چوری کی چیز خریدنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
چوری کی چیز خرید لی تو اب کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
چوری کرنا، ناجائز و حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اس کے متعلق احادیث میں بہت وعیدیں آئی ہیں اور اگر کسی شخص کے بارے میں معلوم ہو جائے کہ اس نے چوری کی ہے،تو حسبِ استطاعت اسے حکمِ شرع سے آگاہ کرتے ہوئے توبہ کے ساتھ وہ مال مالک کو واپس دینے کی ترغیب دے، اور اگر کسی طرح منع نہ کر سکے، تو کم از کم دل میں ضرور برا جانے، لیکن اس کے بجائے جان بوجھ کر وہ چیز خرید لینا سخت ناجائز و گناہ ہے، حدیث پاک میں ایسے شخص کو چور کے عیب اور گنا ہ میں برابر کا شریک ٹھہرایا گیا ہے۔
بہر حال پوچھی گئی صورت کے مطابق زید وہ ہیلمٹ اگرچہ خرید چکا ہے، لیکن پھر بھی اسے استعمال کرنا ، جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بیع (خرید و فروخت) باطل ہونے کی وجہ سے زید ہیلمٹ کا مالک نہیں ہوا، بلکہ وہ اصل مالک کی ملکیت پر باقی ہے، اب زید کے لئے حکم یہ ہے کہ سچے دل سے اپنے عمل سے توبہ کرے اور اصل مالک کا علم ہونے کی صورت میں ہیلمٹ اسے واپس کرے، اور اگر مالک نہیں ہے، تو پھر اس کے ورثاء کو دیدے اور ورثاء کا بھی علم نہ ہو، تو مالک کی طرف سے شرعی فقراء کو دیدے اور چوری کا ہیلمٹ بیچنے والا شخص جب کبھی ملے، تو اس سے ہیلمٹ کی ادا کردہ قیمت واپس لے لے۔ بالترتیب مالک / ورثاء یا شرعی فقراء کو دینے سے پہلے یا بعد میں جب بھی ہیلمٹ بیچنے والا وہ شخص ملے، تو زید اس سے ہیلمٹ کی ادا کردہ قیمت واپس لے سکتا ہے۔
قیمت واپس لینے کی وجہ یہ ہے کہ چوری کرنے والا شخص غاصب کے حکم میں ہوتا ہے، اور غاصب نے مغصوبہ چیز کسی کو بیچ دی، تو خریدنے والا غاصب الغاصب کہلاتا ہے۔ اب مالک چاہے تو غاصب سے تاوان وصول کرے اور چاہے تو غاصب الغاصب سے۔ اگر غاصب سے وصول کیا، تو یہ بیع نافذ ہو جائے گی اور مغصوبہ چیز کے ثمن کا حقدار غاصب کہلائے گا اور اگر مشتری سے وصول کرے، تو مشتری مغصوبہ چیز کی ادا کردہ قیمت بائع سے واپس لے سکتا ہے۔ یہاں مالک / ورثاء یا شرعی فقراء کو دینے کے بعد رجوع کرنا تو واضح ہے کہ جب مالک کی طرف سے صدقہ کر دیا، تو گویا اس چیز کو (حکمی طور پر) مالک تک پہنچا دیا، اب بلا شبہ چور سے اپنی رقم وصول کر سکتا ہے اور صدقہ کرنے سے قبل بھی رجوع کرنے میں ممانعت کی کوئی وجہ نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی چیز اور اس کا بدل دونوں بیک وقت ایک شخص کی ملکیت میں جمع نہیں ہوسکتے، تو یہاں ایسا بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ بیع منعقد نہ ہونے کی وجہ سے چیز مشتری کی ملکیت میں داخل ہی نہیں ہوئی، لہذا بدل اور مبدل بیک وقت ایک شخص کی ملکیت میں جمع ہونا قرار نہیں پائیں گے۔
چوری کرنے والے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’لا يسرق السارق حين يسرق وهو مؤمن‘‘ ترجمہ: چور چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا (یعنی ایمان کی حلاوت سے محروم ہو جاتا ہے)۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان نقصان الایمان، جلد 1، صفحہ 55، مطبوعہ کراچی)
برائی کرنے والے کو حسبِ استطاعت منع کیا جائے گا، ورنہ دل میں ضرور برا جانیں گے۔ چنانچہ سنن ابی داؤد میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’من راى منكرا فاستطاع ان يغيره بيده فليغيره بيده، فان لم يستطع فبلسانه، فان لم يستطع فبقلبه، وذلك اضعف الايمان‘‘ ترجمہ: جب تم میں سے کوئی برائی دیکھے، تو حسب استطاعت اسکو اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی استطاعت نہیں تو زبان سے روکے اور اگر اسکی بھی استطاعت نہیں، تو دل میں ضرور برا جانےاور یہ ایمان کا ادنی درجہ ہے۔ (سنن ابی داؤد، تفریع ابواب الجمعۃ، باب الخطبۃ یوم العید، جلد 1، صفحہ 169، مطبوعہ کراچی(
چوری کا مال خریدنے والا چور کے گناہ میں برابر کا شریک ہے۔ چنانچہ شعب الایمان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: ’’من اشترى سرقة وهو يعلم انها سرقة فقد اشترك في عارها و اثمها‘‘ ترجمہ: جس نے جانتے ہوئے چوری کی چیز خریدی تو وہ بھی اس کی شرمندگی اور گناہ میں برابر کا شریک ہے۔ (شعب الایمان، جلد 7، صفحہ 351، مطبوعہ ریاض)
چوری کی چیز کا حقدار اصل مالک ہی ہے، اسے واپس ملے گی اور مشتری بائع سے ثمن واپس لے گا۔ چنانچہ مسند احمد بن حنبل، شرح معانی الآثار، معجم کبیر للطبرانی اور سنن ابن ماجہ میں حضرت سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ، فرماتے ہیں: و اللفظ للاول: ’’اذا ضاع للرجل متاع او سرق له متاع، فوجده فی يد رجل بعینه،فهو احق به و يرجع المشتری على البائع بالثمن‘‘ ترجمہ: جب کسی شخص کا سامان ضائع یا چوری ہو گیا،پھر اس نے وہی مال کسی شخص کے ہاتھ میں دیکھا، تو وہی (یعنی مالک ہی) اس مال کا زیادہ حق دار ہے اور مشتری بائع پر ثمن کے ساتھ رجوع کرے گا۔ (مسند احمد بن حنبل،جلد33،صفحہ 322، مطبوعہ بیروت)
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے: ’’و اذا ملک السارق المسروق من رجل ببیع او ھبۃ او ما اشبہ ذلک و کان ذلک قبل القطع او بعدہ فتملیکہ باطل و یرد المسروق علی المسروق منہ و یرجع المشتری علی السارق بالثمن الذی دفع الیہ‘‘ ترجمہ: جب چور نے مسروقہ چیز کا کسی کو بیع اور ہبہ وغیرہ کے ذریعہ مالک بنا دیا اور یہ معاملہ ہاتھ کاٹنے سے پہلے ہو یا بعد، بہر صورت یہ تملیک باطل ہے اور مسروقہ چیز اصل مالک کو واپس کی جائے گی اور مشتری نے چور کو جو ثمن دیا تھا وہ اس سے واپس لے گا۔ (فتاوی تاتارخانیہ، کتاب السرقۃ، جلد 5، صفحہ 137، مطبوعہ کراچی)
چوری کی چیز مالک کو، وہ نہ ہو، تو ورثاء کو دی جائے گی، ورنہ فقراء کو، بہر حال ذاتی استعمال حرام ہے۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’چوری کا مال دانستہ خریدنا حرام ہے، بلکہ اگر معلوم نہ ہو مظنون ہو ،جب بھی حرام ہے۔ مثلاً: کوئی جاہل شخص، اس کے مورثین بھی جاہل تھے، کوئی علمی کتاب بیچنے کو لائے اور اپنی ملک بتائے، اس کے خریدنے کی اجازت نہیں اور اگر نہ معلوم ہے، نہ کوئی واضح قرینہ، تو خریداری جائز ہے۔ پھر اگر ثابت ہوجائے کہ یہ چوری کا مال ہے، تو اس کا استعمال حرام ہے، بلکہ مالک کو دیا جائے اور وہ نہ ہو، تو اس کے وارثوں کو اور ان کا بھی پتہ نہ چل سکے،تو فقراء کو۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 165، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
جو مال چوری سے حاصل کیا ہو، اس کا حکم غصب والا ہے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: ’’جومال رشوت یاتغنی یاچوری سے حاصل کیا اس پرفرض ہے کہ جس جس سے لیا اُن پر واپس کردے، وہ نہ رہے ہوں اُن کے ورثہ کو دے، پتا نہ چلے تو فقیروں پرتصدق کرے، خرید و فروخت کسی کام میں اُس مال کالگانا حرام قطعی ہے، بغیر صورت مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وبال سے سبکدوشی کانہیں، ۔ ۔ ۔ و ذٰلک لان الحرمۃ فی الرشوۃ وامثالھا لعدم الملک اصلا فھو عندہ کالمغصوب فیجب الرد علی المالک او ورثتہ ما امکن ۔ ۔ الخ (ترجمہ): یہ اس لئے کہ رشوت اور اس جیسے مال میں ملکیت بالکل نہ ہونے کی وجہ سے حرمت ہے لہٰذا وہ مال رشوت لینے والے کے پاس غصب شدہ مال کی طرح ہے لہٰذا ضروری ہے کہ جس حد تک ممکن ہو وہ مال اس کے مالک یا اس کے ورثاء کو لوٹادیاجائے پس ایساکرنا واجب ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 551، رضا فاؤنڈیشن، لاہور(
غاصب سے چیز خریدنے والا بھی غاصب کے حکم میں ہوتا ہے۔ چنانچہ مبسوط سرخسی میں ہے: ’’ان المشتري من الغاصب غاصب كالاول‘‘ ترجمہ: غاصب سے مغصوبہ چیز خریدنے والا بھی پہلے والے کی طرح غاصب کے حکم میں ہے۔‘‘ (مبسوط سرخسی، جلد 13، صفحہ 150، مطبوعہ بیروت)
غاصب نے مغصوبہ چیز بیچ ڈالی، تو تاوان کے متعلق فتاوی عالمگیر ی میں ہے: ’’لو باعه الغاصب وسلمه فالمالك بالخيار ان شاء ضمن الغاصب و جاز بيعه، و الثمن له وإن ضمن المشتري رجع على الغاصب و بطل البيع‘‘ ترجمہ: اگر غاصب نے مغصوبہ چیز بیچ دی اور مشتری کے حوالے کر دی، تو مالک کو اختیار ہے کہ چاہے تو غاصب سے ضمان لے، غاصب سے ضمان لے گا، تو بیع درست ہو جائےگی اور ثمن کا حقدار وہی کہلائے گا اور اگر چاہے تو مشتری سے ضمان لے، اس صورت میں بیع باطل ہو جائے گی اور وہ غاصب سے ثمن واپس لے گا۔‘‘ (فتاوی عالمگیری، جلد 5، صفحہ 147، مطبوعہ بیروت(
مالک نہ ملے، تو چیز کو مالک کی طرف سے صدقہ کرنا گویا اسے مالک تک پہنچانا ہے۔ جیسا کہ ڈھول باجے اور نوحے کی کمائی کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’عن محمد رحمه اللہ تعالى في امراة نائحة او صاحب طبل او مزمار اكتسب مالا، ۔ ۔ فكان الاخذ معصية و السبيل في المعاصي ردها و ذلك هاهنا برد الماخوذ ان تمكن من رده بان عرف صاحبه و بالتصدق به ان لم يعرفه ليصل اليه نفع ماله ان كان لا يصل إليه عين ماله‘‘ ترجمہ: امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ نوحہ کرنے والی عورت، ڈھول یا مزامیز بجانے والے کی کمائی کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: (ان کاموں کے بدلے جو حاصل ہوا) یہ لینا گناہ ہے، اور اس کے ازالے کی صورت واپس کرنا ہے،یوں کہ اگر دینے والے کو جانتا ہے تو عین کو واپس کر کے، اور اگر نہیں جانتا اور عین مالک تک نہیں پہنچا سکتا، تو صدقہ کر کے تاکہ اس مال کا نفع مالک تک پہنچ جائے۔‘‘ (فتاوی عالمگیری، جلد 5، صفحہ 349، مطبوعہ بیروت)
ایک شخص کی ملک میں بدل و مبدل جمع نہیں ہو سکتے۔ درر الحکام میں ہے: ’’لا یجمع البدل والمبدل في ملك شخص واحد‘‘ ترجمہ: بدل اور مبدل ایک شخص کی ملک میں جمع نہیں کیا جائے گا۔‘‘ (درر الحکام، کتاب الغصب، جلد 2، صفحہ 267، مطبوعہ بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتوی نمبر:Pin-6771
تاریخ اجراء: 02ذو الحجۃ الحرام 1442ھ / 13 جولائی 2021ء