logo logo
AI Search

عورت عدت میں جم (GYM) جا سکتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت کا عدت کے دوران جم (GYM) جا نا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عدت کے دوران خاتون اپنے گھر سے نکل کر بلڈنگ میں موجود جم (GYM) میں جا سکتی ہے؟

جواب

جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے، یا اسے طلاق ہو جائے، تو اس پر واجب ہوتا ہے، کہ اپنی عدت حتی الامکان شوہر کے گھر ہی میں گزارے، یعنی اس گھر میں گزارے، جہاں وہ شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی، دوران عدت بلا ضرورت شرعیہ اس گھر سے نکلنا، ناجائز و گناہ ہوتا ہے۔ البتہ! اگر کوئی شدید حاجت یا حرج درپیش ہو کہ جس کی وجہ سے عورت کے لیے شوہر کے گھر سے نکلنا ضروری ہو جائے، تو عدت کے دوران بقدر ضرورت اس گھر سے نکلنا، جائز ہو جاتا ہے، جبکہ جِم جانا ایسی کوئی حاجت یا ضرورت نہیں، جو عدت کے دوران گھر سے نکلنے کے لیے شریعت کے نزدیک قابل قبول ہو، لہٰذا چاہے جم بلڈنگ میں ہی کیوں نہ موجود ہو، اس کے لیے گھر سے نکلنا جائز نہیں۔

یہ تو عدت کے اعتبار سے حکم شرعی کا بیان تھا، باقی جم میں چونکہ عمومی طور پر میوزک، بے پردگی و بے حیائی ہوتی ہے، ایسی صورت میں ویسے بھی عمومی حالات میں بھی اس طرح کے جم خانے میں جانے کی اجازت نہیں، بالخصوص خاتون کیلئے سخت منع ہے۔

عدت والی عورتوں کے باہر نکلنے کی ممانعت کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: ﴿‌لا ‌تخرجوهن ‌من ‌بيوتهن ولا يخرجن﴾ ترجمہ: تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں۔ (پارہ 28، سورۃ الطلاق، آیت: 1)

بلا ضرورت گھر سے نکلنے کی صورت میں گنہگار ہوگی، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت کے تحت تفسیر خازن میں ہے: "ولا يجوز للمرأة أن تخرج ما لم تنقض عدتها لحق الله تعالى فإن خرجت لغير ضرورة أثمت" ترجمہ: اور معتدہ عورت کا باہر نکلنا جائز نہیں جب تک اس کی عدت پوری نہ ہو جائے؛ اللہ پاک کے حق کی وجہ سے، پس اگر وہ بلا ضرورت باہر نکلی تو گنہگار ہو گی۔ (تفسیر خازن، جلد 4، صفحہ 306، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

البحر الرائق میں ہے "معتدۃ الطلاق والموت یعتدان فی المنزل المضاف الیھما بالسکنیٰ وقت الطلاق والموت و لا یخرجان منہ الا لضرورۃ" ترجمہ: طلاق اور موت کی عدت والی اسی گھر میں عدت گزارے جہاں موت یا طلاق کے وقت رہائش پذیر تھی، اور وہ اس گھر سے ضرورت کے علاوہ نہ نکلے۔ (البحر الرائق، جلد 4، صفحہ 259، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں عدت کے دوران گھر سے باہر نکلنے کے متعلق ہے: "تا ختمِ عدت عورت پر اسی مکان میں رہنا واجب ہے۔۔۔ مگر یہ مکان اس کا نہ تھا مالکانِ مکان نے جبراً نکال دیا، یا کرایہ پر رہتی تھی اب کرایہ دینے کی طاقت نہیں یا مکان گر پڑا یا گرنے کو ہے یا اور کسی طرح اپنی جان یا مال کا اندیشہ ہے، غرض اسی طرح کی ضرورتیں ہوں تو وہاں سے نکل کر جو مکان اس کے مکان سے قریب تر ہو اس میں چلی جائے ورنہ ہرگز نہیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 327، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4972
تاریخ اجراء: 12 ذو القعدۃ الحرام1447ھ/30 اپریل 2026ء