logo logo
AI Search

عدّت میں داماد اور ماں کے چچا اور تایا سے پردہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عدّت کے دوران داماد سے اور ماں کے سگے چچا اور تایا سے پردے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا عدّت کے دوران ساس کا داماد سے اور عورت کا ماں کے سگے چچا اور تایا سے پردہ ہوگا؟

جواب

اولاً یاد رہے کہ عدت میں پردے کے حوالے سے کوئی الگ حکم نہیں ہے، بلکہ عدت کے علاوہ جن سے پردہ کرنے کا حکم ہے، انہی سے عدت میں پردہ کرنے کا حکم ہے۔

ساس محارم عورتوں میں سے ہے کہ وہ بیوی کی ماں ہے، اس کی حرمت نصِ قطعی سے ثابت ہے، لہذا داماد کا ساس سے پردہ نہیں، البتہ! ساس جوان ہو یا فتنہ کا احتمال ہو، تو پردہ کرنا مناسب ہے۔

اسی طرح عورت کا اپنی والدہ کے چچا اور تایا سے بھی پردہ نہیں ہے، کیونکہ یہ عورت ان کے لئے بھتیجی کی بیٹی ہے، اوربھتیجی، بھانجی وغیرہ کی اولاد محارم میں سے ہے۔

فتاوٰی رضویہ میں ہے ساس پر داماد مطلقا حرام ہے اگرچہ اس کی بیٹی کی رخصت نہ ہوئی ہو اور قبل رخصت مرگئی ہو،

قال اللہ تعالٰی: و امھٰت نسآئکم

(اور تمھاری بیویوں کی مائیں تم پر حرام ہیں)۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 11، صفحہ 439، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

جوان ساس سے پردہ کرنا مناسب ہے۔ فتاوٰی رضویہ میں ہے علاقہ صہر ہو جیسے خسر، ساس، داماد، بہو، ان سب سے نہ پردہ واجب نہ نادرست ہے، کرنا نہ کرنا دونوں جائز اور بحالت جوانی یا احتمال فتنہ پردہ کرنا ہی مناسب۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 22، صفحہ 235، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بھتیجی کی اولاد محارم میں سے ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے جیسے بھتیجی بھانجی ویسے ہی ان کی اور بھتیجوں اور بھانجوں کی اولاد، اور اولادِ اولاد کتنے ہی دور سلسلہ جائے سب حرام ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 447، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وقار الفتاویٰ میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد وقار الدین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: عدت اور غیر عدت میں پردہ کے احکامات میں کوئی فرق نہیں۔ قبلِ عدت جن لوگوں سے پردہ فرض ہے، دوران عدت بھی ان سے پردہ کرنا فرض ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 158، بزم وقار الدین، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4759
تاریخ اجراء: 27شعبان المعظم1447ھ / 16فروری2026ء