logo logo
AI Search

حکومت کی طرف سے ملنے والی رقم لینا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حکومت کی طرف سے ملنے والی رقم وصول کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

حکومت کی جانب سے عورتوں کو کارڈ جاری کیا جاتا ہے، جس سے ان کو ہر تین ماہ بعد کچھ رقم ملتی ہے، کیا ان کا یہ رقم لینا جائز ہے؟

جواب

گورنمنٹ کی طرف سے مختلف افراد کی مدد کیلئے جو شرائط و ضوابط بیان کئے گئے ہیں، اگر کوئی ان شرائط و ضوابط پر پورا اترتا ہے، فارم فل کرنے یا بیان کرنے میں کوئی جھوٹ یا دھوکہ دہی نہیں کرتا، تو گورنمنٹ کی طرف سے دی جانے والی امداد لینا جائز ہے۔ ہاں البتہ اگر اس میں وہ شرائط پوری نہیں ہیں جو حکومت نے اس سہولت کو حاصل کرنے کے لئے رکھی ہیں، تو اس صورت میں لینا جائز نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں دھوکہ اور جھوٹ وغیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنا پایا جائے گا۔

دھوکہ دے کر مال کھانا حرام ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ”وَ لَا تَاْكُلُوْا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ“ ترجمہ کنز الایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ (پارہ 02، سورۃ البقرۃ، آیت: 188)

اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: ”اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کر یا چھین کر چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے یہ سب ممنوع و حرام ہے۔“ (تفسیر خزائن العرفان، صفحہ 63، مکتبۃ المدینہ)

صحیح مسلم میں ہے: ”لیس منا من غشنا“ ترجمہ: وہ ہم میں سے نہیں جو ہمیں دھوکہ دے۔ (صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 70، مطبوعہ کراچی)

فیض القدیر میں ہے: ”والغش ستر حال الشئ“ یعنی دھوکے سے مراد کسی چیز کا اصل حال چھپانا ہے۔ (فیض القدیر، جلد 6، صفحہ 240، مطبوعہ، بیروت)

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”غدر و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد ۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 139، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2536
تاریخ اجراء: 27 ربیع الثانی 1447ھ/21 اکتوبر 2025ء