کیا مضارب مال مضاربت کی کوئی چیز خرید سکتا ہے؟

مضارب کا مال مضاربت کی کوئی چیز اپنے لیے خریدنا

دارالافتاء اہلسنت عوت اسلامی)

سوال

مضارب نے 50 ہزار کا ایک لیپ ٹاپ خریدا، لیکن وہ آگے سیل (Sale) نہیں ہو سکا، کیا مضارب وہ لیپ ٹاپ 55 ہزار میں خرید سکتا ہے، جبکہ مضاربت کی مدت جاری ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مضارب کے لیے مالِ مضاربت سے خریدا ہوا لیپ ٹاپ خود کو ہی فروخت کرنا درست نہیں ہے کہ ایک ہی شخص کا بیک وقت فروخت کرنے والا اور خریدنے والا، دونوں بننا، لازم آتا ہے، جو کہ درست نہیں۔

المبسوط للسرخسی میں ہے

”وإذا اشترى المضارب بمال المضاربة جارية ثم أشهد بعد ذلك أنه اشتراها لنفسه شراء مستقلا بمثل ذلك المال أو بربح، وكان رب المال أذن له أن يعمل فيه برأيه، أو لم يأذن فإن شراءه لنفسه باطل، ولا ينبغي له أن يطأها وهي على المضاربة على حالها؛ لأنه يشتري من نفسه لنفسه وأحد لا يملك ذلك غير الأب في حق ولده الصغير“

 ترجمہ: اور جب مضارب، مالِ مضاربت سے کوئی لونڈی خریدے، پھر اس کے بعد اس پر گواہ بنائے کہ اس نے وہ لونڈی مستقل طور پر اتنے ہی مال کے بدلے یا نفع کے بدلے اپنے لئے خرید لی ہے، تو اس کا اپنے لیے خریدنا باطل ہے، چاہے رب المال نے اسے اپنی رائے سے عمل کرنے کی اجازت دی ہو یا نہ دی ہو، اور اسے اس لونڈی سے وطی نہیں کرنی چاہیے، جبکہ وہ لونڈی اپنی حالت پر مضاربت ہی پر باقی ہو، کیونکہ وہ اپنے آپ سے اپنے ہی لیے خریدتا ہے، اور کوئی شخص اس کا مالک نہیں ہوتا، سوائے باپ کے اپنے چھوٹے بچے کے حق میں۔ (المبسوط للسرخسی، ج 22، ص 126، دار المعرفۃ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے” مضارِب نے مالِ مضارَبت سے کوئی چیز خریدی اس کے بعد گواہوں کے سامنے اُسی چیز کو اپنے لیے خریدتا ہے یہ نا جائز ہے اگرچہ رب المال نے کہہ دیا ہو کہ تم اپنی رائے سے کام کرنا۔“ (بہار شریعت، ج 3، حصہ 14، ص 13، مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی

فتوی نمبر:WAT-4571

تاریخ اجراء:03 رجب المرجب1447ھ/24دسمبر2025ء