شادی میں عورت کی ویڈیو عورت بنائے تو کیا حکم ہے ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شادی میں خواتین کی ویڈیو خاتون بنائے، تو کیا حکم ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا شادی کی مووی بالکل نہیں بنوا سکتے؟ اگر خواتین کی الگ بنوائی جائے، مطلب ان کی طرف عورت کیمرہ مین ہی جا کر ویڈیو بنائے اور مردوں کی طرف مرد، اور بعد میں ایڈٹ کر کے دے دیں، تو کیا پھر بھی اس کی اجازت نہیں ہوگی؟
جواب
شادی کی مروجہ مووی کئی قباحتوں اور گناہوں پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے شرعاً ممنوع و ناجائز ہے۔ اس کی بنیادی ترین وجہ بے پردگی و بدنگاہی ہے کہ دلہن اور شادی پر آئی ہوئی دیگر خواتین کی ویڈیو اور وہ بھی ان کے بناؤ سنگھار کے ساتھ بنائی جاتی ہے، جسے بعد میں غیر محرم افراد بھی دیکھتے ہیں۔ پس اگرچہ خواتین کی جانب خاتون کیمرہ مین اور مردوں کی جانب مرد کیمرہ مین ہی ویڈیو بنائے، تب بھی ایڈیٹنگ کے لیے ویڈیو کلپس کا غیر محرموں تک پہنچنا اور بعد میں مختلف مواقع پر اس مووی کے ذریعے اجنبی مردوں کا غیر محرم عورتوں کو اور اجنبی عورتوں کا غیر محرم مردوں کو دیکھنا سراسر بے حیائی، بد نگاہی اور دیگر کئی شرعی مفاسد کا موجب ہے، لہذا شادی کے موقع پر ایسی مووی بنانے کی شرعاً بالکل اجازت نہیں؛ کیونکہ جو چیز ممنوع فعل کا سبب بنے وہ خود بھی ممنوع ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ (۳۰) وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، بے شک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے۔ اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر جتنا (بدن کا حصہ ) خود ہی ظاہر ہے۔“ (پارہ 18، سورۃ النور 24، آیت 30، 31)
تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”"مسلمان مردوں کو حکم دو" اس آیت میں مسلمان مردوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور جس چیز کو دیکھنا جائز نہیں اس پر نظر نہ ڈالیں ۔ ..."اور مسلمان عورتوں کو حکم دو" آیت کے اس حصے میں مسلمان عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور غیر مردوں کو نہ دیکھیں ۔“ (تفسیر صراط الجنان، جلد 6، صفحہ 616 و 620، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسند امام احمد، مشکوٰۃ المصابیح وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے: واللفظ للبخاری ”فزنا العين النظر“ ترجمہ: آنکھ کا زنا دیکھنا ہے۔ (صحيح البخاري، جلد 5، صفحہ 2304، حدیث 5889، دار ابن كثير، دمشق)
مسند بزار وغیرہ میں ہے: ”عن أبي هريرة رضي اللہ عنه عن النبي صلى اللہ عليه وسلم، أنه قال: العينان تزنيان واليدان تزنيان او قال زنا العين النظر وزنا اليد البطش والفرج يصدق ذلك او يكذبه“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ہاتھ زنا کرتے ہیں، یا فرمایا: آنکھ کا زنا دیکھنا (بدنگاہی کرنا) ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی یا اسے جھٹلا دیتی ہے۔ (مسند البزار، مسند أبي حمزة أنس بن مالك، جلد 16، صفحہ 204، حدیث 9341، مكتبة العلوم والحكم، المدينة المنورہ)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”بد نگاہی ہمیشہ حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 750، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، صحیح ابن حبان، مسند احمد وغیرہ میں ہے: ”ان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل ولا المرأة إلى عورة المرأة“ ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی مرد کسی مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ستر کو دیکھے۔ (صحيح المسلم، كتاب الحيض، جلد 1، صفحہ 183، حدیث 338، دار الطباعة العامرة، تركيا)
علامہ مظہر الدین حسین بن محمود مظہری حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 727ھ/1327ء) اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: ”واعلم أن نظر الرجل إلى عورة الرجل حرام وعورة الرجل ما بين سرته إلى ركبتيه وكذلك يحرم نظر المرأة إلى عورة المرأة وعورة المرأة في حق المرأة ما بين سرتها وركبتيها وعورة المرأة في حق محارمها كأبيها وابنها وغيرهما من رجال أقاربها ممن يحرم النكاح بينهما ما بين السرة والركبة أيضا وأما المرأة في حق الرجل الأجنبي فجميع بدنها عورة إلا وجهها وكفيها ولا يجوز النظر إلى وجهها وكفيها أيضا إلا عند حاجة“
ترجمہ: اور جان لو کہ مرد کا مرد کے ستر کی طرف دیکھنا حرام ہے، اور مرد کا ستر اس کی ناف سے گھٹنوں تک کا حصۂ بدن ہے۔ اسی طرح عورت کا عورت کے ستر کی طرف دیکھنا حرام ہے، اور عورت کا ستر عورت کے حق میں اس کی ناف سے گھٹنوں تک کا حصۂ بدن ہے، اور عورت کا ستر اس کے محارم، جیسے اس کا باپ، بیٹا وغیرہ قریبی مرد رشتہ دار جن کے ساتھ نکاح (ہمیشہ کے لیے) حرام ہوتا ہے، ان کے حق میں بھی ناف سے گھٹنوں تک ہے۔ رہا اجنبی (غیر محرم) مرد کے حق میں عورت کا ستر تو اس کا مکمل بدن ستر ہے سوائے اس کے چہرے اور ہتھیلیوں کے، اور اس کے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف نظر کرنا بھی جائز نہیں، مگر ضرورت کے وقت۔ (المفاتيح في شرح المصابيح، كتاب النكاح، جلد 4، صفحہ 19، دار النوادر، كويت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”وکل ما ادی الی محظور محظور“ ترجمہ: ہر وہ شے جو ممنوع تک پہنچائے، وہ خود ممنوع ہوتی ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 93، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1237
تاریخ اجراء: 06 محرم الحرام 1448ھ/22 جون 2026ء