logo logo
AI Search

عدت میں بیٹی سے ملنے اس کے گھر جانے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عدت کے دوران بیٹی سے ملنے اس کے گھر جانا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میری والدہ عدت وفات میں ہیں، شرعی رہنمائی فرما دیجئے کہ کیا میری والدہ، میری بہن سے ملنے کے لئے اس کے گھر جا سکتی ہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ کی والدہ کا دورانِ عدت محض ملاقات کے لئے آپ کی بہن کے گھر جانا جائز نہیں، بلکہ ان پر لازم ہے کہ شوہر کی وفات کے وقت جس گھر میں وہ رہائش پذیر تھیں، وہیں عدت مکمل کریں، البتہ !آپ کی بہن اپنی والدہ سے ملاقات کے لیے والدہ کے گھر جا سکتی ہیں۔

اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

﴿لَا تُخْرِجُوھُنَّ مِن بُیُوتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ﴾

ترجمہ کنز العرفان: (عدت میں) تم عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالواورنہ وہ خود نکلیں۔ (القرآن، پارہ 28، سورۃ الطلاق، آیت: 1)

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فقیہ ابو اللیث سمرقندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:

وَلَا یَخْرُجْنَ یعنی: لیس لھن أن یخرجن من البیوت“

ترجمہ: اور وہ خود نہ نکلیں یعنی عدت والی عورتوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ گھروں سے نکلیں۔ (تفسیر السمرقندی، سورۃ الطلاق، جلد 3، صفحہ374، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہمشیرہ حضرت فریعہ بنت مالک کے شوہر کو اُن کے غلاموں نے قتل کر ڈالا تھا، وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ مجھے میکے میں عدت گزارنے کی اجازت دی جائے کہ میرے شوہر نے کوئی اپنا مکان نہیں چھوڑا اور نہ خرچ چھوڑا۔ اجازت دے دی پھر بُلا کر فرمایا:

”امکثی فی بیتک حتی یبلغ الکتاب اجلہ۔ قالت فاعتددت فیہ اربعۃ اشھروعشرا“

یعنی: اپنے گھر میں ٹھہری رہو، یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے، حضرت فریعہ فرماتی ہیں:  پھرمیں نے اسی گھرمیں چارماہ دس دن عدت گزاری۔ (سنن الترمذی، صفحہ471، حدیث: 1204، دار ابن کثیر)

فتاوی عالمگیری میں ہے

”علی المعتدۃ ان تعتد فی المنزل الذی یضاف الیھا بالسکنی حال وقوع الفرقۃ والموت“

ترجمہ: عدت والی پر لازم ہے کہ وہ جدائی اورشوہرکی وفات کی صورت میں، اسی گھر میں عدت گزارے، جو گھر اس کی رہائش کے طور پر اس کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد1، صفحہ 535، مطبوعہ: کوئٹہ (

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-4606

تاریخ اجراء: 13رجب المرجب1447ھ/03جنوری2026ء