logo logo
AI Search

پان میں افیون ملا کر بیچنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

پان میں افیون ملا کر بیچنے اور اس کی کمائی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جو شخص پان میں افیون کی ملاوٹ کرتا ہو، اور یہ کام ناجائز ہونے کی وجہ سے اس سے حاصل ہونے والی کمائی بھی حرام ہو، لیکن اس کی ایک ہی دکان میں مختلف اشیا کا کاروبار ہوتا ہو، مثلاً ڈرنک کارنر بھی ہو، پان بھی فروخت کرتا ہو، اور سگریٹ بھی فروخت کرتا ہو، تو ایسی صورت میں دکان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہے؟ کیا پوری آمدنی حرام ہوگی یا جو آمدنی جائز اشیاکی فروخت سے حاصل ہو، وہ حلال ہوگی؟ نیز اگر وہ شخص اس آمدنی سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ،تو کیا گھر والوں کے لیے اس رقم کو استعمال کرنا جائز ہوگا؟ اور اگر گھر والے اس رقم کو استعمال کریں، تو کیا ان پر بھی گناہ ہوگا؟

جواب

محض لذت و نشہ حاصل کرنے لیے یا بطورِ مشغلہ افیون کی خرید و فروخت کرنا، ناجائز و گناہ ہے، اور ظاہر ہے کہ پان میں افیون ملاکر بیچنا، بطور لذت و سرور اور بطور مشغلہ ہی ہوتا ہے، اس لئے پان میں اسے ملاکر بیچنا، خریدنا، ناجائزو گناہ ہے، البتہ! اس کی آمدنی حلال ہوگی، کیونکہ افیون مالِ متقوم، اور اس کی سپردگی قدرت میں ہے، اور ایسے مال کی بیع درست ہوجاتی ہے۔ یونہی اِس کی وجہ سے دیگر جائز چیزوں سے حاصل ہونے والی رقم بھی ناجائزنہیں ہوجائے گی۔ لہذا ایسے شخص کے گھر والے اس کی آمدنی سے خریدی ہوئی چیزیں استعمال کرسکتے ہیں، اور ایسے شخص کو سمجھانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ افیون کی ناجائز طریقے پر خریدو فروخت کو چھوڑے اور اس عمل سے توبہ بھی کرے۔

فتاوی رضویہ میں ہے "بضرورت دوا قلیل المقدار افیون کہ اس قدر سے نشہ و سرور یا عقل و حواس میں تغیر و فتور اصلا نہ پیدا ہو استعمال کرنا جائز ہے اور شوق کی راہ سے بطور مشغلہ کھانا جس طرح عام کھانے والے اپنے پیچھے لت لگالیتے ہیں مطلقاً جائز نہیں اگرچہ نشہ نہ کرے اگرچہ بوجہ اپنی قلت کے اس قابل ہی نہ ہو۔" (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 77، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مزیدفتاویٰ رضویہ میں ہے "اس خبیث کا اثر ہے کہ معدے میں سوراخ کر دیتی ہے جو افیون کے سوا کسی بلا سے نہیں بھرتے تو خواہی نخواہی بڑھانی پڑتی ہے۔" (فتاویٰ رضویہ، جلد 25، صفحہ 213، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

افیون بیچنے کے متعلق امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”صحت چیزے دیگر ست و جواز بمعنی حل دیگر اینہا اگر چہ تاحد سکر حرام است فاما ہمچو خمر وخنزیر از تقوم برنیفتادہ است وچوں بیع برمال متقوم مقدورالتسلیم وارد شود صحیح بود گو حرام باشد پس صحت درینہا مطلق ست و گر برائے تداوی از بیرون بدن می خواہد جواز بمعنی حل نیز باشد وگر برائے معصیت میخواہد روا نیست، (یعنی صحت اور چیز ہے اور جواز بمعنی حل دوسری چیز، مذکورہ اشیاء یعنی افیون اور بھنگ جب نشہ کی حد تک پہنچ جائیں تو اگرچہ حرام ہیں مگر متقوم ہونے سے خارج نہیں ہوتیں جیسے شراب اور خنزیر متقوم ہونے سے خارج ہوتے ہیں تو بیع مال متقوم مقدور التسلیم پر وارد ہو تو صحیح ہوتی ہے اگرچہ حرام ہو، لہذا صحت تو ان میں مطلق ہے اور اگر بیرون بدن ان سے علاج معالجہ مطلوب ہو تو جواز بمعنی حل بھی ہوگا اور اگر معصیت کے لیے ان کی بیع مطلوب ہو تو جائز نہیں۔) (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 170، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5412
تاریخ اجراء: 27 ربیع الاول 1448ھ / 10 ستمبر 2026ء