وکیل کے ذریعے مال خرید کر اسی کو ادھار بیچنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
وکیل کے ذریعے سامان خرید کر وکیل کو ہی ادھا رپر بیچنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
خرید و فروخت کا مذکورہ طریقہ درست ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ آپ کا اس شخص کو پیسے دے کر کہنا کہ ”تم میری طرف سے فلاں چیز اتنی رقم میں خرید لو“ یہ خریدنے کی وکالت ہے، اور خرید و فروخت وغیرہ عقود جو خود کرنا جائز ہے، ان کا دوسرے کو وکیل بنانا بھی جائز ہے، لہذا جب اس نے وکیل کے طور پر مال خرید لیا، تو خریداری درست ہوئی، اور اس کے بعد اس نے قبضہ کر لیا، تو اس کا قبضہ گویا آپ کا قبضہ ہوا، کیونکہ وکیل کاقبضہ، موکل (وکیل بنانے والے) کاقبضہ ہوتاہے۔ پس قبضہ ہوجانے کے بعد آپ کو یہ مال آگے بیچنے کی اجازت ہے، لہذا آپ کا متعین نفع رکھ کر، ادھار کی معین مدت پر آگے بیچنا شرعا درست ہے۔
فتح القدیرمیں ہے "كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره" ترجمہ: ہروہ عقد جس کاانسان کو خود کرنا جائز ہے، اس کا غیر کو وکیل بنانا بھی جائز ہے۔ (فتح القدیر، جلد 7، صفحہ 502 - 501، دار الفکر، بیروت)
قبضہ کرنے سے پہلے فروخت کرنے کے متعلق حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”من ابتاع طعاما فلا یبعہ حتی یقبضہ، قال ابن عباس و أحسب کل شیء بمنزلۃ الطعام“ ترجمہ: جس نے کھانا خریدا تو اس کونہ بیچے یہاں تک کہ اس پر قبضہ کر لے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا میں گمان کرتا ہوں کہ ہر چیز کا حکم کھانے کی طرح ہے۔ (صحيح مسلم، صفحہ 588، رقم الحدیث 1525، دار الکتب العلمیۃ، بيروت)
البنایۃ لشرح الہدایۃمیں ہے ”بیع المنقول قبل القبض لایجوز بالإجماع“ ترجمہ: منقولی چیزکی قبضہ سے پہلے بیع بالاجماع ناجائز ہے۔ (البنایۃ شرح الہدایۃ، کتاب البیوع، باب الاقالۃ، جلد 8، صفحہ 299، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے ” فإذا قبض الوكيل يصير المقبوض ملكا لموكله“ ترجمہ: پس جب وکیل قبضہ کر لے تومقبوض (جس چیز پر قبضہ کیا ہے وہ) موکل کی ملک ہوجائے گی۔ (فتاوی عالمگیری، الفصل الرابع فی الصوم، جلد 6، صفحہ 392، مطبوعہ بیروت)
رد المحتار میں ہے ”لأن قبض الوكيل كقبضه“ ترجمہ: کیونکہ وکیل کا قبضہ، موکل ہی کے قبضے کی طرح ہے۔ (رد المحتار، باب شروط الاجارہ، جلد 6، صفحہ 13، مطبوعہ بیروت)
خرید و فروخت میں مبیع (چیز) اور ثمن (قیمت) کا متعین ہونا یونہی ادھار خرید و فروخت کی صورت میں پیسے دینے کی مدت کا بیان ہونا ضروری ہوتا ہے تو جب مذکورہ باتوں کی تعیین کے ساتھ ایجاب و قبول ہوجائے تو بیع لازم و تام ہوجاتی ہے چنانچہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے ''و شر ط لصحتہ معرفۃ قدر مبیع و ثمن'' ترجمہ: اور بیع کی صحت کے لیے مبیع (بیچی جانے والی چیز) اور ثمن (قیمت) کی مقدار کی معرفت شرط ہے۔ (تنویر الابصار مع الدرالمختار، کتاب البیوع، جلد 7، صفحہ 46، مطبوعہ کوئٹہ)
درمختار میں ہے ’’صح بثمن حال و ھو الاصل و مؤجل الی معلوم لئلا یفضی الی النزاع‘‘ ترجمہ: بیع نقد ثمن کے ساتھ بھی درست ہے اور ادھار ثمن کے ساتھ بھی درست ہے جبکہ مدت معلوم ہو تاکہ یہ جھگڑے کی طرف نہ لے کر جائے۔
اس کے تحت رد المحتار میں ’’(لئلا یفضی الی النزاع) تعلیل لاشتراط کون الاجل معلوما لان علمہ لا یفضی الی النزاع‘‘ ترجمہ: تاکہ جھگڑے کی طرف نہ لے کر جائے یہ مدت معلوم ہونے کی شرط کی علت بیان کرنا ہے کیونکہ اس کا معلوم ہونا جھگڑنے کی طرف نہیں لے جائے گا۔ (ردالمحتار علی درمختار، کتاب البیوع، جلد 7، صفحہ 49 - 50، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5398
تاریخ اجراء: 26 ربیع الاول 1448ھ / 09 ستمبر 2026ء