logo logo
AI Search

بیوہ کا عدت کے بعد زینت کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بیوہ عورت عدت کے بعد زینت اختیار کر سکتی ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں یہ بات بڑی پختہ ہو چکی ہے کہ جو عورت بیوہ ہو جائے، وہ عدت مکمل ہونے کے بعد بھی اپنے ناک میں نتھلی وغیرہ نہیں پہنتی۔ گاؤں کے بزرگ اور برادری کے لوگ اِسے نہایت معیوب سمجھتے ہیں کہ کوئی عورت جو بیوہ ہو چکی ہو، وہ زینت اختیار کرے۔ کیا اس طرح کی پابندیاں اسلامی احکامات کے منافی نہیں ہیں؟

جواب

بیوہ عورت پر عدت کے بعد زیب و زینت یا ناک میں نتھلی پہننے پر پابندی لگانا اور اسے معیوب سمجھنا سراسر جہالت ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے بیوہ کے لیے سوگ کی ایک مخصوص مدت مقرر کی ہے۔ اُس مدت کے مکمل ہونے کے بعد عورت ہر وہ جائز کام اور زینت اختیار کر سکتی ہے جس کی شریعت اجازت دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴾ ترجمہ ٔ کنزالعرفان: اور تم میں سے جو مرجائیں اور بیویاں چھوڑیں تو وہ بیویاں چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب وہ اپنی (اختتامی) مدت کو پہنچ جائیں تو اے والیو! تم پر اس کام میں کوئی حرج نہیں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شریعت کے مطابق کر لیں اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔ (پ 02، البقرۃ: 234)
اِس آیت میں ”بِالْمَعْرُوْفِ“ کے تحت صاحبِ ترجیح علامہ ابنِ کمال پاشا حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 940ھ/1534 ء) نے لکھا: ’’بالوجه الذي لا يُنكَر شرعًا‘‘ ترجمہ: عدت مکمل کرنے والی عورت اپنے حق میں ہر وہ عمل کر سکتی ہے، جس پر شرعاً نکیر نہ ہو۔ (تفسیر ابن کمال باشا، جلد 02، صفحۃ 132، مطبوعۃ مکتبۃ الارشاد، اسطنبول)
جو لوگ عدت گزرنے کے بعد بھی بیوہ کے لیے زینت کو حرام یا معیوب قرار دیتے ہیں، ان کا رویہ اِس آیت مبارکہ کے برخلاف ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ-قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-﴾ ترجمۂ کنزالعرفان: تم فرماؤ: اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا فرمائی ہے؟ اور پاکیزہ رزق کو (کس نے حرام کیا؟) تم فرماؤ: یہ دنیا میں ایمان والوں کے لیے ہے، قیامت میں تو خاص انہی کے لیے ہوگا۔ (پ 08، الأعراف: 32)
زینت کی مراد بیان کرتے ہوئے امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 606ھ/1209ء) لکھتے ہیں: ’’إنه يتناول جميع أنواع الزينة فيدخل تحت الزينة جميع أنواع التزيين ويدخل تحتها تنظيف البدن من جميع الوجوه ويدخل تحتها المركوب ويدخل تحتها أيضا أنواع الحلي لأن كل ذلك زينة‘‘ ترجمہ: یہ ہر طرح کی زینت کو شامل ہے، لہٰذا زینت کے تحت ہر قسم کا بناؤ سنگھار آ جاتا ہے۔ اسی طرح جسم کو ہر لحاظ سے صاف ستھرا رکھنا، سواری اور مختلف قسم کے زیورات بھی اسی میں شامل ہیں، کیونکہ یہ ساری چیزیں زینت ہی کہلاتی ہیں۔ (التفسیر الكبير، جلد 14، صفحہ 230، دار احیاء التراث العربی، بيروت)
لہٰذا کسی فرد یا برادری کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا، وہ اُسے حرام ٹھہرائیں یا سمجھیں۔ احادیثِ مبارکہ میں متعینہ مدت کے بعد زینت اختیار کرنے کی عملی مثالیں موجود ہیں، چنانچہ جب حضرت ام حبیبہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کو اپنے والد حضرت ابو سفیان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے انتقال کی خبر ملی تو آپ نے انتقال کے تین دن بعد بالقصد اپنے رخسار اور بازوؤں پر خوشبو لگائی اور فرمایا: إني كنت عن هذا لغنية، لولا أني سمعت النبي صلى اللہ عليه وسلم يقول: لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن ‌تحد ‌على ‌ميت فوق ثلاث إلا على زوج، فإنها تحد عليه أربعة أشهر وعشرا۔ ترجمہ: اگر میں نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے یہ نہ سنا ہوتا کہ کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ شوہر کے سوا کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے اور شوہر کا سوگ چار مہینے دس دن کرے۔ تو مجھے اس وقت اس خوشبو کے استعمال کی ضرورت نہیں تھی۔ (صحیح البخاری، جلد 02، صفحہ 78، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)
یونہی حضرت زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنے بھائی عبید اللہ بن جحش کی وفات پر ایسا ہی کیا تھا اور فرمایا: ما لی بالطيب من حاجة غير أني سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم على المنبر: لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد على ميت فوق ثلاث، إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا۔ ترجمہ: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر (بات یہ ہے کہ) میں نے اللہ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سنا، آپ منبر پر ارشاد فرما رہے تھے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، حلال نہیں کہ وہ کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، مگر شوہر پر، چار مہینے دس دن سوگ کرے۔“ (صحیح البخاری، جلد 02، صفحہ 78، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)
معلوم ہوا کہ جب سوگ کی شرعی مدت مکمل ہو جائے تو پھر معمول کے مطابق ہر طرح کی جائز زینت اختیار کرنا حلال ہوتا ہے۔ ہاں اگر کوئی سوگ کے سبب نہیں، بلکہ عادۃً ہی عدت کے بعد نہ پہنے، لیکن پہننا جائز سمجھتی ہو، تو پھر کوئی حرج نہیں، چنانچہ امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: رہا موتِ شوہر پر نتھ نہ پہننا ایام عدت تک تو شرعاً ضرور ہے کہ نتھ زیور اور زینت ہے اور بیوہ کو کوئی گہنا کسی طرح کا سنگار جائز نہیں۔۔۔ اور بعد ختم عدت اگر شرعاً نتھ وغیرہ پہننا ناجائز وممنوع سمجھے، گنہگار ہوگی کہ یہ معاذاللہ شریعت مطہرہ پر افتراء ہے اور اگر جائز و رَوا سمجھ کر یو ہیں عادۃً نہ پہنے، تو حرج نہیں۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 23، صفحہ 483، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ برادری کے لوگوں کا ایسا نظریہ شریعتِ اسلامیہ سے دوری اور ہندوانہ رسومات کا اثر ہے۔ عدت کے بعد بیوہ کا نتھلی پہننا یا شرعی حدود میں زینت اختیار کرنا اُس کا حق ہے، لہذا اس پر پابندی لگانا، عدت کے بعد بھی زیب و زینت کو معیوب سمجھنا، اگر کوئی عورت بعدِ عدت زینت اختیار کرے تو اُس پر طنز و اعتراض کرنا، ناجائز و گناہ اور مسلمان عورت کی سخت دل آزاری ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والوں کو چاہیے کہ اس خلافِ شرع رسم اور سوچ سے توبہ کریں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی اطاعت کریں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9954
تاریخ اجراء: 09 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 27 اپریل 2026 ء