رنگ واچ پہننے کا شرعی حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مرد کے لیے رنگ واچ (Ring Watch) پہننے کا شرعی حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل ایک فیشن چلا ہے، جس میں انگوٹھی کو اس طرح بنایا جاتا ہے کہ اس کا حلقہ (وہ حصہ جو انگلی میں پہنا جاتا ہے) نہیں بنایا جاتا، بلکہ چاندی اور نگ کو ایک خوبصورت شکل دے کر اس کے دائیں اور بائیں بیلٹ لگا کر ہاتھ پر باندھا جاتا ہے، اسے Ring Watch کہا جاتا ہے۔ پوچھنا یہ تھا کہ اگر کوئی مرد ساڑھے چارماشے سے کم چاندی کی انگوٹھی عقیق سمیت اس طرح بنا کر چمڑے کے بیلٹ کے ساتھ ہاتھ پر باندھ لے، تو کیا شرعاً جائز ہوگا یا نہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔ سائل: علی احمد (اوکاڑہ)
جواب
شرعی حکم یہ ہےکہ مرد کو مخصوص شرائط والی چاندی کی انگوٹھی اور دیگر چند مستثنیٰ اشیاءکے علاوہ سونے اور چاندی کا زیور مطلقا ً ناجائز و حرام ہے، کیونکہ سونے اور چاندی کے استعمال میں اصل حرمت ہے، جب تک کسی خاص چیز کی رخصت شرع سے ثابت نہ ہو، ہرگز جائز نہیں ہے۔ سوال میں بیان کردہ شے یعنی Ring Watch اپنی بناوٹ کے اعتبار سے انگوٹھی نہیں ہے کہ انگوٹھی کی ساخت حلقہ نما ہوتی ہے اور اسے انگلی میں پہنا جاتا ہے، بلکہ یہ ایک طرح کا چاندی کا زیور ہے، جسے ہاتھ پر باندھا جاتا ہے اور مرد کے لیے اس کی رخصت شریعت سے ثابت بھی نہیں ہے، لہذا مرد کے لیے اس کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہے، چاہے چاندی ساڑھے چار ماشے سے کم ہو یا زیادہ۔
بیان کردہ شرعی حکم کے دلائل:
مرد کے لیے مخصوص مستثنیٰ اشیاء کے علاوہ سونے چاندی کا استعمال مطلقاً ناجائز ہے، چنانچہ سنن نسائی کی حدیث پاک ”أحل الذهب والحرير لإناث أمتي، واحرم على ذكورها“ کے تحت علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1014ھ/1605ء) لکھتے ہیں: ”وكذا حلي الفضة مختص بالنساء، إلا ما استثنى للرجال من الخاتم وغيره“ ترجمہ: اور اسی طرح چاندی کا زیور عورتوں کے ساتھ خاص ہے، مگر وہ اشیاء کہ جن کا مردوں کے لیے استثناء ہے، جیسے انگوٹھی وغیرہ۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 07، صفحہ 2779، دار الفكر، بيروت)
اسی مسئلے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ”(ولا يتحلى) الرجل (بذهب وفضة) مطلقا (إلا بخاتم ومنطقة وحلية سيف منها) أي الفضة“ ترجمہ: اور مرد سونے اور چاندی سے کسی بھی طرح کا زیور اختیار نہیں کر سکتا، سوائے چاندی کی انگوٹھی، پیٹی (کمر بند) اور تلوار کی آرائش کے۔ (رد المحتار علی در مختار، جلد 09، صفحہ 516، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
سونے اور چاندی کے استعمال میں اصل حرمت ہے، جب تک کہ شریعت سے کسی کی رخصت ثابت نہ ہوجائے، چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:”چاندی سونے کے استعمال میں اصل حرمت ہے، شیخ محقق مولٰنا عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں: ”اصل در استعمال ذہب وفضہ حرمت ست“ ترجمہ: سونے اور چاندی کے استعمال کرنے میں اصل حرمت ہے۔ یعنی جب شرع مطہر نے حکم تحریر فرما کر ان کی اباحت اصلیہ کو نسخ کر دیا تواب ان میں اصل حرمت ہوگئی، کہ جب تک کسی خاص چیز کی رخصت شرع سے واضح و آشکار نہ ہو ہر گزا جازت نہ دی جائے گی بلکہ مطلق تحریم کے تحت میں دخل رہے گی۔
واقول: ثانیا ظاہر ہے کہ ان زنجیروں کے اس طرح لگانے سے تزین مقصود ہوتا ہے، بلکہ تزین ہی مقصود ہوتا ہے اور ایسے ہی تزین کو تحلی کہتے ہیں، اور علماء تصریح فرماتے ہیں مرد کو سوا انگوٹھی، پیٹی اور تلوار کے سامان مثل پر تلے وغیرہ کے چاندی سے تحلی کسی طرح جائز نہیں۔ ۔۔ جب یہ زنجیریں مستثنیات سے خارج ہیں تو لاجرم حکم نہی میں داخل ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 112، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
انگوٹھی کے حلقے سے ہی انگوٹھی کی ساخت قائم ہوتی ہے، جیسا کہ علامہ مَرْغِینانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:593ھ/1196ء) لکھتے ہیں: ”والحلقة هي المعتبرة؛ لأن قوام الخاتم بها“ ترجمہ: اور معتبر چیز انگوٹھی کا حلقہ ہے، کیونکہ انگوٹھی کی ساخت اسی سے قائم ہے۔ (الھدایۃ، جلد 04، صفحہ 367، دار احياء التراث العربي، بيروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0307
تاریخ اجراء: 01 صفر المظفر 1448ھ/16جولائی 2026ء