logo logo
AI Search

بیوی حاملہ ہو تو شوہر کیلئے مشت زنی کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

بیوی حاملہ ہو تو شوہر کا مشت زنی کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

پوچھی گئی صورت میں بھی مشت زنی سخت ناپاک و حرام، کبیرہ گناہ اور باعثِ لعنت کام ہے۔ اس سے باز رہنا ہر مسلمان کے لیے لازم و ضروری ہے۔ بیوی سے شہوت پوری کرنے کے اور بھی جائز طریقے ہیں، جن کی تفصیل نیچے آ رہی ہے۔ نیز حمل میں بیوی سے صحبت ناجائز نہیں، بلکہ حاملہ بیوی سے بھی بچے کی ولادت سے پہلے تک شوہر کا ہمبستری کرنا، شرعاً جائز ہے، البتہ! جب اس حالت میں صحبت سے اسے تکلیف دہ ہو، یا کسی نقصان کا خطرہ ہو، تو صحبت سے بچنا چاہیے، تاکہ بعد میں کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو، ایسی صورت میں قضائے شہوت کے لیے صحبت کے علاوہ کوئی دوسرا جائزطریقہ اپناناچاہیے، مثلابیوی کے ساتھ لیٹنا، اس کی ران وغیرہ پرفراغت حاصل کرنا، یا اپنے ہاتھ کے بجائے اپنی بیوی کے ہاتھ کے ذریعے اپنی شہوت پوری کر سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ بیوی کا شوہر کو ہاتھ سے فارغ کرنا، اگرچہ جائز ہے، لیکن ناپسندیدہ ہے، لہٰذا اس سے بچنا بہتر ہے، کہ خدانخواستہ اس کی عادت پڑ گئی، تو یہ عادت جسمانی و طبی نقصانات کے ساتھ ساتھ گناہوں کی طرف بھی لے جا سکتی ہے اور گناہ میں ہلاکت ہے۔

مشت زنی ناجائز و گناہ ہے، چنانچہ در مختار میں ہے ”الاستمناء بالكف و ان كره تحريما لحديث ناكح اليد ملعون“ ترجمہ:مشت زنی مکروہِ تحریمی ہے، (اس)حدیث پاک کی وجہ سے کہ ہاتھ سے نکاح کرنے والا ملعون ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 426، مطبوعہ: کوئٹہ)

امامِ اہلِسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ مشت زنی کرنے والے شخص کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: وہ گنہگار ہے، عاصی ہے ، اصرار کے سبب مرتکبِ کبیرہ ہے، فاسق ہے۔ حشر میں ایسوں کی ہتھیلیاں گابھن (حاملہ) اٹھیں گی، جس سے مجمعِ اعظم میں ان کی رسوائی ہو گی، اگر توبہ نہ کریں اور اللہ معاف فرماتا ہے، جسے چاہے اور عذاب فرماتاہے ، جسے چاہے۔ اُسے چاہئے لاحول شریف کی کثرت کرے اور جب شیطان اس حرکت کی طرف بلائے، فورا دل سے متوجہ بخدا ہوکر لاحول پڑھے، نماز پنجگانہ کی پابندی کرے، نمازِ صبح (یعنی فجر کی نماز) کے بعد بلا ناغہ سورۂ اِخلاص شریف کا ورد رکھے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 244، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بیوی کے اپنے شوہر کو ہاتھ سے فارغ کرنے کے متعلق رد المحتار میں ہے ”و یجوز ان یستمنی بید زوجتہ ۔ ۔ ۔ وانہ یکرہ ۔ ۔ ۔ کراھۃ التنزیہ، ملخصا“ترجمہ:شوہر کا اپنی بیوی کے ہاتھ سے فراغت حاصل کرنا ، جائز ہے، لیکن ایسا کرنا مکروہِ تنزیہی (ناپسندیدہ) ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم و ما لا يفسده، جلد 3، صفحہ 426، مطبوعہ: کوئٹہ)

اس سوال کہ دورانِ حمل مرد بیوی سے کب تک مباشرت کرسکتا ہے؟ کے جواب میں مفتی محمد خلیل خان قادِری برَکاتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: دورانِ حمل وضعِ حمل تک مباشرت شرعاً جائز ہے، لیکن اگر ڈاکٹرز منع کر دیں یا تکلیف کا خطرہ ہو، تو پرہیز کرنا چاہیے۔ (فتاوٰی خلیلیہ، جلد 01، صفحہ 564، ضیاء القرآن، کراچی)

حیض و نفاس کی حالت میں بیوی سے جماع حرام ہونے ، جبکہ ناف سے اوپر اور گھٹنوں سے نیچے کا حصہ حلال ہونے کے متعلق مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے (و) یحرم بالحیض و النفاس (الجماع و الاستمتاع بما تحت السرۃ الی تحت الرکبۃ) لقولہٖ تعالٰی: ﴿وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ-﴾، و قولہٖ صلی اللہ علیہ وسلم : لک ما فوق الاِزار“ ترجمہ: اور حیض و نفاس کی وجہ سے جماع اور ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک کے حصے سے فائدہ اٹھانا حرام ہو جاتا ہے، کیونکہ اللہ پاک کا ارشاد ہے: (اور ان سے نزدیکی نہ کرو ، جب تک پاک نہ ہو لیں) اور رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے : تمہارے لیے تہبند سے اوپر کا حصہ حلال ہے۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، ص 94، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

 اس سوال کہ ایامِ حیض میں اپنی عورت سے ران یا پیٹ پر یا کسی اور مقام پر فراغت حاصل کرنا، جائز ہے یا نہیں؟ کے جواب میں امامِ اہلِسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: پیٹ پر جائز اور ر ان پر ناجائز۔ کلیہ یہ ہے کہ حالتِ حیض ونفاس میں ز یرِ ناف سے زانو (گھٹنے) تک عورت کے بدن سے بِلا کسی ایسے حائل کے جس کے سبب جسمِ عورت کی گرمی اس کے جسم کو نہ پہنچے ، تمتع (فائدہ یا لذت حاصل کرنا) جائز نہیں، یہاں تک کہ اتنے ٹکڑے بدن پر شہوت سے نظر بھی جائز نہیں اور اتنے ٹکڑے کا چھُونا بلاشہوت بھی جائز نہیں اور اس سے اوپر نیچے کے بدن سے مطلقاً ہر قسم کا تمتع جائز، یہاں تک کہ سَحقِ ذَکر کر کے انزال کرنا۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 4، ص 353، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5193
تاریخ اجراء: 29 محرم الحرام 1448ھ / 15 جولائی 2026ء