ڈاکٹر کی اپائنٹمنٹ جلد لینے کے لیے پیسے دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ڈاکٹر کا اپائنٹمنٹ جلد حاصل کرنے کے لئے پیسے دینے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
زید اپنے والد کو میڈیکل میں ڈاکٹر کو دکھانا چاہتا ہے، کال سینٹر پر کئی دن کال کرنے کے باوجود اپائنٹمنٹ (سریَل) نہیں ملی، معلوم کرنے پر پتا چلا کہ ڈاکٹر کی اپائنٹمنٹ لینے کے لیے جو شخص سریَل دیتا ہے، اسے 500 روپے دینا ہوں گے، ورنہ جلد ی اپائنٹمنٹ نہیں ملے گی، جو شخص رقم نہیں دیتا، اسے کئی دن بعد کی اپائنٹمنٹ دی جاتی ہے، جب زید نے اس شخص سے بات کی، تو اس نے بھی اس بات کا اقرار کیا۔ ایسی صورت میں میراسوال یہ ہے کہ اپائنٹمنٹ حاصل کرنے کے لیے 500 روپے دینا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب
ڈاکٹر کی اپائنٹمنٹ جلد ی حاصل کرنے کے لیے کسی شخص کو رقم دینا رشوت ہے، اس لیے یہ ناجائز و حرام ہے۔کیونکہ کسی سرکاری یا ادارہ جاتی حق یا سہولت کو معمول سے ہٹ کر اپنے حق میں حاصل کرنے یا اپنا کام جلد کروانے کے لیے کسی ذمہ دار شخص کو کچھ دینا شرعاً رشوت کہلاتا ہے، اور رشوت دینا اور لینا دونوں ممنوع ہیں۔ لہٰذا اس کی اجازت نہیں۔
رشوت کا مال کھانے والے کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: بڑے جھوٹ سننے والے، بڑے حرام خور۔ (پارہ 6، سورۃ المائدہ، آیت42)
مذکورہ بالاآیتِ مبارکہ کے تحت امام ابو بکر احمد بن علی جَصَّاص رازی حنفی رَحْمَۃ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”اتفق جمیع المتاولین لھذہ الآیۃ علی ان قبول الرشاء حرام، واتفقو علی انہ من السحت الذی حرمہ اللہ تعالی“ ترجمہ: اس آیتِ مبارکہ کی وجہ سےتمام مفسرین کرام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بے شک رشوت قبول کرنا حرام ہے، اور اس بات پر (بھی) اتفاق کیا کہ رشوت اس ”سُحت“ میں سے ہے، جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 541، دار الكتب العلمية، بيروت)
رشوت کی تعریف کرتے ہوئے، علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں ارشاد فرماتے ہیں: ”الرشوۃ بالکسر: ما یعطیہ الشخص الحاکم و غیرہ لیحکم لہ او یحملہ علی ما یرید“ ترجمہ: رشوت (راء کے زیر کے ساتھ) یہ ہے کہ کوئی شخص حاکم یا کسی اور کو کچھ دے تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کردے یا اسے اپنی چاہت پورا کرنے پر ابھارے۔ (رد المحتار، ج 8، ص 42، مطبوعہ:کوئٹہ)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”رشوت لینا مطلقاً حرام ہے کسی حالت میں جائز نہیں، جو پرایا حق دبانے کے لیے دیا جائے رشوت ہے، یوہیں جو اپنا کام بنانے کے لیے حاکم کو دیا جائے رشوت ہے، لیکن اپنے اُوپر سے دفعِ ظلم کے لیے جو کچھ دیا جائے دینے والے کے حق میں رشوت نہیں یہ دے سکتا ہے، لینے والے کے حق میں وہ بھی رشوت ہے اور اسے لینا حرام۔ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص597، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5175
تاریخ اجراء: 15 محرم الحرام 1448ھ/01 جولائی 2026ء