مانع حمل ادویات کی خرید و فروخت کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحيم
مانع حمل دوائیوں کی خرید و فروخت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
مانع حمل ادویات(Birth Control Medicine) کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ ان ادویات کو ناجائز طور پر استعمال کرنے والے کے ساتھ معاونت کی صورت نہ ہو۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ مانع حمل ادویات کا استعمال عزل (جماع میں انزال کے وقت مادۂ منویہ باہر خارج کر دینے) کے حکم میں ہے اور بیوی کی رضامندی سے عزل کرنا، جائز ہے، تو مانعِ حمل ادویات اس جائز مقصد کےلئے بھی استعمال ہوسکتی ہیں اور اس لئے بھی کہ معاذاللہ کوئی زنا کرتا اور حمل سے بچنا چاہتا ہے، اس لئے یہ ادویات استعمال کرتا ہے تو یہ یقینا ناجائز مقصد میں معاونت کی صورت ہوگی اور یہ ناجائز ہے، اور شرعی اصول یہ ہے کہ جو چیز فی نفسہ معصیت (گناہ) کے لئے متعین نہیں، بلکہ اس کے جواز و عدم جواز کا مدار استعمال کرنے والوں کے مقصد کے تحت ہو، تو ایسی چیز کا بیچنا جائز ہے، بشرطیکہ بیچنے والا گناہ میں معاونت کی نیت نہ کرے، پھر اگر خریدنے والا انہیں ناجائز طور پر استعمال کرے، تو یہ اس کا اپنا فعل ہو گا، البتہ اگر بیچنے والا بھی گناہ میں تعاون کا ارادہ کر لے، تو ظاہر ہے نیتِ فاسد کی وجہ سے یہ بھی گناہ گار ہو گا۔ نیز اگر کسی کے بارے میں علم ہو کہ وہ ان ادویات کو ناجائز طور پر ہی استعمال کرے گا، تو ایسے شخص کو بیچنا بھی جائز نہیں ہے کہ یہ بھی گناہ میں معاونت کی ایک صورت ہے اور گناہ میں معاونت جائز نہیں اور اس مسئلے کی نظیر افیون کی بیع مسئلہ ہے۔
مانعِ حمل دوا کا استعمال عزل کے حکم میں ہے۔ جیسا کہ فتاویٰ بحر العلوم میں ہے: ’’کنڈوم یا مانعِ حمل گولیاں یا ایسی تدابیر جس سے استقرارِ حمل نہ ہو، ہمارے نزدیک عزل ہی کے حکم میں ہیں۔‘‘ ( فتاوی بحر العلوم، جلد 2، صفحہ 607، مطبوعہ شبیر برادرز، لاھور)
اور عزل کے متعلق صحیح مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: ’’قال: كنا نعزل على عهد رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم فبلغ ذلك نبي اللہ صلى اللہ عليه و سلم فلم ينهنا‘‘ ترجمہ: آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانۂ اقدس میں عزل کیا کرتے تھے، تو یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی، تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں منع نہ فرمایا۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب حکم العزل، جلد 2، صفحہ 1065، مطبوعہ بیروت)
البتہ تنگیٔ رزق کے خوف سے برتھ کنٹرول کے اسباب اپنانا تعلیماتِ قرآنیہ کے خلاف ہے۔ جیسا کہ مفلسی کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنے کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ لَا تَقْتُلُـوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍؕ- نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْؕ- اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے ہم ہم تمھیں بھی اور انہیں بھی روزی دیں گے، بیشک ان کا قتل بڑی خطا ہے۔‘‘ (پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت 31)
فتاوی بحر العلوم میں رزق کی تنگی وغیرہ اعذار کے پیشِ نظر عزل اور مانع حمل ادویات کے استعمال کے متعلق سوال ہوا، تو ارشاد فرمایا: ’’(کفار) عرب کے ماحول کے پیشِ نظر اور زندگی کی آسائشوں کے نایابی کے پیشِ نظر آبادی پر کنٹرول کرنے کے خیال سے اپنی قوم کے بچوں کو زندہ در گور کر دیا کرتے تھے۔ قرآن عظیم میں ان کے اس غلط تصور کی تردید کی گئی ہے: ﴿وَ لَا تَقْتُلُـوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍؕ- نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْؕ- اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا﴾ اپنے بچوں کو تنگی رزق کے ڈر سے قتل نہ کرو، رزق کے کفیل تم نہیں ہو، ہم ہیں، تو جو شخص روزی، کپڑا، مکان کی تنگی کے خیال سے آبادی کے کنٹرول کے حق میں ہے، وہ بر خود غلط۔ ۔ ۔ (اور اگر) مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ کو مانیں اور عالم کا نگہداشت اور اس کے رزق کا کفیل پرودگار کو جانے اور عالم اسباب میں ان اسباب و ذرائع کو محض انسانی تدبیر تصور کریں، جو اس کے حکمِ تقدیر کے تابع ہیں اور ضبطِ تولید کے جائز طریقے اختیار کریں، تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ ایک مباح فعل ہے۔‘‘ (فتاوی بحر العلوم، جلد 2، صفحہ 606، شبیر برادرز، لاہور)
جو چیز معصیت کے لئے متعین نہیں، بلکہ اس کے جواز و عدم جواز کا مدار استعمال کرنے والوں پر ہو، اسے بیچنا جائز ہے، بشرطیکہ معصیت میں تعاون کی صورت نہ بنے۔ جیسا کہ افیون بیچنے کے متعلق امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا، تو جواباً ارشاد فرمایا: ’’افیون نشہ کی حدتک کھانا حرام ہے اور اسے بیرونی علاج مثلاً ضماد وطلاء میں استعمال کرنا یاخوردنی معجونوں میں اتنا قلیل حصہ داخل کرنا کہ روز کی قدر شربت نشے کی حدتک نہ پہنچے، توجائزہے اور جب وہ معصیت کے لئے متعین نہیں، تو اس کے بیچنے میں حرج نہیں مگر اس کے ہاتھ جس کی نسبت معلوم ہوکہ نشہ کی غرض سے کھانے یاپینے کولیتاہے، لان المعصیۃ تقوم بعینھا فکان کبیع السلاح من اھل الفتنۃ، کیونکہ معصیت اس کے عین کے ساتھ قائم ہے، تو اس کا معاملہ اہل فتنہ کو ہتھیار بیچنے کی طرح ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 574، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی امجدیہ میں ہے: ’’افیون کا کھانا ناجائز، مگر جبکہ دوا میں اتنی قلیل ملائی گئی کہ اس دوا کے کھانے سے حواس پر اثر نہ ہو، تو جائز ہے ۔ ۔ لہذا اس کی بیع و شراء (خرید و فروخت) جائز ہے، البتہ اسکی بیع ایسے شخص سے کرنا جو اسے ناجائز طور پر کھاتا ہو، ممنوع ہے کہ معصیت (گناہ) پر اعانت (مدد کرنا) ہے۔‘‘ (فتاوی امجدیہ، جلد 2، حصہ 3، صفحہ 182 تا 183، دار العلوم امجدیہ، کراچی)
وقار الفتاوی میں ہے: ’’مانع حمل دواؤں کو فروخت کرنا، جائز ہے۔‘‘ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 122، بزم وقار الدین، کراچی)
اور گناہ میں کسی طرح کی معاونت بھی گناہ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ- اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرواور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔‘‘ (پارہ 6، سورۃ المائدہ، آیت 2)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Pin-6820
تاریخ اجراء: 30 محرم الحرام 1443ھ / 08 ستمبر 2021ء