logo logo
AI Search

جوائنٹ فیملی میں عدت گزارنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جوائنٹ فیملی میں عورت عدت کس طرح گزارے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس عورت کا شوہر وفات پا جائے اور لاولد ہو، کیا وہ عورت اسی گھر میں عدت گزار سکتی ہے؟ گھر بھی چار بھائیوں کا اکٹھا ہو، اور محرم کا بھی رشتہ نہ ہو؟ گھر میں عورت اپنے شوہر کے ساتھ الگ کمرے میں رہتی تھی، وہ کمرہ اب بھی عورت کے پاس ہے، بعد از عدت اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے، وہ اگر حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے، جبکہ چاند کی پہلی تاریخ کو شوہر کا انتقال ہوا ہو، اگر چاند کی پہلی کے علاوہ کسی دن شوہر کا انتقال ہوا تو عدت 130 دن ہوگی۔ عدت میں عورت پر لازم ہے کہ جس مکان میں اس کی شوہر کے ساتھ سکونت یعنی رہائش تھی، اسی مکان میں عدت پوری کرے، عدت کے دوران بغیر ضرورت شرعی کے اس کو اس گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں، اگر کسی شرعی ضرورت کی وجہ سے باہر نکلے تو ضرورت پوری ہونے کے فوراً بعد واپس اسی گھر میں آ جائے۔ لہذا بغیر ضرورت و حاجت شرعی کے اپنے والدین یا بھائیوں وغیرہ محارم کے گھر میں عدت نہیں گزار سکتی۔

صورت مسئولہ میں عورت کے شوہر کا کمرہ گھر میں موجود ہے، جس میں پردے میں رہ کر عورت عدت پوری کر سکتی ہے، لہذا عورت اسی کمرے میں عدت پوری کرے، اگر کسی قسم کے کسی فتنے کا اندیشہ ہو تو اپنے ساتھ کسی عورت کو عدت کے دوران رکھ لے، باقی پردے کے جو احکام عدت کے علاوہ ہیں، وہی احکام عدت کے دوران بھی ہیں، یعنی عورت جیٹھ، دیور اور ان کے بالغ بیٹوں وغیرہ غیر محارم کے سامنے بے پردہ نہیں آ سکتی، پردے میں رہ کر گھر میں ان کے سامنے آ جاتی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح بوقت ضرورت ان سے بات جیت کرنے میں بھی حرج نہیں، اسی طرح عورت عدت کے دوران گھر کے کام کاج، مثلاً کھانا بنانا، گھر کی صفائی ستھرائی کرنا، کپڑے دھونا وغیرہ کر سکتی ہے۔

عدت کے بعد عورت کو اختیار ہو گا، اگر چاہے تو شوہر کے اسی گھر میں رہے، یہاں رہتے ہوئے شرعی پردے کا خیال رکھنا ہو گا اور اگر چاہے تو اپنے محارم میں سے کسی کے ساتھ رہے۔

اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں، وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔‘‘ (پ: 2، سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 234)

سیدی اعلی حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ’’وفات کی عدت عورت غیر حامل پر مطلقاً چار مہینے دس دن ہے، خواہ صغیرہ ہو یا کبیرہ، مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 13، ص 293، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بیوی کیلئے شوہر کے گھر میں عدت گزارنے کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗؕ-﴾ ترجمہ کنز الایمان: عدت میں انہیں (عورتوں کو) ان کے گھروں سے نہ نکالو، اور نہ وہ آپ نکلیں، مگر یہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو اللہ کی حدوں سے آ گے بڑھا، بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ (پارہ: 28، سورۃ الطلاق: 65، آیت: 1)

اس آیت کے تحت مفتی نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”جو عورت طلاقِ رجعی یا بائن کی عدّت میں ہو اس کو گھر سے نکلنا بالکل جائز نہیں اور جو موت کی عدّت میں ہو وہ حاجت پڑے تو دن میں نکل سکتی ہے لیکن شب گذارنا اس کو شوہر کے گھر ہی میں ضروری ہے۔“ (تفسیر خزائن العرفان)

فتاوی عالمگیری میں ہے: ”علی المعتدۃ أن تعتد فی المنزل الذی یضاف إلیھا بالسکنی حال وقوع الفرقۃ و الموت کذا فی الکافی، لو کانت زائرۃ أھلھا أو کانت فی غیر بیتھا لأمر حین وقوع الطلاق انتقلت إلی بیت سکناھا بلا تأخیر و کذا فی عدۃ الوفاۃ کذا فی غایۃ البیان“۔ معتدہ پر لازم ہے کہ وہ اسی گھر میں عدت گزارے جس میں وہ طلاق یا شوہر کی موت کے وقت سکونت پذیر تھی، کافی میں اسی طرح ہے، طلاق کے واقع ہونے کے وقت اگر وہ اپنے گھر والوں کی زیارت کے لیے گئی ہوئی تھی یا اپنے گھر سے باہر کسی کام کی وجہ سے گئی تھی تو فوراً بغیر کسی تاخیر کے اپنی رہائش والے گھر میں واپس آ جائے، اور اسی طرح وفات کی عدت میں ہے، اسی طرح غایۃ البیان میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 1، ص 559، مطبوعہ کراچی)

بوقت ضرورت عورت شوہر کے گھر سے بقدر ضرورت باہر جا سکتی ہے:  ردالمحتار میں ہے: ”لاتخرج المعتدہ عن طلاق أوموت الا لضرورة“ یعنی جس عورت کو طلاق ہوجائے یاجس کا شوہر فوت ہوجائے، وہ دورانِ عدت گھرسے نہیں نکل سکتی، مگر بوقت ضرورت جا سکتی ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الطلاق، فصل فی الحداد، ج 05، ص 229، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”موت یا فرقت کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت تھی اسی مکا ن میں عدت پوری کرے اور یہ جو کہا گیا ہے کہ گھر سے باہر نہیں جا سکتی، اس سے مراد یہی گھر ہے اور اس گھر کو چھوڑ کر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کر سکتی مگر بضرورت۔۔۔۔ ضرورت وہ ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہ ہو۔“ (بھار شریعت، ج2، ح 8، ص 245، مکتبۃ المدینہ)

عدت سے پہلے پردہ کرنا فرض نہیں تھا، ان سے عدت میں بھی پردہ کرنا فرض نہیں، مفتی وقار الدین علیہ الرحمۃ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’قبلِ عدت جن سے پردہ فرض تھا، دورانِ عدت بھی ان سے پردہ کرنا فرض ہے اور جن لوگوں سے عدت سے پہلے پردہ کرنا فرض نہیں تھا، ان سے عدت میں بھی پردہ کرنا فرض نہیں۔“ (وقار الفتاوی، ج03 ، ص212 ، بزم وقارالدین، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7648
تاریخ اجراء:18 ربیع الاول 1447ھ /12 ستمبر2025ء