logo logo
AI Search

کچرے سے پلاسٹک کی بوتل اٹھا کر بیچنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کچرے یا سڑک کنارے پڑی پلاسٹک کی بوتل اٹھا کر بیچنا یا استعمال میں لا نا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کیا کچرے میں یا سڑک کے کنارے پڑی، پلاسٹک کی بوتل وغیرہ اٹھا کر ان کو اپنے استعمال میں لانا یا بیچنا درست ہے؟

جواب

کچرے میں یا سڑک کے کنارے پڑی پلاسٹک کی بوتل وغیرہ اٹھا کر بیچنا یا اپنے استعمال میں لانا جائز ہے؛ کیونکہ ایسی اشیا کو استعمال کرنے کے بعد پھینک دیا جاتا ہے، جو ان کے مباح کرنے کی دلیل ہے کہ جو چاہے اٹھا لے۔ نیز فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ ایسی اشیا، جن کے بارے میں معلوم ہے کہ مالک اسے تلاش نہیں کرے گا، اسے اٹھانا اور استعمال میں لانا جائز ہے۔

چنانچہ مجمع الانہر میں ہے (و إن كانت) اللقطة (حقيرة) بحيث يعلم أن صاحبها لا يطلبها (كالنوى و قشور الرمان) و البطيخ في مواضع متفرقة (و السنبل بعد الحصاد ينتفع بها بدون تعريف) لأن إلقاءها إباحة للأخذ دلالة" ترجمہ: اور اگر لقطہ (گری ہوئی چیز) حقیر اور معمولی ہو، اس طرح کہ معلوم ہو کہ اس کا مالک اسے تلاش نہیں کرے گا، جیسے کھجور کی گٹھلیاں، انار اور تربوز کے چھلکے جو مختلف جگہوں پر پڑے ہوں، اور کٹائی کے بعد کھیت میں رہ جانے والی بالیاں، تو اعلان کیے بغیر ایسی چیزوں سے فائدہ اٹھانا جائز ہے؛ کیونکہ ان کا پھینک دینا دلالۃ انہیں اٹھا لینے کی اجازت (اباحت) ہے۔ (مجمع الأنهر، جلد 1، صفحہ 530، مطبوعہ: کوئٹہ)

اور فتاوی عالمگیری میں ہے "ثم ما يجده الرجل نوعان: نوع يعلم أن صاحبه لا يطلبه ،كالنوى في مواضع متفرقة و قشور الرمان في مواضع متفرقة، وفي هذا الوجه له أن يأخذها وينتفع" ترجمہ: پھر آدمی کو جو چیز ملتی ہے، وہ دو قسم کی ہوتی ہے: ایک وہ جس کے بارے میں معلوم ہو کہ اس کا مالک اسے تلاش نہیں کرے گا، جیسے مختلف جگہوں پر پڑی ہوئی کھجور کی گٹھلیاں اور مختلف جگہوں پر پڑے ہوئے انار کے چھلکے، اس صورت میں اس کے لیے جائز ہے کہ وہ انہیں اٹھا لے اور ان سے فائدہ اٹھائے۔ (فتاوى عالمگیری، جلد 2، صفحہ 290، مطبوعہ: کوئٹہ)

ردالمحتار میں ہے "بخلاف النوی اذاوجدمتفرقاولہ قیمۃ فیجوزاخذہ ،لأنه مما يرمى عادة فيصير بمنزلة المباح" ترجمہ: برخلاف کھجورکی گٹھلی کے، کہ جب بکھری ہوئی ملے، اور اس کی کوئی قیمت ہو، تو اس کواٹھا لیناجائزہے، کیونکہ یہ ان اشیامیں سے ہے، جن کو عموما پھینک دیا جاتا ہے، تو یہ مباح کے درجےمیں ہوجائے گی۔ (رد المحتارمع الدر المختار، جلد 6، صفحہ 435، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہےکوئی ایسی چیز پائی جو بے قیمت ہے جیسے کھجور کی گٹھلی انار کا چھلکا ایسی اشیاء ميں اعلان کی حاجت نہیں کیونکہ معلوم ہوتا ہے اِسے چھوڑدینا اباحت ہے کہ جو چاہے لے لے اور اپنے کام ميں لائے۔ (بہار شریعت،جلد 2، حصہ 10، صفحہ 477، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی فتوی نمبر: WAT-5162 تاریخ اجراء: 22 محرم الحرام 1448ھ / 08 جولائی 2026ء