logo logo
AI Search

ChatGPT سے شرعی مسئلے پوچھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

چیٹ جی پی ٹی سے شرعی مسئلے پوچھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفیان شرح متین اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل کے دور جس طرح دنیا میں ترقی ہو رہی ہے اور گوگل بلکہ اب تو چیٹ جی-پی-ٹی (Chat GPT) اور اس کے علاوہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (Artificial Intelligence) جیسے پلیٹ فارم موجود ہیں کہ جن سے ہر چیز کے بارے میں معلومات مل جاتی ہیں خواہ اس کا تعلق دین سے ہو یا دنیا سے، ہر چیز تک رسائی آسان ہو چکی ہے سوال یہ ہے کہ اتنی جدید ٹیکنالوجی کے باوجود علمائے کرام ہمیں اپنی فقہی مسلک کے عالم یا مفتی سے مسئلہ پوچھ کر عمل کرنے کی تاکید کیوں کرتے ہیں؟ سائل: عزیر اسلم (لاہور یونیورسٹی)

جواب

شرعی مسائل کے صحیح حل کا انحصار مسئلے کی مکمل نوعیت و تفصیل، حالاتِ حاضرہ، زمان و مکان، فقہی مسالک (حنفی، شافعی، حنبلی، مالکی) کے فرق اور معتبر دینی ماخذ سے رجوع پر ہوتا ہے، نیز اس کے ساتھ کسی بھی شرعی مسئلے کے جواب میں سائل کی موجودہ حالت و کیفیت کا بھی عمل دخل ہوتا ہے، اور ان تمام امور کا لحاظ ایک ماہر عالمِ دین یا مفتی ہی کر سکتا ہے، اسی لیے قرآن و حدیث کی تفہیم و تشریح، دینی احکام اور شرعی مسائل کے حل کے لیے مستند علمائے کرام و مفتیان کرام سے رجوع کرنا ہی ضروری ہےکہ حکم قرآنی بھی یہی ہے کہ "اگر تمہیں علم نہیں ہے تو علم والوں سےپوچھو۔ "

اور جہاں تک چیٹ جی پی ٹی اور دیگر مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم سے مسئلہ پوچھنے کا تعلق ہے تو ان پلیٹ فارم  پر اعتماد کرنے اور ان سے مسئلہ پوچھنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے کہ یہ غیر معتبر ذرائع ہیں کیونکہ چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) اور اس جیسے دیگر  اے آئی پلیٹ فارم میں ہر طرح کا مواد (رطب و یابس)  ایک ہی پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا گیا ہے، جہاں حق و باطل، صحیح و غلط، معتبر و غیر معتبر کے درمیان کوئی امتیاز نہیں۔ ان کے ڈیٹا میں گمراہ فرقوں مثلاً قادیانی، جبریہ، قدریہ اور باطنیہ وغیرہ اور اسلام دشمن قوتوں (یہود و نصاریٰ، ملحدین وغیرہ) کا تیار کردہ مواد بھی شامل ہے، جو اپنی باطل اور مسموم تفاسیر و تاویلات کو علمی لبادہ پہنا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے پھیلاتے ہیں۔ اس لیے قوی امکان ہے کہ جب کوئی شخص ان پلیٹ فارم سے قرآنِ کریم کی تفسیر یا حدیثِ مبارکہ کی شرح وغیرہ پوچھے تو یہ ان گمراہوں کی غلط اور تحریف شدہ آرا کو اصل تفسیر وغیرہ کے طور پر پیش کر دیں، اور یوں سادہ لوح افراد گمراہی وغیرہ کے گڑھے میں جا گریں۔

یونہی ایسے پلیٹ فارم کسی بھی شرعی مسئلے کے حل میں مطلوبہ شرعی تقاضوں کو  پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی جیسے پلیٹ فارم تو دور کی بات ہے، دینی مسئلہ تو کسی سمجھدار عاقل غیر عالم شخص سے بھی پوچھنے کی شرعا اجازت نہیں ہے؛ یہی وجہ ہے امام ابن سرین نے علم دین کے بارے فرمایا: ”یہ علم، دین ہے، غور سے دیکھو تم کس سے حاصل کر رہے ہو؟“

انہی خرابیوں کی وجہ سے ایسے پلیٹ فارم خود اپنے غیر معتبر ہونے کا اعتراف کرتے ہیں، اسی لیے ChatGPT اور دیگر AI پلیٹ فارم خود یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم شرعی فتویٰ دینے کے اہل نہیں، ہمارے جوابات حتمی یا معتبر دینی حکم کے طور پر نہ لیے جائیں۔ حتمی فیصلہ اور فتوی کے لیے ماہر مفتی صاحب سے رابطہ کریں۔

رہا یہ مسئلہ کہ ہر شخص اپنی فقہی مسلک کے علما ء و مفتیان کرام سے مسئلہ پوچھ کر عمل کرنے کا پابند کیوں ہے تو اس کے جواب کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ احکامات کے مطابق اپنی زندگی کو گزارنا لازم ہے، اور یہ اس وقت ہی ممکن ہے کہ جب اسے  زندگی کے ہر ہر معاملے کے بارے میں اللہ پاک کا حکم معلوم ہو، لیکن ہر شخص میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ اپنے تمام مسائل کا حل قرآن و حدیث سے خود نکال سکے کیونکہ قرآن و حدیث  سے مسائل کے استنباط اور استخراج (یعنی مسائل نکالنے) کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص احکام سے متعلق قرآن پاک کی ہر آیت اور تمام احادیث کا علم رکھتا ہو، ان کے ہر ہر لفظ کا لغوی اور شرعی معنی جانتا ہو، قرآن پاک کی آیات میں ناسخ و منسوخ اور احادیث مبارکہ میں سے صحیح، غیر صحیح، حسن اور ضعیف کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ، اس کے علاوہ علم صرف، نحو، بلاغت ، منطق، اور دیگر ضروری علوم عربیہ میں کمال مہارت رکھتا ہو، ساتھ ہی ساتھ اعلی ٰدرجہ کا ذہین و فطین بھی ہو۔

جبکہ ہر شخص بخوبی جانتا ہے کہ ایسا علم اور صلاحیتیں آج کے دور کے علماء میں نہیں، عام لوگوں میں ہونا تو دور کی بات ہے، اور ایک عام مسلمان جو اس طرح کے بلند تر مقام کو نہ پہنچا ہو، وہ احکامِ خدا و رسول عز و جل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم پر عمل کے لئے دلیلِ اجمالی (یعنی قرآن و حدیث کے اس حکم کہ ’’جو نہ جانتا ہو وہ عالم سے پوچھے‘‘ پر عمل) کے ساتھ کسی ایسے مجتہد امام کی پیروی اختیار کرے گا جس نے تفصیلی دلائل شرعیہ سے مسائل کا استنباط و استخراج کیا ہو۔ یہ حقیقتاً تقلید نہیں ہے، بلکہ دلیل پر عمل ہے۔ مگر ظاہری طور پر چونکہ وہ کسی امام کی پیروی کرتا ہے اس لیے اسے عرفاً تقلید کہ دیا جاتا ہے۔ اس معنی میں غیر مجتہد کے لیے یہ تقلید فرض قطعی ہے، اور قرآن مجید اور احادیث میں اس کا حکم ارشاد ہوا ہے۔

لہذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم کسی ایسے شخص سے شریعت کے احکام معلوم کریں کہ جس میں یہ تمام صلاحیتیں ہوں اور وہ قرآن و حدیث سے مسائل نکال سکتا ہو اور یہی تقلید ہے۔ جن سے ہم اپنے شرعی مسائل کا حل معلوم کرتے ہیں وہ چار مشہور آئمہ مجتہدین (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہم) ہیں اور ہم ان (میں سے کسی ایک) کے مقلد ہیں۔ نیز ہمارے لیے آئمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کی پیروی کرنا ہی ضروری ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو ہر شخص اپنے نفس کی پیروی کرتا پھرے گا، جب دل چاہے گا اور جس امام کا مسئلہ آسان اور نفس کی خواہش کے مطابق محسوس ہوگا اس پر عمل کر لے گا حالانکہ یہ شریعتِ مطہرہ کا مذاق اڑانا ہے کیونکہ بہت سے مسائل ایسے ہیں کہ بعض ائمہ کے نزدیک حلال ہیں اور وہی مسائل بعض ائمہ کے نزدیک حرام ہیں اور یہ نفس کا پیرو کار صبح ایک امام کی پیروی کرتے ہوئے ایک مسئلےکو حرام سمجھ کر اس لئے عمل نہ کرے گا کہ اس میں اس کے نفس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور جب شام کو بلکہ اسی لمحے اس میں اپنا فائدہ نظر آئے گا تو دوسرے امام کا مذہب اختیار کرتے ہوئے اسی  مسئلےکو اپنے لئے حلال کر لے گا اور اس طرح احکامِ شرعیہ کو کھیل بنا کر پامال کرتا پھرے گا، اور شریعت کے معاملے میں اس طرح اپنے نفس کی خواہش کی پیروی کرنا  کہ جو حکم نفس کو اچھا لگے وہ لے لینا دوسرے کو چھوڑ دینا، حرام ہے۔ لہذا  انسان کو خواہشِ نفس پر عمل کرنے کے بجائے دین و شریعت پر عمل کرنے کیلئے کسی ایک امام ِمجتہد کا مُقلِّد ہونا ضروری ہے ورنہ وہ فلاح و ہدایت ہرگز نہ پاسکے گا۔

مثال: اس کو ایک دُنیاوی مثال سے یوں سمجھیں کہ اگر کسی منزل پر پہنچنے کے مختلف راستے ہوں تو منزل پر وہی شخص پہنچے گا جو ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرے اور جو کبھی ایک راستہ پر چلے، کبھی دوسرے راستہ پر، پھر تیسرے پر پھر چوتھے پر تو ایسا شخص راستہ ہی بدلتا رہ جائے گا کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکے گا یہی حال اس شخص کا ہوگا جو کسی ایک امام کی تقلید کا دامن نہ تھامے بلکہ کسی مسئلے میں کبھی کسی امام کی پیروی کرے اور کبھی دوسرے کی، پھر تیسرے کی پھر چوتھے کی تو وہ منزلِ آخرت جو کہ جنّت ہے اس تک نہیں پہنچ سکے گا بلکہ خواہشِ نفس کی خاطر راستہ ہی بدلتا رہ جائے گا اور جنت کی راہ سے گم ہو کر گمراہی و اندھیرے میں جا گرےگا۔              

جزئیات درج ذیل ہیں:

قرآن پاک میں ہے: ﴿فَسْــٴَـلُـوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۙ           ﴾  ترجمہ کنز العرفان: اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔ (القرآن، سورة النحل، پارہ 14، آیت: 43)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں ہے: ”و استدل بھا ایضاً علی وجوب المراجعۃ للعلماء فیما لا یعلم‘‘ ترجمہ: اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ جس چیز کا علم نہ ہو، اس میں علماء سے رجوع کرنا واجب ہے۔ (تفسیر روح المعانی، سورۃ النحل، تحت الآیۃ: 43، ج 7، ص 387، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

سنن ابی داؤد میں ہے: "قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: من أفتي بغير علم كان إثمه على من أفتاه" ترجمہ: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے بِغیر علم کے فتویٰ دیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے۔ (سنن ابی داؤد، جلد 03، صفحہ 321، حدیث: 3657، المكتبة العصرية، بيروت)

حکیمُ الامت حضرتِ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: "اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ جو شخص علماء کو چھوڑ کر جاہلوں سے مسئلہ پوچھے اور وہ غلط مسئلہ بتائیں تو پوچھنے والا بھی گنہگار ہوگا کہ یہ عالم کو چھوڑ کر اس کے پاس کیوں گیا نہ یہ پوچھتا نہ وہ غلط بتاتا اس صورت میں اَفتٰی بمعنی اِستَفتٰی ہے۔ دوسرے یہ کہ جس شخص کو غلط فتویٰ دیا گیا تو اس کا گناہ فتوےٰ دینے والے پر ہے اس صورت میں پہلا افتِی مجہول ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ بے علم کو مسئلہ شرعی بیان کرنا سخت جرم ہے۔" (مرآۃ المناجیح، جلد 01، صفحہ 212، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: ’’اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اُسے اللہ و رسول کے حضور رجوع کرو ۔‘‘ (پارہ 5، سورۃ النساء: آیت 59)

امام ابوبکر احمد بن علی رازی المعروف بہ امام جصاص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ "احکام القرآن" میں "اُولِی الْاَمْرِ" کی تفسیر میں حضرت جابر بن عبد اللہ اور ابن عباس اور امام حسن بصری وغیرہم کا قول نقل کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: "أنھم أولوا الفقہ والعلم" یعنی اس سے مراد فقہ اور علم والے ہیں۔ (احکام القرآن، ج 2، ص 210، سہیل اکیڈمی لاہور)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں ہے: "واستدل بھا أیضاً علی وجوب المراجعۃ للعلماء فیما لا یعلم وفی الإکلیل للجلال السیوطی أنہ استدل بہا علی جواز تقلید العامی فی الفروع‘‘ وفی الإکلیل للجلال السیوطی أنہ استدل بہا علی جواز تقلید العامی فی الفروع" ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ جس چیز کا علم خود نہ ہو اس میں علماء سے رجوع کرنا واجب ہے اور علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اکلیل میں لکھتے ہیں کہ اس آیت سے عام آدمیوں کے لئے فروعی مسائل میں جواز تقلید پر استدلال کیا گیا ہے۔ (تفسیر روح المعانی، جلد 7، صفحہ 387، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَسْئَلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ ترجمہ: ’’اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو۔‘‘ (پارہ 17، سورۃ الانبیاء، آیت 7)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: "اس آیت سے تقلید کا وجوب ثابت ہوتا ہے ۔" (پارہ 17، سورۃ الانبیاء، تحت آیت 7)

اس آیت مبارکہ کے بارے میں مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: "اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص جس مسئلہ کو نہ جانتا ہو، وہ اہل علم سے دریافت کرے، وہ اجتہادی مسائل جن کے نکالنے کی ہم میں طاقت نہ ہو مجتہدین سے دریافت کیے جائیں۔" (جاء الحق، جلد 1، صفحہ 26، حسن پبلشرز، لاہور)

سنن ابی داؤد کی حدیث پاک ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ألا سألوا إذ لم يعلموا فإنما شفاء ‌العي ‌السؤال" ترجمہ: کیوں نہ پوچھا جب معلوم نہ تھا کہ مرض جہل (لا علمی) کی شفا سوال ہی ہے۔ (سنن ابی داؤد، جلد 1، صفحہ 93، حدیث 336، مکتبہ عصریہ، بیروت)

صحیح مسلم میں عظیم و مشہور تابعی امام محمد ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے: "ان ھذا العلم دین، فانظروا عمن تاخذون دینکم" ترجمہ: بے شک یہ علم تمہارا دین ہے، تو غور سے دیکھو تم کس سے اپنا دین حاصل کررہے ہو۔ (صحیح مسلم، جلد 01، صفحہ 14، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

حکیم الامت حضرتِ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "علم شریعت علم دین جب بنے گا جب سکھانے والا استاد عالم دین ہوگا، بے دین عالم سے حاصل کیا ہوا علم بے دینی ہی دے گا، آج لوگ بے دینوں سے تفسیر و حدیث پڑھ کربے دین ہو رہے ہیں، فرمان کے ساتھ فیضان ضروری ہے۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 01، صفحہ 228، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

علامہ نابلسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ”حدیقہ ندیہ“ میں فرماتے ہیں: ”فعلى كل مسلم من أهل السنة أن يقلد إحدى المذاهب الأربعة المعروفة ۔۔۔ ولن يكون من أهل السنة من لم يقلد إحدى المذاهب الأربعة و يقال له: لا مذهبي“ ترجمہ: تمام مسلمانانِ اہل سنت پر لازم ہے کہ مذاہب اربعہ معروفہ میں سے کسی ایک مذہب کی اتباع کرے۔ ۔۔ جو شخص ان چاروں مذہبوں میں سے کسی ایک مذہب کی اتباع نہ کرے وہ ہرگز اہل سنت سے نہیں وہ لامذہب کہلائے گا۔ (الحدیقۃ الندیۃ، جلد 1، صفحہ 13، مطبوعہ کوئٹہ)

سیدی اعلی ٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ احمد رضا خان ارشاد فرماتے ہیں: "تقلید فرض قطعی ہے قال اللہ تعالی: ”فَسْــٴـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔" (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 392، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ مزید ارشاد فرماتے ہیں: "بلا شبہہ غیر بالغ منصب اجتہاد پر تقلید آئمہ بنص قرآن عظیم و احادیث و اجماع فرض متحتم ہے اور اس سے عدول شریعت مطہرہ کے دائرہ سے خروج اور ورطہ تیرہ ضلال و نکال میں ولوج ہے اس قدر پر اجماع قطعی موجود بلکہ بتصریح علمائے کرام یہ ضروریات دین میں معدود، رہی تعیین متبوع جسے تقلید شخصی کہیے حق یہ ہے کہ ان ازمنہ میں اس سے اصلا مفر نہیں تحیر مفقود  اور تخییر حسب تصریح آئمہ دین مثل امام اجل عبداللہ بن مبارک وغیرہ اکابر صراحۃ فتح باب فسق و تباب ہے، سد فتنہ اہم واجبات سے ہے تو تقلید شخصی کے وجوب میں اصلاً محل کلام نہیں اور نفی نظر بنفس ذات منافی ثبوت بوجوہ خارجہ نہیں۔‘‘ (الحبل القوی لھدایۃ الغوی، صفحہ 15، انجمن فیضان سرکار، انڈیا)

علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ ”شرح عقود رسم المفتی“ میں علامہ قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں: ”اتباع الھوی حرام“ ترجمہ: (شریعت کے احکام کے معاملے میں) خواہش نفس کی اتباع حرام ہے۔ (شرح عقود رسم المفتی، صفحہ 58، دار النور ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: LAR-13876
تاریخ اجراء: 23 شوال المکرم 1447ھ/13 اپریل 2026ء