رینڈم انٹرنیٹ آفر لینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کمپنی سے انٹرنیٹ ایم بی خریدنے کی ایک ناجائز صورت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ صارف ایپ میں جا کر مطلوبہ پیکج کو سلیکٹ کرے گا۔ اس کے سلیکٹ کرتے ہی موبائل اسکرین پر اس کے سامنے سات خانے ظاہر ہوں گے۔ ان خانوں میں انٹر نیٹ ایم بیز کی مختلف مقداریں ہوگی۔ کسی میں دس، کسی میں پچاس، کسی میں سو وغیرہ وغیرہ اور آخری حد پانچ سو ایم بیز کی ہوتی ہے لیکن ان خانوں میں کچھ نظر نہیں آتا، جس کی وجہ سے صارف کو نہیں پتا ہوتا کہ کونسے خانے میں کتنے ایم بیز پوشیدہ ہیں۔ صارف کوصرف ایک خانہ کلک کرناہے، اس میں جتنے ایم بیز ہوں گے،وہ اسے مل جائیں گے، اوراس کلک کرنے سے ہی اس کے اکاؤنٹ سے ایک روپیہ اس کی قیمت اورسولہ پیسے ٹیکس کٹ جائے گا۔ واضح رہے کہ ان خانوں میں سے کوئی بھی خانہ خالی نہیں ہوتا، سب میں کچھ نہ کچھ ایم بیز ضرور ہوتی ہیں۔جو کم از کم دس ایم بیز اور زیادہ سے زیادہ پانچ سو ایم بیز تک ہوسکتی ہیں، نیز ایک روپیہ سولہ پیسے کے ذریعے اس پیکج میں ملنے والے کم از کم نیٹ کی مقدار دس ایم بیز ہے جبکہ اگر بغیر پیکج کے دس ایم بیز لیے جائیں تو وہ ایک روپیہ سولہ پیسے سے زیادہ مہنگی ہوتی ہیں۔ عرض یہ ہے کہ یہاں صارف ایک روپیہ جمع ٹیکس (ایک روپیہ سولہ پیسے) ادا کر رہا ہے اور اس کے بدلے میں صارف کوکچھ ایم بیز مل رہی ہیں لیکن ان کی مقداراسے معلوم نہیں ۔کیا اس طرح انٹر نیٹ کے ایم بیز لینا درست ہے؟
جواب
عند الشرع مذکورہ طریقے سے انٹرنیٹ ایم بیز لینا ناجائز و گناہ ہے۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ ایک روپیہ سولہ پیسے کے عوض انٹر نیٹ کی سہولت دینا شرعی طور پرعقدِا جارہ ہے اور جن چیزوں سے بیع فاسد ہوتی ہے، ان سے عقداجارہ بھی فاسد ہوجاتا ہے اور مذکورہ صورت میں عقد کو مخصوص رقم کے عوض موبائل اسکرین پر ظاہر ہونے والے خانوں میں سے کسی ایک خانے کےچھونے پر موقوف کیا گیا ہے کہ جب کسی ایک خانے پر کلک کیا تو عقد مکمل ہوگیا اور اب دیکھ کر رد کرنے کا اختیار نہیں ہوگا اس میں جتنی بھی مقدارہوگی وہ لینی ہی پڑے گی تو اس میں تملیک کوخطر پرمعلق کیاگیا ہے اور اس میں جہالت بھی ہے اور ان چیزوں سے عقد فاسد ہوجاتا ہے جیسا کہ بیع ملامسہ (ایسی بیع جو محض مشتری کے سامان چھونے سے نافذ کردی جائے اوردیکھ کر رد کرنے کا اختیاربھی باقی نہ رہے، اس) میں ہوتا ہے جو کہ فاسد و ناجائز ہے اورفقہائے کرام نے اس کے فساد اور عدم جواز کی وجوہات میں تعلیق علی الخطر اورجہالت کو بیان کیا ہے۔ رقم کے بدلے میں انٹر نیٹ کے کچھ ایم بیز استعمال کرنے کی سہولت دینا یہ عقد اجارہ ہے چنانچہ تنویر الابصار میں ہےھی تملیک نفع بعوض ترجمہ: اجارہ عوض کے ساتھ منفعت کو بیچنا ہے۔ (تنویر الابصارمع الدر المختار و رد المحتار، ج 9، ص 4، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
جن شرائط سے عقدِ بیع فاسد ہوتا ہے، وہ عقدِاجارہ کو بھی فاسد کردیتی ہیں چنانچہ درمختار میں ہے: تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع يفسدهاترجمہ: عقد کے مخالف شرائط سے اجارہ فاسد ہوجاتاہے اور جو شرط بیع کو فاسد کرتی ہے وہ اجارہ کوبھی فاسدکرتی ہے۔ (درمختار، کتاب الاجارۃ، باب الاجارۃ الفاسد، جلد 6، صفحہ 46، دار الفكر، بيروت(
بیع ملامسہ کے فساد وعدم جواز اس کی علت پر کلام کرتے ہوئے ہدایہ میں لکھا ہے (و لا يجوز البيع بإلقاء الحجر و الملامسة و المنابذة). ۔ ۔ ۔ ۔ «و قد نهى - عليه الصلاة و السلام - عن بيع الملامسة والمنابذة» و لأن فيه تعليقا بالخطر ترجمہ: پتھر ڈالنے کے ساتھ اور باہم چھونے اورپھینکنے کے ساتھ بیع کرنا، جائز نہیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے باہم چھونے اورپھینکنے کے ساتھ بیع سے منع فرمایا ہے اور اس میں خطر پر معلق کرنا بھی ہے۔
اس کے تحت فتح القدیرمیں ہے زاد مسلم: أما الملامسة فأن يلمس كل منهما ثوب صاحبه بغير تأمل فيلزم اللامس البيع من غير خيار له عند الرؤية، وهذا بأن يكون مثلا في ظلمة أو يكون مطويا مرئيا متفقان على أنه إذا لمسه فقد باعه وفساده لتعليق التمليك على أنه متى لمسه وجب البيع وسقط خيار المجلس. و المنابذة أن ينبذ كل واحد منهما ثوبه إلى الآخر ولم ينظر كل واحد منهما إلى ثوب صاحبه على جعل النبذ بيعا، وهذه كانت بيوعا يتعارفونها في الجاهلية، و كذا إلقاء الحجر أن يلقي حصاة وثمة أثواب فأي ثوب وقع عليه كان المبيع بلا تأمل وروية ولا خيار بعد ذلك ۔ ۔ ۔ و معنى النهي ما في كل من الجهالة و تعليق التمليك بالخطر فإنه في معنى إذا وقع حجري على ثوب فقد بعته منك أو بعتنيه بكذا أو إذا لمسته أو نبذته ترجمہ: امام مسلم نے یہ اضافہ فرمایا ہے کہ: ملامسہ کی صورت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے کپڑے کو بغیر غور و فکر کیے چھولے تو چھونے والے پر بیع لازم ہوجائے گی اور دیکھنے کے وقت اسے اختیارنہیں ملے گا اور اس کی صورت یوں ہے کہ کپڑا مثلا اندھیرے میں ہو یا لپٹا ہوا ہو اور وہ دونوں اس پرمتفق ہوں کہ جب وہ اس کو چھولے تو اس نے وہ اسے بیچ دیا اور اس کا فساد اس وجہ سے ہے کہ تملیک کو اس پر معلق کیا جا رہا ہے کہ جب اس کو چھولے گاتو بیع لازم ہوجائے گی اور خیار مجلس ساقط ہوجائے گا اور منابذہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر کوئی اپنا کپڑا دوسرے کی طرف ڈالے اور ڈالنے سے ہی بیع ہوجائے گی اور کسی نے دوسرے کے کپڑے کو نہیں دیکھا اور یہ بیوعات، زمانۂ جاہلیت میں متعارف تھیں اور اسی طرح پتھر ڈالنا ہے کہ کنکرڈالے اور وہاں کئی کپڑے ہوں تو جس کپڑے پر کنکر پڑے وہ مبیع بن جائے گا بغیر دیکھے اور غور و فکر کیے اور اس کے بعدخیاربھی نہیں ہوگا۔ اور ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ان میں ہر ایک میں جہالت ہے اور تملیک کو خطر پر معلق کرنا ہے کیونکہ یہ اس معنی میں ہے کہ: جب میرا پتھر کسی کپڑے پر گر گیا تو میں نے اسے تیرے ہاتھ بیچ دیا، یا میں نے اسے اتنے میں تجھ سے خرید لیا یا جب میں اسے چھولوں یا اسے پھینک دوں۔ (الہدایۃ مع فتح القدیر، باب البیع الفاسد، ج 06، ص 417، دار الفکر، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-0652
تاریخ اجراء: 28 ربیع الثانی 1444ھ / 24 نومبر 2022ء