logo logo
AI Search

گالی کا جواب گالی سے دینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

گالی کے جواب میں گالی دینے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

کسی مسلمان کو گالی دینا اور اس کی تذلیل و تحقیر کرنا ناجائز و گناہ ہے۔ اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو وہ گناہگار ہونے کے ساتھ ساتھ حق العبد میں بھی گرفتار ہوگا اور جب تک جس مسلمان کو گالی دی یا جس کی تذلیل کی، اس سے معافی نہ مانگ لے اس وقت تک اس کا یہ گناہ معاف نہیں ہوگا۔ رہا یہ ہے کہ گالی دینے والے کو بدلے میں گالی دی جاسکتی ہے؟ تو اس حوالے سے تفصیل کچھ یوں ہےکہ گالی کے الفاظ مختلف طرح کے ہوتے ہیں، بعض گالیاں انتہائی فحش ہوتی ہیں، جبکہ بعض فحش تو نہیں ہوتیں لیکن اس میں سامنے والے کو برابھلا کہنا پایا جاتا ہے، جیسے خبیث وغیرہ کے الفاظ۔ تو جو گالیاں فحش ہوتی ہیں ان کا جس طرح ابتداءً دینا ناجائز و گناہ ہوتا ہے اسی طرح اس کا جواب فحش گالی سے دینا بھی ناجائز و گناہ ہے۔

جبکہ جو گالیاں فحش نہ ہوں اور اس میں صرف برا بھلا کہنا پایا جائے تویہ بھی ابتداء کسی مسلمان کو دیناناجائز و گناہ ہے کہ اس میں مسلمان کو ایذا اور تکلیف پہنچانے کا پہلو موجود ہے جو کہ ناجائز ہے، ایسی صورت میں اگر سامنے والا شخص خود کو کہے گئے الفاظ کے مطابق، بدلے میں اسے بھی ایسی بات کے ذریعے برا بھلا کہتا ہے جو کہ فی الواقع جھوٹ نہیں، تو اس قدر کی رخصت موجود ہےاور حدیث پاک کے مطابق دونوں طرف سے کہے گئے الفا ظ کا وبال ابتدا کرنے والے پر ہوگا۔ ہاں اگر جواب دینے والا شخص زیادتی سے کام لیتا ہے تو اس زائد کا وبال اس کے سر ہوگا۔ تاہم افضل بہر حال یہی ہے کہ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیا جائے بلکہ بدلے میں صبر اور معاف کرنے سے کام لیا جائے، کیونکہ عام طور پر غصے کی حالت میں برابری قائم رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے اور خواہی نا خواہی زیادتی ہو ہی جاتی ہے، لہذا عافیت اسی میں ہے کہ جواب نہ دیا جائے کہ شرعا یہی عمل پسندید ہ ہے۔

گالی دینے کے متعلق، صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے: أن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: سباب المسلم فسوق“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نےارشاد فرمایا: مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے۔ (صحيح البخاري، کتاب الایمان، ج 1، ص 19، رقم الحديث: 48،دار طوق النجاۃ)

فتاوٰی رضویہ میں ہے: کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادینا حرام ہے اور گالی دینا سخت حرام ہے اور بعض گالیاں تو کسی وقت حلال نہیں ہوسکتیں اور ان کا دینے والا سخت فاسق اور سلطنت اسلامیہ میں اسی (80) کوڑوں کا مستحق ہو تا ہے، ان سے ہلکی گالی بھی بلاوجہ شرعی حرام ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 6، ص 538، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

حق العبد جب تک بندہ معاف نہ کرے معاف نہیں ہوتا۔ فتاوی رضویہ میں ہے: اور حقوق العباد میں بھی ملک دیان عزجلالہ نے اپنے دار العدل کا یہی ضابطہ رکھا ہے کہ جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے، معاف نہ ہوگا۔ (فتاوی رضویہ ملتقطا، ج 24، ص 459، 460، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

(فحش) گالی کے بدلے (فحش) گالی دینا جائز نہیں۔ اس کے متعلق کلام کرتے ہوئے امام غزالی لکھتے ہیں: اعلم أن كل ظلم صدر من شخص فلا يجوز مقابلته بمثله فلا تجوز مقابلة الغيبة بالغيبة و لا السب بالسب و كذلك سائر المعاصي و إنما القصاص و الغرامة على قدر ما ورد الشرع به و قد فصلناه في الفقه“جو ظلم کسی شخص سے صادر ہو تو اس کا بدلہ بھی اسی ظلم سے دینا جائز نہیں، لہذا غیبت کا بدلہ غیبت سے اور (فحش) گالی کا بدلہ (فحش) گالی سے دینا جائز نہیں، یونہی تمام گناہوں کا معاملہ ہے۔ قصاص او ر تاوان کا حکم صرف شریعت کے بیان کردہ جگہوں پر ہوتا ہے اور وہ مقامات ہم فقہ میں بیان کرچکے ہیں۔

نیز جوابا کتنے الفاظ کہنے کی اجازت ہے؟ اس کے متعلق بھی فرماتے ہیں: و قال قوم تجوز المقابلة بما لا كذب فيه وإنما نهى رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم عن مقابلة التعيير بمثله نهي تنزيه والأفضل تركه و لكنه لا يعصى به ۔ولما كان الغضب يهيج ويؤثر في كل إنسان وجب على السلطان أن لا يعاقب أحدا في حال غضبه لأنه ربما يتعدى الواجب“ ایک قوم کا موقف یہ ہے کہ ایسی بات سے جواب دے سکتے ہیں جس میں جھوٹ نہ ہو۔ باقی سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے جو عار دلانےکے بدلے میں عار دلانے سے منع فرمایا، اس میں ممانعت کراہت تنزیہی کے درجے کی ہے، کہ افضل جواب نہ دینا ہے تاہم پھر بھی جواب دینے سے گناہ نہیں ہوگا۔ البتہ چونکہ ہر انسان میں غصہ اثر انداز ہوتا ہے اس لئے قادر شخص پر لازم ہے کہ وہ کسی سے غصے کی حالت میں بدلہ نہ لے کیونکہ اس صورت میں رخصت کی مقدار سے تجاوز کرجائے گا۔ (احیاء علوم الدین، ج 03، ص 179 - 180، دار المعرفة، بيروت)

مذکورہ جزئیہ میں اگرچہ سب کا لفظ موجود ہے، جس کا معنی برا بھلا کہنا بھی ہوتا ہے، تاہم درج ذیل جزئیات کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں اس سے مراد فحش گالی دینا ہے، کیونکہ برا بھلا کہنےکے جواب میں برا بھلا کہنے کی تو رخصت موجود ہے۔

حدیث پاک آپس میں گالی دینے والےدو آدمی جو کچھ کہیں، تو اس کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہے جب تک کہ مظلوم حد سے نہ بڑھے کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرأۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: خيال رہے کہ گالی کے بدلےمیں گالی نہ دینا چاہیے کہ گالی فحش ہے جس سے زبان اپنی ہی خراب ہوتی ہے۔ سبّ کے معنی ہیں برا کہنا، نہ کہ گالی دینا، گالی دینے والے سے بدلہ اور طرح لو، اُسے گالی نہ دو، اگر کتا کاٹ لے تو تم اسے کاٹو مت، لہذا حدیث واضح ہے اس میں گالیاں بکنے کی اجازت نہ دی گئی۔ (مرأۃ المناجیح،ج 6، ص 449، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

ایک دوسری حدیث کے تحت لکھتے ہیں: اگر سَبٌّ سے مراد فحش گالی ہے تب تو حدیث بالکل ظاہر ہے کہ مسلمان فحش گو نہیں ہوتا اور اگر برا کہنا مراد ہے تو اگرچہ بعض وقت کسی کو برا کہناجائز تو ہوتا ہے مگر اس سے بچنا بہتر۔ (مرأۃ المناجیح، ج 03، ص 109، نعیمی کتب خانہ گجرات)

جوابا برا بھلا کہنے کی اجازت کے متعلق بريقہ محمودیہ میں ہے: فإن من اعتدى على أحد فإنما يعتدي عليه بمثل اعتدائه لا غير لأن جزاء سيئة سيئة مثلها لا يخفى أن ظاهره جواز المقابلة ما لم يتجاوز وعن فتح القدير الأولى للإنسان فيما إذا قيل له ما يوجب التعزير أن لا يجيبه قالوا لو قال له يا خبيث الأحسن أن يكف عنه نعم ثم قال أيضا لو أجاب فقال له لا بل أنت لا بأس و أيضا في المنح إن قال لغيره يا خبيث فجازاه بمثله جاز لأنه انتصار بعد الظلم و ذلك مأذون فيه و العفو أفضل۔ و إن كانت الكلمة موجبة للحد لا ينبغي أن يجيبه بمثلها تحرزا عن إيجاب الحد على نفسه“ جو کسی شخص پر زیادتی کرےتو وہ اس کے مطابق جواب دے سکتا ہے، اس سے زائد نہیں، کیونکہ برائی کا بدلہ اسی کے مطابق برائی سے دیا جاسکتا ہے۔ اور یہ مخفی نہیں کہ اس کا ظاہر یہ ہے کہ جواب دینے والے کی طرف سے برا بھلا کہنے کا جواب دینا جائز ہے جبکہ جواب دینے والی کی طرف سے زیادتی نہ ہو۔فتح القدیر میں ہے بہتر یہ ہے کہ قابل تعزیر جرائم کے بدلے یہ شخص خود جواب نہ دے۔ فقہاء فرماتے ہیں اگر کسی نے اسے خبیث کہا تو بہتر جواب نہ دینا ہے، تاہم ابن ہمام نے بھی فرمایا کہ اگر پھر بھی یہ جواب دیتےہوئے کہہ دیتا ہے کہ میں نہیں تم ہوگے تو اس میں گناہ نہیں۔ منح میں بھی فرمایا: اگر کسی نے دوسرے کو خبیث کہہ کر مخاطب کیا اور اس نے بھی اسے جوابا خبیث کہہ دیا تو یہ جائز ہے، کیونکہ ظلم کا جواب ہے اور اس کی اجازت ہے، تاہم افضل معاف کرنا ہے۔ اور اگر وہ کلمہ ایسا ہو جس سے حد لازم ہوتی ہو تو اپنے اوپر حد کو واجب کرنے سے بچنے کے لیے اسی طرح کے الفاظ سے جواب نہ دینا مناسب ہے۔ (ملقتطا از بریقہ محمودیہ، ج 03، ص 200، مطبعة الحلبي)

فتاوی بحر العلوم میں ہے: اگر دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو گالی (جس میں برا بھلا کہنا پایا جائے)دیں تو دونوں کا گناہ اس پر ہے جو گالی کی ابتدا کرے۔ اور اگر دوسرا حد سے بڑھ گیا تو دوسرے پر بھی گناہ ہوگا۔ (فتاوی بحر العلوم، ج 05، ص 468، شبیر برادرز لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: HAB-0770
تاریخ اجراء: 11 محرم الحرام 1448ھ / 27 جون 2026ء