logo logo
AI Search

ادھار میں قیمت بعد میں بڑھانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ادھار خرید و فروخت میں مدت ذکر نہ کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بکر نے زید سے کپڑا مخصوص و متعین قیمت پر خریدا، ایجاب و قبول میں قیمت کی ادائیگی کے لیے کوئی مدت مقررنہیں کی گئی، عقد مکمل ہونے پر زید نے قیمت کا مطالبہ کیا تو بکر نے کہا کہ چند دن میں ادا کرتا ہوں، زید نے اوکے کردیا، جب، دو دن گزرے تو زید نے بکر سے رقم کا مطالبہ کیا، بکر نے کہا کہ ایک ہفتے بعد دے دوں گا، زید نے کہا اگر ہفتے بعد رقم نہ ملی تو جو رقم ہفتے بعد اس کپڑے کی مارکیٹ میں ہوگی، وہ آپ سے لوں گا۔ بکر نے اس بات کو قبول نہیں کیا، اب ہفتے بعد بکر 75 فیصد رقم، زید کو دے رہاہے لیکن زیدلینے سے انکار کرتا ہے، زید کہتا ہے کہ اس وقت جو مارکیٹ میں کپڑے کی قیمت ہے، وہ ادا کرو جبکہ بکر کا کہنا ہے کہ آپ سے جب کپڑا خریدا تھا، اس وقت جو رقم طے ہوئی تھی، صرف وہی دینی ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائی جائے کہ اس کاکیاحل ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں مدت کا ذکر کیے بغیرجوبیع کی گئی، وہ نقد بیع ہوئی، جس میں بیچنے والے کو اختیار ہوتا ہے کہ جب چاہے قیمت کا مطالبہ کرے اور جب تک قیمت وصول نہ ہو جائے، اس وقت تک مبیع (بیچی گئی چیز) خریدار کے سپرد نہ کرے لیکن اسے یہ حق نہیں ہے کہ عقد میں جتنی قیمت طے ہوئی تھی، اس سے زائد کا مطالبہ کرے۔ اگر ہفتہ بعد قیمت نہ دینے کی بناء پر زائد لے گا تو یہ جرمانہ ہے اور جرمانہ لینا، ناجائزو حرام ہے۔

نیز عقد مکمل ہوجانے کے بعد، جو قیمت کی ادائیگی کے لیے چنددن مقرر کیے گئے، اس سے عقدفاسدنہیں ہوا کیونکہ چنددن کی مدت، فی نفسہ اگرچہ مجہول ہے لیکن عقد کے بعد ذکر ہونے کی وجہ سے اصل عقد پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

نوٹ: یہ خیال رہے کہ بلاوجہ شرعی مالک کی اجازت کے بغیردین کی ادائیگی میں تاخیر کرنا شرعا ممنوع و گناہ ہے اور بلاوجہ شرعی وعدے سے پھرنا بھی ممنوع و مکروہ ہے اور اگر وعدہ کرتے وقت ہی دل میں ہو کہ پورا نہیں کرنا تو حرام ہے۔ بکر کو چاہیے کہ فورا مکمل رقم ادا کرے اور تاخیر کی زید سے بھی معافی مانگے اور اللہ تعالی کے حضور بھی معافی طلب کرے اور آئندہ ایسا کرنے سے باز رہے۔

قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ- اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو، بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورہ بنی اسرائیل، پ 15، آیت 34)

درمختار میں ہے "(و لو) (باع مطلقا عنها) أي عن هذه الآجال (ثم أجل الثمن) الدين،۔ ۔ ۔ (إليها صح) التأجيل" ترجمہ: اور اگر عقد بیع میں ان مجہول مدتوں کا ذکر نہ ہوا پھر بعد میں ثمن کی ادائیگی کے لیے ان مجہول مدتوں کو ذکر کیا تو یہ مدت مقرر کرنا درست ہے۔

اس کے تحت ردالمحتار میں ہے: "(قوله و لو باع إلخ) أفاد أن ما ذكر من الفساد بهذه الآجال إنما هو إذا ذكرت في أصل العقد، بخلاف ما إذا ذكرت بعده كما لو ألحقا بعد العقد شرطا فاسدا، و يأتي تصحيح أنه لا يلتحق" ترجمہ: مصنف نے اپنے اس قول سے اس بات کا افادہ کیا ہے کہ ان مجہول مدتوں کی وجہ سے عقد کے فاسد ہونے کی جوبات مذکور ہوئی، یہ اسی صورت میں ہے جبکہ ان کو اصل عقدمیں ذکر کیا جائے برخلاف اس صورت کے کہ جب ان کو عقد کے بعد ذکر کیا جائے (تو اس صورت میں عقد فاسد نہیں ہوگا) جیسا کہ اگرعاقدین عقد کے بعد شرط فاسد کو ذکر کریں اور آگے آئے گا کہ صحیح یہی ہے کہ عقد کے بعد ذکر کی جانے والی شرط فاسد عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہوتی۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب البیوع، ج 07، ص 279، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے "بیع ایجاب وقبول سے تمام ہوجاتی ہے، چیز بائع کے ملک سے نکل کر مشتری کی ملک میں داخل ہوجاتی ہے ہاں پہلے مشتری کو چاہئے کہ ثمن ادا کرے، بائع کو اختیار ہے کہ جب تک ثمن نہ لے مبیع سپرد نہ کرے لیکن اگر اس نے بعض یا کل ثمن لینے سے پہلے مبیع اس کے قبضہ میں دے دی تو اس سے جو کچھ منافع حاصل ہوں ملک مشتر ی ہیں مشتری کے لئے حلال ہیں۔ ۔ ۔ اور بد اقراری کے معاوضہ میں کچھ روپیہ جرمانہ لینا بائع کو حرام ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 89، رضا فاونڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے "بیع میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ادائے ثمن کے لیے کوئی مدت مقرر ہوتی ہے اور کبھی نہیں اگر مدت مقرر نہ ہو تو ثمن کا مطالبہ بائع جب چاہے کرے اور جب تک مشتری ثمن نہ ادا کرے مبیع کو روک سکتا ہے اور دعویٰ کر کے وصول کر سکتا ہے۔" (بہار شریعت، ج 02، حصہ 11، ص 712، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فتاوی رضویہ میں دین کی ادائیگی کے حوالے سے ہے "جو دے سکتا ہے اور بلاوجہ لیت و لعل کرے وہ ظالم ہے اور اس پر تشنیع و ملامت جائز۔" (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 586، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وعدے کے حوالے سے فتاوی رضویہ میں ہے "ایفائے وعدہ شرعا محبوب اور خلف وعدہ ناپسند و مکروہ۔" (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 176، رضا فاونڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے "اگر وعدہ سرے سے صرف زبانی بطور دنیا سازی کیا اور اُسی وقت دل میں تھا کہ وفا نہ کریں گے تو بے ضرورتِ شرعی و حالتِ مجبوری سخت گناہ و حرام ہے ایسے ہی خلافِ وعدہ کو حدیث میں علاماتِ نفاق سے شمار کیا۔" (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 281، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری 
فتوی نمبر: Lar-11008
تاریخ اجراء: 04 جمادی الاولی 1443ھ / 09 دسمبر 2021ء