logo logo
AI Search

مختلف ٹوٹکے کرنا نیز سونا کھانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مختلف ٹوٹکوں، نیز سونا کھانے کا شرعی حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ

(1) جب کسی بچے کو چکن پاکس (چیچک) ہو جاتے ہیں تو دوسرے بچوں کو اس سے دور رکھا جاتا ہے۔

(2) نیز جس بچے کو چیچک نکلتی ہے اسے سرخ کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور اس کے چہرے پر بہت زیادہ سرمہ لگایا جاتا ہے، مزید یہ کہ اگر بچہ لڑکا ہو تو بھی اسے سونے کی انگوٹھی پہنا دی جاتی ہے۔ ان کاموں کے بارے میں شریعت کا کیاحکم ہے؟

(3) تیسرا سوال مذکورہ دونوں سوالات سے ہٹ کر ہے ،اور وہ یہ کہ فی زمانہ مختلف کھانوں کے آئٹم پر اصلی سونا چھڑک کر دیا جاتا ہےاور اس سونے کوکھایا جاتا ہے، ایسا یہاں کم اور بیرون ملک زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح یہاں کے بھی بہت سے حکیم سونے کا کشتہ بناکر دیتے ہیں جو کہ طبی طور پر مفید ہوتا ہے،پوچھنا یہ تھا کہ سونا کھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

(1) جس بچے کو چکن پاکس ہو، احتیاط کی غرض سے دوسرے بچوں کو اس سے دور رکھنا شرعاً جائز ہے، البتہ اس معاملے میں طریقۂ کار ایسا ہونا چاہیے جس سے بیمار بچے کی دل آزاری نہ ہو۔

واضح رہے کہ اس طرح کی تدبیراختیار کرتے وقت ایک مسلمان کا عقیدہ یہی ہوتا ہے کہ بیماری اور شفا دینے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ جسے بھی بیماری لاحق ہوتی ہے اور جسے بھی شفا نصیب ہوتی ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کے ارادے اور مشیت سے ہی ہوتی ہے، اس کے بغیر نہیں ہوتی۔ البتہ مختلف امراض کے کچھ جراثیم ہوتے ہیں جو ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہو سکتے ہیں، یہ ایک کھلی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا مختلف امراض کی صورت میں مریض کو دوسروں سے الگ یا مناسب فاصلہ پررکھنے کی جو احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، وہ اسی قبیل سے ہے۔

(2) اس کے علاوہ بقیہ چیزیں جو دوسرے سوال میں مذکور ہوئیں، ان سب کا تعلق عوام میں رائج ٹوٹکوں سے ہے، اور ٹوٹکوں کے متعلق ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ ٹوٹکا جو خلاف شرع نہ ہو اور اس کا مفید ہونا اپنے یا دوسروں کے تجربہ سے ثابت ہو،وہ جائز ہے، البتہ افضل اس کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بیان کردہ مبارک دعاؤں کو بروئے کار لانا ہے۔ جبکہ وہ ٹوٹکے جو شریعت سےٹکراتے ہوں،وہ اگرچہ مفید ہوں جب بھی ان کا اختیار کرناجائز نہیں۔

سرخ لباس پہنانے والا ٹوٹکا اگر بچی کے ساتھ کیا جائے تو یہ شرعا جائز ہے، اور اگر بچوں کے ساتھ کیا جائے توبھڑکیلا قسم کا سرخ ہو تو لڑکوں کےلئے منع ہے اور کسم نامی جڑی بوٹی سے رنگا ہو تو بھی بچے کو پہنانا ممنوع ہوگا ۔

(۱) اس کے علاوہ چہرے پرسرمہ لگانے کا عمل اگر اس طرح کیا جاتا ہے جیسے کالک چہرے پر مل دی جاتی ہے تو یہ عمل جائز نہیں کہ مثلہ میں داخل ہے۔ ہاں اگر سرمہ آنکھوں میں ہی لگایا جاتا ہے اور اس طرح لگایا جاتا ہے کہ چہرہ بد نما معلوم نہیں ہوتا، تو تدبیر کی غر ض سے بچے اور بچی دونوں کو اس کے لگانے کی اجازت ہے۔

(۲) اس کے علاوہ بچے کو سونے کی انگوٹھی پہنانا جائز نہیں خواہ علا ج یا تدبیر کی غرض سے ہو، لہذا اس صورت میں پہنانے والا گناہگار ہوگا،ہاں بچیوں کو اس طرح کی انگوٹھی پہنانے میں کوئی حرج نہیں۔

(3) باقی جہاں تک تعلق سونا کھانے کاہے،تو فی نفسہ اس کا کھانا جائز ہے،تاہم اگر یہ کسی طرح طبی طور پر نقصان دہ ثابت ہوجائے تو ممنوع ہوگا۔

اب بالتربیت جزئیات ملاحظہ ہوں:

حدیث پاک بیماری اڑ کر نہیں لگتی کی تشریح کے حوالے سےمرأۃ المناجیح میں ہے: اہلِ عرب کا عقیدہ تھا کہ بیماریوں میں عقل و ہوش ہے جو بیمار کے پاس بیٹھے اسے بھی اس مریض کی بیماری لگ جاتی ہے۔ وہ پاس بیٹھنے والے کو جانتی پہچانتی ہے یہاں اسی عقیدے کی تردید ہے ۔ ۔ ۔ اس معنیٰ سے مرض کا اُڑ کر لگنا باطل ہے مگر یہ ہوسکتا ہے کہ کسی بیمار کے پاس کی ہوا متعفن ہو اور جس کے جسم میں اس بیماری کا مادہ ہو وہ اس تَعَفُّنْ سے اثر لے کر بیمار ہوجائے اس معنیٰ سے تَعَدِّی ہوسکتی ہے اس بنا پر فرمایا گیا کہ جذامی سے بھاگو لہٰذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں۔ غرضکہ عدویٰ یا تَعَدّی اور چیز ہے کسی بیمار کے پاس بیٹھنے سے بیمار ہوجانا کچھ اور چیز ہے۔ (مرأۃ المناجیح، ج 06، ص 256، نعیمی کتب خانہ گجرات)

ٹوٹکوں کے متعلق ضابطہ بیان کرتے ہوئےمفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان مرأۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: عوام میں مشہور ٹوٹکے اگر خلافِ شرع نہ ہوں تو ان کا بند کرنا ضروری نہیں۔ جیسے دواؤں میں نقل (شریعت کی منقول دلیل) کی ضرورت نہیں، تجربہ کافی ہے۔ ایسے ہی دعاؤں اور ایسے ٹوٹکوں میں نقل (شریعت کی منقول دلیل) ضروری نہیں۔ خلافِ شرع نہ ہوں تو درست ہیں۔ اگرچہ ماثور دعائیں افضل ہیں۔ (مرأۃ المناجیح، ج 06، ص 226، نعیمی کتب خانہ گجرات)

سرخ لباس مردوں کے لئے بعض اوقات ممنوع اور بعض اوقات ممنوع نہیں، اس حوالے سےسیدی اعلی حضرت، امام اہلسنت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: کسم کا رنگا ہوا سرخ اور کیسر کازرد،جنھیں معصفر ومزعفر کہتے ہیں مرد کو پہننا ناجائز و ممنوع ہے اور ان سے نماز مکروہ تحریمی،اور ان کے سوا اور رنگت کا زرد بلا کراہت مباح خالص ہے،خصوصا زرد جوتا مورث سرور وفرحت۔ ۔ اور خالص سرخ غیر معصفر میں اضطراب اقوال ہے اور صحیح ومعتمد جواز،بلکہ علامہ حسن شرنبلالی نے فرمایا: اس کا پہننا مستحب۔ حق یہ کہ احادیثِ نہی،سرخ معصفر کے بارے میں ہیں۔ ۔ اور احادیثِ جواز، سرخ غیر معصفر میں، اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا سرخ جوڑا پہننا بیان جواز کے لئے ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 22، ص 194 تا 197، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

چہرے پر کالک وغیرہ لگا کر بدنما کرنے کے متعلق فتاوٰی رضویہ میں ہے: منہ کیچڑ سے ساننا صورت بگاڑنا ہے اور صورت بگاڑنا مُثلہ اور مُثلہ حرام ہے۔ افسوس اُن مسلمانوں پر کہ باہم کھیل میں ایک دوسرے کے منہ پر کیچڑ تھوپتے ہیں یاہنسی سے کسی کے سوتے میں اس کے منہ پر سیاہی لگاتے ہیں، یہ سب حرام ہے اور اس سے پرہیز فرض۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 3، ص 667، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

مردوں کو سرمہ لگانا اس وقت مکروہ ہے جبکہ زینت مقصود ہو جبکہ سوال میں مقصود ٹوٹکا ہے لہذا مکروہ نہیں۔ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: پتھر کا سرمہ استعمال کرنے میں حرج نہیں اور سیاہ سرمہ یا کاجل بقصدِ زینت مرد کو لگانا مکروہ ہے اور زینت مقصود نہ ہو تو کراہت نہیں۔ (بہارِ شریعت، ج 3، ح 16، ص 597، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اور جو چیزیں بالغ مردوں کے حق میں ناجائز وممنوع ہیں ان کا نابالغوں کو پہنانا بھی ممنوع ہے۔ علامہ خُسْرو رحمۃ اللہ علیہ بچے کو سونا پہنانے کے متعلق کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں: كره إلباس الصبي ذهبا أو حريرا لأن حرمة اللبس لما ثبتت في حق الذكورة حرم الالباس أيضا كالخمر لما حرم شربها حرم سقيها" بچے کو سونا یا ریشم پہنانا حرام ہے، کیونکہ جب مُذکَّر کے حق میں پہننا حرام ہے، تو اِسی طرح کسی مُذکَّر کو پہنانا بھی حرام ہے، جیسا کہ شراب کا حکم ہے کہ جب اُس کا پینا حرام ہے، تو پِلانا بھی حرام ہی ہے۔ (دُررالحکام شرح غرر الاحکام، ج 01، ص 313، مطبوعہ: کراچی)

سونا چاندی کا کھانا جائز ہے جبکہ مضرصحت نہ ہو۔چنانچہ سرج الوھاج کے جزئیہ: لا یجوز الاکتحال بمیل الذھب والفضۃ وکذا المکحلۃ و کل ما یعود الانتفاع بہ الی البدن" سونے یا چاندی کی سلائی سے سرمہ لگانا جائز نہیں، اسی طرح سونے یا چاندی کی سرمہ دانی استعمال کرنا بھی جائز نہیں، بلکہ ہر وہ چیز جس کا استعمال براہِ راست بدن کے فائدے کے لئے ہو،وہ بھی جائز نہیں۔

کے تحت جد الممتار میں فرمایا: أنّ المراد بالانتفاع مع بقاء عينه انتفاعاً يعود إلى البدن، أي: لا يقوم إلاّ به، أي: لا بدّ له من التعلّق بالبدن حال وقوعه وجوداً و بقاءً، بشرط أن لا يكون قليلاً تابعاً، فهذا كلّه حرامٌ في النقدين إلاّ ما تثبت الرخصة فيه شرعاً، فالاكل و الانفاق و ان كان انتفاعا لكنهما استهلاك" انتفاع سے مراد ایسا نفع اٹھانا ہے کہ جو عین کو باقی رکھنے کے ساتھ جسم کی طرف راجع ہو، یعنی جسم کے ساتھ قائم ہونے سے نفع ہوتا ہو یعنی وجوداً و بقاءً جب نفع واقع ہو تو اس کا تعلق جسم کے ساتھ ضرور ہو، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ نفع قلیل و تابع نہ ہو، تو نفع اٹھانے کی یہ تمام صورتیں سونے چاندی میں حرام ہیں ماسوائے جس میں رخصت شرعی ثابت ہو۔ لہذا کھانا اور خرچ کرنا یہ دونوں بھی اگرچہ انتفاع ہیں لیکن یہ استہلاک کے بعد ہی ممکن ہوتےہیں (لہذا ناجائز نہیں)۔ (جد الممتار، کتا ب الحظر و الاباحۃ، ج 07، ص 11، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: HAB-0771
تاریخ اجراء: 13 محرم الحرام 1448ھ / 29 جون 2026ء