عدت کے دوران زیورات استعمال کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دوران عدت زیوارت استعمال کرنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
عدّت کے دوران اگر عورت آرٹیفیشل یا سونے کے زیورات پہنے رہے، جو وہ شوہر کے انتقال کے وقت بھی پہنے ہوئے تھی، کیا اُن کا اُتارنا ضروری ہوگا یا کوئی مسئلہ نہیں ہے؟
جواب
بیوہ کو عدتِ وفات کے دوران سوگ کرنا واجب ہے، جس کے پیشِ نظر اس پر لازم ہے، کہ وہ ہر طرح کی زینت کو ترک کر دے، اسی وجہ سے بیوہ کو کسی قسم کا زیور انگوٹھی، چھلے وغیرہ دوران عدت استعمال کرنے کی اجازت نہیں، لہذا شوہر کے انتقال کے وقت عورت نے جو زیورات پہنے ہوئے تھے، حکم یہ ہے کہ انہیں فوراً اتار دے، جب تک عدت جاری ہے، زیورات نہ پہنے۔ البتہ! جب عدت مکمل ہو جائے، تو اب اس کے لئے شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے زیب و زینت اختیار کرنا، زیوارت پہننا بالکل جائز ہے۔
عدت میں زینت ترک کرنے کے احکام کے بارے میں فتاوی ہندیہ میں ہے
لبس الحلی و التزين و الامتشاط
ترجمہ: عدت میں زیور پہننا، زینت اختیار کرنا اور کنگھی کرنا (منع ہے۔) (فتاوی ھندیہ، جلد 1، صفحہ 533، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ ا لرحمن فرماتے ہیں: عدت میں عورت کو یہ چیزیں منع ہیں: ہر قسم کا گہنا یہاں تک کہ انگوٹھی چھلا بھی، مہندی، سرمہ، عطر، ریشمی کپڑا، ہار پھول، بدن یا کپڑے میں کسی قسم کی خوشبو، سر میں کنگھی کرنا، اور مجبوری ہو تو موٹے دندانوں کی کنگھی کرے جس سے فقط بال سلجھالے پٹی نہ جھکالے۔ پھلیل، میٹھا تیل، کسم، کیسر کے رنگے کپڑے، یونہی ہر رنگ جس سے زینت ہوتی ہو اگرچہ پڑیا گیرو کا، چوڑیاں اگرچہ کانچ کی، غرض ہر قسم کا سنگار ختم عدت تک منع ہے۔ چارپائی پر سونا، بچھونا سونے یا بیٹھنے میں بچھانا منع نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 331، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: سوگ کے یہ معنی ہیں کہ زینت کو ترک کرے یعنی ہر قسم کے زیور چاندی سونے جواہر وغیرہا کے اور ہر قسم اور ہر رنگ کے ریشم کے کپڑے اگرچہ سیاہ ہوں نہ پہنے اورخوشبو کا بدن یا کپڑوں میں استعمال نہ کرے اور نہ تیل کا استعمال کرے اگرچہ اُس میں خوشبو نہ ہو جیسے روغن زیتون اور کنگھا کرنا اور سیاہ سرمہ لگانا۔ یوہیں سفید خوشبودار سرمہ لگانا اور مہندی لگانا اور زعفران یا کسم یا گیرو کا رنگا ہوا یا سُرخ رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے ان سب چیزوں کا ترک واجب ہے۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 8، صفحہ 242، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4652
تاریخ اجراء: 26 رجب المرجب 1447ھ / 16 جنوری 2026ء