دوران عدت ڈائیلاسز کروانے جانا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بیوہ عورت کا دوران عدت ڈائیلسز کے لیے ہاسپٹل جا نا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بیوہ عورت کو عدت میں ڈائیلسز کے لیے ہاسپٹل جانا ہو، تو کیا حکم ہے ؟
جواب
عورت کو عدت اسی مکان میں گزارنا ضروری ہوتا ہے، جس میں طلاق یا شوہر کی موت سے پہلے شوہر کے ساتھ رہتی تھی، اور اس کا دورانِ عدت بلا ضرورتِ شرعیہ گھر سے باہر نکلنا حرام ہوتا ہے۔ ہاں! ضرورتِ شرعی کی صورت میں دن کے وقت اور رات کے کچھ حصے میں نکل سکتی ہے، لیکن اس صورت میں بھی رات کا اکثر حصہ عدت والے گھر میں گزارنا ضروری ہے۔ ضرورت کی ایک مثال یہ ہے کہ موت یا طلاق کی عدت والی بیمار ہو جائے، اور گھر پر علاج ممکن نہ ہو، یا بیماری ایسی ہو کہ جس کے علاج کے لیے باہر جانا ضروری ہو، تو شرعی پردے کی پابندیوں کا لحاظ رکھتے ہوئے جا سکتی ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر ان بیوہ کا علاج کے لیے ہاسپٹل جانا ضروری ہے، اور گھر پر علاج نہیں ہو سکتا، تو اوپر بیان کی گئی احتیاطوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ڈائیلسز کے لیے ہاسپٹل جا سکتی ہیں۔
عدت والی عورت کے لیے گھر سے نکلنے کی ممانعت سے متعلق قرآن مجید میں ہے:
﴿لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗؕ ﴾
ترجمۂ کنز الایمان: ”عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں، مگر یہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھا، بے شک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔“ (پارہ 28، سورۃ الطلاق، آیت 1)
اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: ’’عورت کو عدّت شوہر کے گھر پوری کرنی لازم ہے نہ شوہر کو جائز کہ مطلّقہ کو عدّت میں گھر سے نکالے، نہ ان عورتوں کو وہاں سے خود نکلنا روا۔۔۔مسئلہ: جو عورت طلاقِ رجعی یا بائن کی عدّت میں ہو اس کو گھر سے نکلنا بالکل جائز نہیں اور جو موت کی عدّت میں ہو وہ حاجت پڑے تو دن میں نکل سکتی ہے لیکن شب گذارنا اس کو شوہر کے گھر ہی میں ضروری ہے۔“ (تفسیر خزائن العرفان، سورۃ الطلاق، تحت الآیۃ 1)
عدت والی کے گھر سے نکلنے کی ممانعت سے متعلق بحر الرائق میں ہے:
”معتدۃ الطلاق والموت یعتدان فی المنزل المضاف الیھما بالسکنی وقت الطلاق والموت ولا یخرجان منہ الا لضرورۃ“
ترجمہ: طلاق اور وفات کی عدت والیاں اس گھر میں عدت گزاریں گی، جو طلاق اور شوہر کی وفات کے وقت رہائش کے اعتبار سے ان کی طرف منسوب ہو اور اس سے بغیر ضرورت کے نہیں نکلیں گی۔ (البحر الرائق، ج 4، ص 259، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا: "زید فوت ہوا جو ایک موضع میں رہتا تھا وہاں کوئی طبیب نہیں ہے، پس اس کی زوجہ ایام عدت ہی میں بوجہ علالت اپنی دختر نیز اپنے بچوں خورد سال کے واسطے علاج کے کسی دوسری جگہ جا سکتی ہے یا نہیں اور نبض کسی حکیم کو دکھا سکتی ہے یا نہیں ؟"
تو آپ نے جوابا ارشاد فرمایا: ”نبض بضرورت دکھا سکتی ہے اور دوسری جگہ اس طور پر جا سکتی ہے کہ رات کا اکثر حصہ شوہر ہی کے مکان میں گزارے، اور اگر اسی مکان میں ممکن ہو تو یہ بھی حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 317، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4878
تاریخ اجراء:18 شوال المکرم1447ھ/07 اپریل 2026ء