دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے میرے دوست نے اپنا موبائل بیچنے کے لیے دیا اور مجھ سے کہا کہ اسے 35 ہزار تک فروخت کر دو، میں نے وہ موبائل 37 ہزار میں بیچ دیا، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا میرا دوست کی بتائی ہوئی رقم سے زیادہ میں موبائل فروخت کرنا جائز تھا یا نہیں؟نیز میں یہ اضافی دو ہزار خود رکھنا چاہتا ہوں، کیا میں یہ رکھ سکتا ہوں یا نہیں؟
نوٹ: یاد رہے کہ میں نے یہ کام بطورِ کمیشن ایجنٹ نہیں، بلکہ بلا معاوضہ کیا ہے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
صورتِ مسئولہ میں آپ کا دوست کی بتائی ہوئی قیمت سے زائد میں موبائل بیچنا جائز تھا، لیکن اضافی دو ہزار روپے اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، بلکہ آپ اپنے دوست کو موبائل کی مکمل رقم ادا کرنے کے پابند ہیں، کیونکہ تمام رقم کا حقدار وہی ہے۔
وکیل بالبیع کا مؤکل کی بتائی ہوئی رقم کی زیادتی کے ساتھ چیز بیچنا، جائز ہے اور یہ اس کی شرط کی خلاف ورزی نہیں، جیساکہ مبسوط سرخسی میں ہے:
”الوكيل بالبيع بألف إذا باع بألفين۔۔۔إذا حصل مقصود الآمر وزاد خيرا لم يكن تصرفه خلافا“
ترجمہ: جس شخص کو کسی چیز کا ایک ہزار میں فروخت کرنے کا وکیل بنایا گیا، پھر اس نے وہ چیز دو ہزار میں بیچ دی، (تو یہ جائز ہے)۔۔۔ کیونکہ اس سے مؤکل کا مقصود پورا ہو گیا اور اس کے نفع میں زیادتی ہوئی، لہٰذا وکیل کا یہ تصرف خلافِ حکم نہیں۔ (مبسوط للسرخسی، جلد19، صفحہ 134، مطبعۃ السعادہ، مصر )
وکیل بالبیع کے خلافِ شرط عمل کے صحیح ہونے کی جوازی صورت اور اس کی علت کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے:
”فالتوكيل بالبيع لا يخلو إما أن يكون مطلقا، وإما أن يكون مقيدا، فإن كان مقيدا يراعى فيه القيد بالإجماع، حتى إنه إذا خالف قيده لا ينفذ على الموكل۔۔۔وإن كان الخلاف إلى خير فإنما نفذ؛ لأنه إن كان خلافا صورة فهو وفاق معنى؛ لأنه آمر به دلالة“
ترجمہ: جس كو خریدو فروخت کا وکیل بناياگیا ہو، وہ دو حال سے خالی نہیں ہوگا، یا تو اسے مطلقا بغیر کسی شرط کے وکیل بنایا گیا ہو گا یا کچھ شرائط کے ساتھ۔ اگر وکیل بالبیع کے لیے شرائط لگائی گئی ہوں، تو بالاتفاق ان شرائط و قیودات کو ملحوظ رکھنا ضروری ہو گا، حتی کہ اگر کسی نے ان کی مخالفت کی، تو مؤکل کی جانب سے بیع نافذ نہیں ہو گی ۔۔۔لیکن اگر شرائط کی خلاف ورزی کرنے میں مؤکل کا فائدہ ہو، تو بیع نافذ ہو جائے گی، کیونکہ اگرچہ حقیقت میں یہ مؤکل کی خلاف ورزی ہے، لیکن معنوی طور پر اس کی موافقت ہی کہلائے گی، کیونکہ وہ دلالتاً اسی کا حکم دینے والا ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد6، صفحہ 27، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
وکیل نے مؤکل کی بتائی ہوئی رقم سے زیادہ میں چیز فروخت کر دی، تو تمام قیمت مؤکل کی ہو گی، جیسا کہ مجمع الضمانات میں ہے:
” لو وكله ببيع عبده بألف فباعه بألفين فالألفان كله للموكل“
ترجمہ: اگر کسی شخص کو ایک ہزار میں غلام بیچنے کا وکیل بنایا، پھر اس نے غلام کو دو ہزار میں فروخت کر دیا، تو یہ مکمل دو ہزار مؤکل کے ہوں گے۔ (مجمع الضمانات، جلد 1، صفحہ 261، مطبوعہ دارالکتاب الاسلامی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر:FSD-9579
تاریخ اجراء: 01جمادی الاولیٰ 1447ھ/24اکتوبر 2025 ء