logo logo
AI Search

گدھی کے دودھ والی دوا یا کریم کا شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

گدھی کے دودھ والی میڈیسن یا کریم استعمال کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کےبارےمیں کہ گدھی کے دودھ (Donkey milk) سے مختلف کھائے جانے والی ادویات (medicine جیسےمعدے اور آنتوں کی اصلاح کے کیپسول،وٹامن سی کے سپلیمنٹس اور قوتِ مدافعت بڑھانے اورکمزوری دور کرنے کے لئے ٹونکس (health tonics) اور گولیوں (health tablets) میں شامل کیا جاتا ہے، یونہی گائے کے دودھ سے الرجی کے شکار بچوں کے لئے یہ میڈیکل فوڈ کے ڈبوں میں دستیاب ہوتا ہے، جیساکہ یورپ میں عام ہے، کیونکہ اس کی پروٹین ساخت ماں کے دودھ سے نوے فیصدمماثلت رکھتی ہے، ان کے علاوہ اور بھی کھائے جانے والی ادویات (medicine) یا صحت مند خوراک (health food) میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یونہی (Donkey milk) سے کاسمیٹک مصنوعات (cosmetic products) بنائی جاتی ہیں، جنہیں ظاہرِ بدن پر استعمال کیا جاتا ہے، جیسےفیس ماسک، نائٹ کریم، چہرے سے کیل مہاسے، جھریاں، داغ دھبے مٹانے، نیز بعض جلدی امراض (skin diseases) کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ گدھی کے دودھ سے بنی، کھائے جانے والی ادویات یا ظاہرِ بدن پر لگائے جانے والی کاسمیٹک مصنوعات کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟

جواب

گدھی کادودھ (Donkey milk) جن مصنوعات(products)  میں شامل ہو، ان کا کھانا،ناجائز،حرام وگناہ ہے، خواہ وہ ادویات (medicine) ، غذائی اجزاء (Supplements)  یا صحت مند خوراک (Health food) کی شکل میں ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھے کو حرام قرار دے دیا تھااور شریعت کا اصول ہے کہ جس جانور کا گوشت کھانا حرام ہے، اس کا دودھ پینا بھی حرام ہے، کیونکہ دودھ گوشت سے پیدا ہوتا ہے، لہذا یہ دودھ جن کھائے جانے والی مصنوعات میں شامل ہوگا، تو ان کا کھانا، ناجائز وگناہ ہوگا، اگرچہ بغرضِ علاج بطورِ دوا ہی کھانا پینا کیوں نہ ہو، اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حرام دواؤں کے ذریعہ علاج کرنے سے منع فرمایا ہے،بلکہ یہاں تک فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہارے لئے حرام چیزوں میں شفا نہیں رکھی۔

سوال:

جن چھوٹے نابالغ بچوں کو ماں یا گائے کے دودھ سے الرجی ہوتی ہےیا کسی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں، تو کیانابالغ بچوں کو بھی بغرضِ علاج ایسے دودھ کے اجزاء پر مشتمل فوڈ نہیں کھلایا یا پلایا جا سکتا؟ حالانکہ نابالغ بچے احکامِ شرعیہ کے مکلف نہیں ہوتے۔

جواب:

اس مسئلے کے دیگر حلال و جائز علاج موجود ہیں، لہٰذا وہی استعمال کریں۔ مذکورہ طریقہ اس صورت میں ناجائز ہی رہے گا اور یہ گناہ کھلانے اور پلانے والے پر ہو گا، کیونکہ شریعت نے ہمیں بچوں کو حرام سے بچانے کا حکم دیا ہے، تو جب حرام سے بچانے کے بجائے خود حرام کھلائیں پلائیں گے، تو یہ گناہ کھلانے پلانے والے پر ہو گا، جس کی نظیر فقہائے کرام کا یہ بیان کردہ مسئلہ ہے کہ نابالغ بچے کو سونے کی انگوٹھی یاخالص ریشم کے کپڑے پہنانا گناہ ہے اور یہ گناہ پہنانے والے پر ہوگا۔

گدھی کے دودھ (Donkey milk) سے بنی وہ مصنوعات (products) جن کا استعمال کھانے پینے کے لئے نہیں،بلکہ ظاہرِ بدن پر لگانے کے لئے ہے، جیسےفیس ماسک، نائٹ کریم، چہرے سے کیل مہاسے، جھریاں، داغ دھبے مٹانےاوربعض جلدی امراض (skin diseases) کے لئےبنائی گئیں ہیں، ان کا ظاہرِ بدن پر استعمال کرنا بالکل جائز ہے، جس میں شرعا کوئی قباحت نہیں۔

سوال:

گدھی کا دودھ حرام ہے، تو اس کابدن پر لگانا، جائز کیوں ہے؟

جواب:

حرمت اور نجاست دو جدا چیزیں ہیں،ایک دوسرے کو مستلزم نہیں،یعنی ایساضروری نہیں ہے کہ جو چیز کھاناحرام ہو،وہ ناپاک بھی ہو، جیساکہ کتبِ فقہ میں اس کی بہت سی نظائز موجود ہیں، مثلا: افیون وچرس بقدرِنشہ، زہرقاتل، حرام جانور کا ذبح شرعی کے بعد گوشت و دیگر اعضاء، مردہ جانور کے بال اورخشک ہڈیاں، حلال اونچے اڑنے والے پرندوں کی بیٹ اور زندہ جانور سے الگ کیا ہوا ایسا عضو کہ جس میں خون نہ ہو جیسے بال، ناخن وغیرہ ان سب کا کھانا حرام ہے، لیکن یہ نجس (ناپاک) نہیں ہیں،بلکہ پاک ہیں،یونہی گدھی کا دودھ پینا حرام ہے، لیکن یہ دودھ ناپاک نہیں،بلکہ پاک ہے، لہذا یہ دودھ جن پاک اشیاء میں شامل کیا جائے گا،وہ اشیاء بھی پاک ہی رہیں گی اور پاک چیز کا ظاہرِ بدن پر استعمال کرنا، جائز ہے۔

جزئیات بالترتیب درج ذیل ہیں:

گدھے کے حرام ہونے کے متعلق صحیح البخاری میں ہے: عن جابر بن عبد اللہ قال: نهى النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم يوم خيبر عن لحوم الحمر“ ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے جنگِ خیبر کے موقع پر گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ (صحیح البخاری، ج 7، ص 95، مطبوعہ دار طوق النجاة، بیروت)

جانور کے دودھ کا حکم اس کے گوشت والا حکم ہونے کے متعلق درر الحكام شرح غرر الاحكام میں ہے: (لحم الأتان ولبنها) وهي أنثى الحمار الأهلي واللبن متولد من اللحم فصار مثله“ ترجمہ: پالتو گدھی کا گوشت اور اس کا دودھ دونوں کھاناپینا،ناجائز ہیں اور اتان سے مراد پالتو گدھے کی مؤنث ہے، اور دودھ چونکہ گوشت سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے وہ بھی گوشت کے حکم میں ہے۔ (دُررالحکام شرح غرر الحکام، جلد 1، صفحہ 310، مطبوعہ دار إحياء الكتب العربية(

تبیین الحقائق میں ہے:(كره لبن الأتان) لان اللبن متولد من اللحم فصار مثله“ترجمہ: گدھی کا دودھ مکروہ تحریمی ہے، کیونکہ دودھ گوشت سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے وہ بھی گوشت کے حکم میں ہے۔ (تبیین الحقائق، ج6، ص 10،مطبوعہ دار الكتاب الاسلامي)

مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے: (و لا يحل شرب لبن الأتان) بالفتح هي أنثى الحمر الأهلية لكون اللبن متولدا من لحم فيأخذ حكمه“ ترجمہ: گدھی کا دودھ پینا جائز نہیں اور أتان سے مراد پالتو گدھے کی مؤنث ہے، اور دودھ چونکہ گوشت سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے وہ بھی گوشت کے حکم میں ہے۔ (مجمع الانھر، ج 2، ص 526، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

فتاوٰی عالمگیری میں ہے: اما الحمار الاهلي فلحمه حرام و كذلك لبنه و شحمه“ یعنی پالتو گدھے کا گوشت حرام ہے، اسی طرح گدھی کا دودھ اور چربی بھی حرام ہے۔ (الفتاوٰی الھندیۃ، ج 05، ص 290، مطبوعہ کوئٹہ)

حرام اشیاء کو بطورِ دوا کھانے کے ناجائز ہونے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: إن اللہ أنزل الداء و الدواء و جعل لکل داء دواء فتداووا و لا تداووا بحرام‘‘ ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا دونوں کو نازل کیا ہے اور ہر بیماری کے لئے دوا رکھی ہے، لہٰذا ان دواؤں سے علاج کرو، لیکن حرام چیزوں سے بچو۔ (سنن ابو داؤد، کتاب الطب، باب فی الادویۃ المکروہۃ، ج 02، ص 174، مطبوعہ لاہور)

معجم کبیر، صحيح ابنِ حبان، مستدرکِ حاکم، سننِ کبریٰ اور دیگر کتبِ احادیث میں ہے، و اللفظ للاوّل: حضرت امِّ سلمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہو گئی، تو میں اس کے لیے ایک کوزے میں نبیذ بنا رہی تھی، تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ تشریف لے آئے اس حال میں کہ نبیذ ابھی اُبل رہی تھی، تو فرمایا: یہ کیا ہے، میں نے عرض کی کہ میری بیٹی بیمار ہوگئی ہے میں اس کے لیے نبیذ اُبال رہی ہوں، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: إن اللہ لم یجعل شفاء کم فیما حرم علیکم‘‘ ترجمہ: بے شک اللہ پا ک نے تمہارے لیے ان چیزوں میں شفانہیں رکھی جن کو تم پر حرام فرمایا ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، مسند النساء، حسان بن المخارق عن ام سلمہ، 23، ص 326، مطبوعہ القاھرہ)

محیط برہانی، بحرالرائق، تبیین الحقائق، فتاوی خانیہ، ہندیہ اوردرمختاروغیرھا کتب اسفارمیں ہے: و اللفظ لدر المختار لا یجوز التداوی بالمحرم فی ظاھرالمذھب‘‘ ترجمہ: حرام چیزکے ساتھ علاج حرام ہے۔ (در مختارمع رد المحتار، کتاب النکاح، باب الرضاع، ج 04، ص 390، مطبوعہ کوئٹہ)

گدھی کا دودھ بطورِ دوا پینے کے ناجائز ہونے کے بارے میں محیط برہانی میں ہے: لبن الأتان حرام، والاستشفاء بالحرام حرام“ ترجمہ: گدھی کا دودھ پینا حرام ہے اور حرام سے شفاء حاصل کرنا بھی حرام ہے۔ (محیط برہانی، ج 5، ص 373، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے: تکرہ البان الاتان للمریض و غیرہ و کذلک لحومھا و کذلک التداوی بکل حرام“ ترجمہ: مریض کے لیے گدھی کا دودھ اور گوشت دونوں مکروہ تحریمی ہیں یونہی حرام کو بطور دوا استعمال کرنا حرام ہے۔ (الفتاوٰی الھندیۃ، ج 05، ص 355، مطبوعہ کوئٹہ)

مفتی اعظم ہند، مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1402ھ / 1981ء) لکھتے ہیں: مادہ خر (گدھی) کا دودھ جائز نہیں، حرام میں شفاء نہیں۔ (فتاوی مصطفویہ، ج 5، ص 348، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی، ھند)

نابالغ بچوں کو حرام پلانے کے ناجائزوگناہ ہونے کے بارے میں الدرالمنتقی میں ہے: و کرہ الباس الصبی ذھباأوحریرافان ماحرم لبسہ و شربہ حرم الباسہ و اشرابہ‘‘ ترجمہ: اور بچے کو سونا یا ریشم پہنانا مکروہ ہے، کیونکہ جس چیز کا پہننا اور پینا حرام ہے، اس کو پہنانا اور پلانا بھی حرام ہے۔ (الدر المنتقی، کتاب الکراھیۃ، ج 04، ص 198، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

گناہ پلانے والے پر ہونے کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے: و ما یکرہ للرجال لبسہ یکرہ للغلمان و الصبیان لان النص حرم الذھب و الحریرعلی ذکورأمتہ بلاقیدالبلوغ و الحریۃ و الاثم علی من ألبسھم لأناأمرنابحفظھم‘‘ ترجمہ: اور جس کا پہننا مردوں کے لئے مکروہ ہے اس کا پہننابچوں کے لئے بھی مکروہ ہے کیونکہ حدیث نے سونے اورریشم کواس امت کے مردوں پربالغ اور آزاد کی قیدکے بغیرحرام کردیا ہے، اور گناہ اس شخص پرہے جس نے نابالغ بچوں کو پہنایا، کیونکہ ہمیں ان کی حفاظت کاحکم دیا گیا ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع، ج 05، ص 331، مطبوعہ کوئٹہ)

گدھی کا دودھ حرام ہونے کے باوجود پاک ہونے کے متعلق منحۃ السلوک میں ہے: أما لبن الحمار: فقد نص أنه طاهر و في شرح الجامع الصغير لفخر الاسلام: أن لبن الأتان طاهر و لا يؤكل“ ترجمہ: بہرحال گدھی کا دودھ، تو اس کے متعلق صراحت ہے کہ یہ پاک ہے اور امام فخر الاسلام کی شرح جامع صغیر میں ہے کہ گدھی کا دودھ پاک تو ہے، لیکن کھانا پینا جائز نہیں۔ (منحۃ السلوک، جلد 1، صفحہ 51، مطبوعہ قطر)

فتاوی عالمگیری میں ہے: الصحیح ان لبن الاتان طاھر کذا فی التبیین و ھکذا فی منیۃ المصلی و ھو الاصح کذا فی الھدایۃ و لا یؤکل، کذا فی النھایۃ و الخلاصۃ“ ترجمہ: صحیح قول کے مطابق گدھی کا دودھ پاک ہے، ایساہی تبیین میں ہے اور اسی طرح منیۃ المصلی میں ہے کہ یہی زیادہ صحیح قول ہے، اسی طرح ہدایہ میں ہے ،البتہ اس کو کھانا پینا جائز نہیں،ایسا ہی نہایہ وخلاصہ میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 01، ص 46، مطبوعہ دار الفکر، بیروت(

افیون، چرس بقدِنشہ اور مہلک زہر کے حرام ہونے کے باوجود پاک ہونے کے متعلق رد المحتار میں ہے: أما الجامدات فلا يحرم منها الا الكثير المسكر، و لا يلزم من حرمته نجاسته  كالسم  القاتل فإنه حرام مع أنه طاهر۔ ترجمہ: جامِد نشہ(افیون، چرس وغیرہ) آور چیزوں کی کثیر مقدار ہی حرام ہوتی ہے۔ اوراِس کے حرام ہونے سے اِس کا نجس ہونا لازم نہیں آتا، جیسے مہلک زہر کہ وہ حرام ہونے کے باوجود پاک ہے۔ (رد المحتار، ج 10، کتاب الاشربۃ، ص 44، مطبوعہ کوئٹہ)

خنزیر کے علاوہ دیگرحرام جانوروں کے اعضاء ذبح شرعی کے بعدپاک ہونے کے متعلق اختیارلتعلیل المختار میں ہے: إذا ذبح ما لا يؤكل لحمه طهر جلده و لحمه إلا الخنزير و الآدمي فإن الذكاة لا تعمل فيهما، لأن الذكاة تزيل الرطوبات و تخرج الدماء السائلة، و هي  المنجسة لا ذات اللحم و الجلد فيطهر كما في الدباغ۔ ترجمہ: جب غیر ماکول اللحم کو ذبح کیا جائے تو اُس کی جلد اور گوشت دونوں پاک ہو جاتے ہیں، سوائے خنزیر اور آدمی کے، کہ اِن میں ذبح کرنا بصورتِ طہارت مؤثر نہیں۔ (غیر ماکول اللحم) کے پاک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ذبح شرعی رطوبتوں کو زائل کر دیتا اور بہنے والے خون کو خارج کر دیتا ہے اور یہی نجس ہوتا ہے، گوشت اور جلد نجس نہیں ہوتی، لہذا وہ پاک ہو جاتی ہے، جیسا کہ دباغت کا مسئلہ ہے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، ج5، ص15، مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت)

مردار کے بال اور خشک ہڈیوں کے حرام ہونے کے باوجود پاک ہونے کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے: أما عظم  الميتة و عصبها ۔ ۔ ۔ فيجوز بيعها، والانتفاع بها۔ ۔ ۔ بناء على أن هذه الأشياء طاهرة عندنا۔ ترجمہ: مردار کی (خشک) ہڈی، پٹھے وغیرہا کی خرید و فروخت جائز ہے اور اُن سے نفع اٹھانا بھی جائز ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں ہم احناف کے نزدیک پاک ہیں۔ (بدا ئع الصنائع، ج 6، کتاب البيوع، ص 557، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

حلال پرندوں کی بیٹ کھانے کے حرام ہونے کے باوجود پاک ہونے کے متعلق اسی میں ہے: ما يؤكل لحمه،  كالحمام، و العصفور، و العقعق، و نحوها، و خرؤها طاهر، عندنا۔ ترجمہ:وہ پرندے کہ جن کا گوشت کھایا جاتا ہے، جیسا کہ کبوتر، چڑیا، عَقعق (کوے کی ایک خاص قسم) یا اِن کے علاوہ دیگر حلال پرندے، اُن کی بیٹ ہمارے نزدیک پاک ہے۔ (بدا ئع الصنائع، ج 1، ص 366، مطبوعہ کوئٹہ)

زندہ جانور سے الگ کیا ہوا ایسا عضو کہ جس میں خون نہ ہو جیسے بال، ناخن وغیرہ ان کے کھانے کے حرام ہونے کے باوجود پاک ہونے کے متعلق بحر الرائق میں ہے: إن كان المبان جزءا فيه دم كاليد والأذن والأنف ونحوها، فهو نجس بالإجماع، وإن  لم  يكن  فيه  دم كالشعر و الصوف و الظفر، فهو طاهر عندنا۔ ترجمہ:زندہ سے جدا کردہ جز میں اگر خون ہو، مثلاً ہاتھ، کان، ناک وغیرہا تو وہ جدا کردہ عضو بالاجماع نجس ہے اور اگر اُس میں خون نہ ہو، مثلاً بال، اون اور ناخن تو وہ ہمارے نزدیک پاک ہے۔ (بحر الرائق، ج 1، ص 113، مطبوعہ دار الکتاب السلامی)

حرام، لیکن پاک چیزکے ظاہرِ بدن پر استعمال کرنے کے حکم کے بارے میں امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں: ’’شراب حرام بھی ہے اور نجس بھی، اس کا خارج بدن پربھی لگانا، جائزنہیں، اور افیون حرام ہے نجس نہیں، خارج بدن پراس کا استعمال جائز ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 198، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمدقاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10039
تاریخ اجراء: 02 محرم الحرام 1447ھ / 18 اپریل 2026ء