک ہو کر مقامِ عین الشریعۃ الکبریٰ تک پہنچ چکے تھے اور ایسے بندگانِ خاص کوہِ یاقوت کی طرح نادر ہیں، لہذا اِن مشائخ کے مزامیری سماع کو آج کے لوگوں کا اپنی ذات کے لیے حجت بناتے پھرنا، سراسر جہالت، نفس کی پیروی اور شیطان کا کھلونا ہونے کی دلیل ہے۔
مزامیر کی حرمت پر دلائلِ شرع:
لہو ولعب اور آلاتِ موسیقی کی مذمت کے متعلق قرآنِ پاک میں ہے: ﴿وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﳓ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ- اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سمجھے الله کی راہ سے بہکادیں اورانہیں ہنسی مذاق بنالیں۔ ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ (پ 21، لقمان:06)
اِس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنا ن میں ہے: اس آیت میں ’’لَهْوَ الْحَدِیْثِ‘‘ سے متعلق ممتاز مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد گانا بجانا ہے۔ (صراط الجنان، جلد 7، صفحہ 475، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لیکونن فی امتی اقوام یستحلون الحرو الحریر و الخمر و المعازف۔ ترجمہ: میری امت میں ضرور ایسے لوگ ہوں گے، جو زنا، ریشمی کپڑوں، شراب اور باجوں کو حلال ٹھہرائیں گے۔ (صحیح البخاری، جلد 07، صفحہ 106، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت(
نبی غیب دان صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ناچ گانا اور آلاتِ موسیقی کی کثرت کو قیامت کی نشانیوں میں سے بیان فرمایا، چنانچہ سنن الترمذی میں ہے: ظھرت القينات والمعازف۔ ترجمہ: قیامت کے قریب ناچ گانا کرنے والیوں اور باجوں کی کثرت ہو جائے گی۔ (سنن الترمذی، جلد 4، صفحہ 71، مطبوعہ دار الغرب الاسلامی، بیروت)
عباراتِ مشائخ:
کشف القناع عن حکم الوجد و السماع میں ہے: اما المزامیر۔ ۔ ۔ فلا یختلف فی تحریم سماعہ ،ولم اسمع عن احد ممن یعتبر قولہ من السلف و ائمۃ الخلف من یبیح ذلک و کیف لا یحرم سماع ذلک و ھو شعار اھل الخمور و الفسوق و مھیج للشھوات و الفساد و الجنون؟ و ماکان کذلک لم یشک فی تحریمہ و لا تفسیق فاعلہ و تاثیمہ. . . عن نافع قال: سمع ابن عمر رضی اللہ عنہ مزمارا فوضع اصبعیہ فی اذنیہ و نأی عن الطریق، و قال یا نافع! ھل تسمع شیئاً؟ قال فقلت: لا، قال فرفع اصبعیہ عن اذنیہ وقال کنت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، فسمع مثل ھذا ،فصنع مثل ھذا
ترجمہ: اور آلاتِ موسیقی کے حرام ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے اور سلف و خلف میں جن کی بات کا اعتبار کیا جاتا ہے ان میں سے کسی ایک کو بھی میں نے نہیں سنا کہ وہ آلاتِ موسیقی کو مباح قرار دیتا ہو اور ان چیزوں کاسننا کیسے حرام نہیں ہوگا، حالانکہ یہ فسّاق اور شرابیوں کا طریقہ اور فساد ،جنون او رشہوات کو ابھارنے والی چیز ہے اوراس طرح کی چیز کے حرام ہونے اور اس کے بجانے اور سننے والے کے فاسق و گناہ گار ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اور حضرت نافع رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے ایک باجے کی آواز سنی، تو اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور اس راستے سے ہٹ گئے اور پھر فرمایا: اے نافع! کیا تمہیں ابھی بھی کچھ سن رہا ہے؟ حضرت نافع نے کہا کہ نہیں، تو آپ نے کانوں سے انگلیاں ہٹا لیں اور فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تھا ،تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح کی آواز سنی ،تو ایسے ہی کیا تھا۔ (کشف القناع عن حکم الوجد و السماع، صفحہ 72، مطبوعہ دارالصحابۃ للتراث)
فوائد الفواد میں خود سلسلہ چشت کے جلیل القدر پیشوا حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء دہلوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا واقعہ درج ہے، چنانچہ اِس کتاب میں ہے: ایک شخص نے آکر یہ حکایت بیان کی کہ آپ کے چند مرید فلاں موضع میں گئے اور وہاں مجلس سماع قائم کی، جس میں مزامیر بھی تھا۔ حضرت خواجہ نے اس امر کو ناپسند فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ میں نے اُن کو منع کر دیا کہ مزامیر اور دیگر محرمات ،سماع کے درمیان بالکل نہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے جو کیا ہے، اچھا نہیں اور دربابِ حرمتِ مزامیر بہت غلوفرمایا اور یہ فرمایا کہ اگر امام نماز میں ہو اور مقتدیوں میں عورتوں کی صف بھی ہو اور امام سے سہو ہو جائے۔ پس مقتدی مرد کو لازم ہے کہ سبحان اللہ کہے کہ امام اپنی غلطی معلوم کرے اور وہ غلطی اگر کسی عورت کو معلوم ہو جائے وہ زبان سے سبحان اللہ نہ کہے اور نہ دستک دے بلکہ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر داہنا ہاتھ الٹا مارے کہ آواز ہو اور تالی نہ بجے کہ تالی بجانا بھی لہو ہے، جب یہاں تک منع کیا گیا ہے پس مزامیر و دیگر محرمات سے بہت زیادہ پرہیز کرنا چاہیے۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ مشائخ کبار اور ان لوگوں نے جو اس کے اہل ہیں، راگ سنا ہے اور جو شخص صاحبِ ذوق ہے اور صاحبِ درد ہے وہ ایک بیت کے سننے سے مست ہو جاتا ہے اور رقت اس کو ہو جاتی ہے، خواہ مزامیر درمیان میں ہو یا نہ ہو اور جو صاحبِ ذوق نہیں ہے، اگر اس کے سامنے تمام زمانے کے ڈھول بجائے جائیں، اُس کو مطلق خبر نہ ہو گی۔ پس معلوم ہوا کہ یہ کار متعلق بدرد ہے ، نہ متعلق بہ مزامیر وغیرہ۔ (فوائد الفواد، صفحہ 189، مطبوعہ منظور بک ڈپو، دھلی)
اِسی طرح حضرت نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ہی شرائطِ سماع بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: چند چیزیں موجود ہونی چاہئیں، اس وقت سماع سننا روا ہے؛ مسمِع، مسموع اور مستمع کا ہونا ہے۔ اور چوتھی شے آلاتِ سماع ہیں۔ اس کے بعد اس کی شرح بیان فرمائی کہ مسمِع کے معنی گویندہ کے ہیں۔ لازم ہے کہ گانے والا مرد ہو، لڑکا بے ریش یا عورت نہ ہو۔ اور مسموع وہ غزل یا چیز ہے جو سنی جائے، ہزل اور فحش کی ذیل سے نہ ہونی چاہیے اور مستمع یعنی سننے والے کو چاہیئے کہ وہ یادِ حق میں مملو ہو اور آلاتِ سماع چنگ وغیرہ مجلس میں نہ ہونا چاہیے۔ ایسا سماع حلال ہے۔ (فوائد الفواد، صفحہ 378، مطبوعہ منظور بک ڈپو، دہلی)
یہ عبارت امام اہلِ سنت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ / 1921ء) نے بھی نقل کی اور اِس کے بعد مزامیر کے ساتھ سماع کی ضد کرنے والوں کے لیے لکھا: مسلمانو! یہ فتوی ہے سروَرِ وسردار سلسلہ عالیہ چشت حضرت سلطان الاولیاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا۔ کیا اس کے بعد بھی مفتریوں کو منہ دکھانے کی گنجائش ہے! (فتاوٰی رضویہ، جلد 24، صفحہ 117، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
مشائخ چشت کے متعلق معاذ اللہ مزامیر کے ساتھ سماع کی نسبت خالص بہتان ہے، چنانچہ امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: مولانا فخرالدین زراوی خلیفہ حضورسیدنا محبوب الٰہی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضور کے زمانہ مبارک میں خود حضور کے حکم اَحْکم سے مسئلہ سماع میں رسالہ ”کشف القناع عن اصول السماع“ تحریرفرمایا۔ اُس میں صاف ارشاد ہے کہ: اماسماع مشائخنا رضی ﷲ تعالیٰ عنھم فبریئ عن ھذہ التھمۃ و ھو مجرد صوت القوال مع الاشعار المشعرۃ من کمال صنعۃ اللہ تعالیٰ۔ ترجمہ: ہمارے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کاسماع اس مزامیر کے بہتان سے بری ہے، وہ صرف قوال کی آواز ہے، اُن اشعار کے ساتھ جو کمال صنعت الٰہی سے خبردیتے ہیں۔ (ترجمہ مکمل ہوا، آگے امام اہلِ سنت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ دعوتِ انصاف دیتے ہوئے رقم طراز ہیں) اللہ! انصاف اس امام جلیل خاندان عالی چشت کا یہ ارشاد مقبول ہوگا یاآج کل مدعیان خامکار کی تہمت بے بنیاد ظاہرۃ الفساد، و لاحول و لاقوۃ الا باللہ العظیم۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 24، صفحہ 116، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
بزرگانِ چشت کی طرف ایسی نسبت افتراء کے سوا کچھ نہیں، چنانچہ دوسرے مقام پر لکھا: فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اپنے فتاویٰ میں ثابت کیاہے کہ ان پیروان ہوائے نفس کا حضرات اکابر چشت قدست اسرارہم کی طرف سماع مزامیرنسبت کرنا محض دروغ بے فروغ ہے۔ ان کے اعاظم اجلّہ تصریح فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پرافتراہے، نیز ان کے تمام تمسکات واہیہ کاایک اجمالی جواب موضع صواب ان لفظوں میں گزارش کردیاہے کہ بعض جہال بدمست یانیم ملّاہوس پرست یاجھوٹے صوفی بادبدست کہ احادیث صحیحہ مرفوعہ محکمہ کے مقابل بعض ضعیف قصّے یامحتمل واقعے یامتشابہ کلمے پیش کرتے ہیں، انہیں اتنی عقل نہیں یاقصداً بے عقل بنتے ہیں کہ صحیح کے سامنے ضعیف، متعین کے آگے محتمل، محکم کے حضور متشابہ واجب الترک ہے، پھرکہاں حکایت فعل، پھرکجا مُحَرَّم کجا مبیح، ہرطرح یہی واجب العمل، اسی کو ترجیح، مگر ہوس پرستی کا علاج کس کے پاس ہے، کاش گناہ کرتے اور گناہ جانتے اقرار لاتے، یہ ڈھٹائی اور بھی سخت ہے کہ ہوس بھی پالیں اور الزام بھی ٹالیں، اپنے لیے حرام کو حلال بنالیں۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 24، صفحہ 150، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
جب معلوم ہو چکا کہ وہ بندگانِ خدا اور ہم سے کئی گنا بڑھ کر شریعت وسنت کے عاملین، مزامیر کے سخت مخالف رہے تو ہمیں بھی یقیناً اُنہی کی اتباع کرنا ضروری ہے۔ یہی تربیت امام اہلِ سنت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمائی، چنانچہ لکھا: مسلمانو! جوائمہ طریقت اس درجہ احتیاط فرمائیں کہ تالی کی صورت کوممنوع بتائیں، وہ اور معاذ اللہ مزامیر کی تہمت، اللہ! انصاف، کیسا ضبط بے ربط ہے۔ اللہ تعالیٰ اتباع شیطان سے بچائے اور ان سچے محبوبان خدا کاسچا اتباع عطافرمائے۔ اٰمین الٰہ الحق اٰمین بجاھھم عندک اٰمین۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 24، صفحہ 119، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
جن مشائخ کا مزامیر سے سماع ثابت ہے، اُس کی تاویل اور وضاحت کرتے ہوئے لکھا: یہ بھی ممکن کہ بعض بندگان خدا جو ظلمات نفس و کدوراتِ شہوت سے یک لخت بری ومنزہ ہو کر فانی فی اللہ و باقی باللّٰہ ہو گئے کہ ”لایقولون الااللہ و لا یسمعون الا اللہ بل لا یعلمون الا اللہ بل لیس ھناک الا اللہ“ اُن میں کسی نے بحالت غلبہ حال، خواہ عین الشریعۃ الکبری تک پہنچ کر، ازانجا کہ اِن (آلاتِ موسیقی)کی حرمت بعینھا نہیں۔ ۔ ۔ بعدِ وثوق تام و اطمینان کامل کہ حالاً و مالاً فتنہ منعدم، اَحیاناً اِس پر اقدام فرمایا ہو۔ ۔ ۔ مگر اللہ اللہ یہ عباد اللہ کبریت احمروکوہ یاقوت ہیں اور نادر احکام شرعیہ کی بنا نہیں، تو اُن کا حال مفیدِ جواز یا حکم تحریم میں قید نہیں ہو سکتا، نہ یہ مدعیان خامکار اُن کے مثل ہیں، نہ بے بلوغِ مرتبہ محفوظیت نفس پر اعتماد جائز۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 24، صفحہ 80، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10051
تاریخ اجراء: 07 محرم الحرام 1448ھ / 23 جون 2026ء