logo logo
AI Search

Janwar Mein Investment Ka Sharai Tareeka Kya Hai ?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جانور میں انویسٹمنٹ کا شرعی طریقہ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں لوگ دوسروں کو پالنے کے لیے جانور دیتے ہیں اورطے یہ ہوتا ہے کہ جب اس جانور کے بچے ہوجائیں، تو وہ ان دونوں کے مشترک ہوں گے، یعنی آدھے آدھے تقسیم ہوں گے۔ یہ مسئلہ یہاں میں نے علماء سے پوچھا ہوا تھا، تو میں نے لوگوں کو بتایا کہ یہ ناجائز ہے، تو وہ سب مجھ سے تقاضا کررہے ہیں کہ ناجائز ہے، تو لکھا ہوا لے کر آؤ۔ نیز مفتی صاحب اگر اس میں کوئی جائز طریقہ ہے، تو وہ بھی بتادیں تاکہ اس کے مطابق عمل کریں؟

جواب

جانور کو پالنے کے لیے سوال میں مذکور طریقہ کار کے مطابق دینا، ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ جانور دونوں کا مشترک نہیں ہے، بلکہ جانور کا مالک ایک شخص، جبکہ پالنے والا، نگہداشت کرنے والا دوسرا شخص۔ شرعی اصولوں کے مطابق یہ اجارہ فاسدہ ہے اوراس صورت میں پالنے والے کو اپنی ملکیت سے کھلائے گئے چارے کی قیمت اور اجرت مثل (جو عموما اس طرح کے کام پراجرت دی جاتی ہے) ملے گی اورجتنے بچے پیدا ہوں گے، وہ سب جانور کا مالک لے گا۔

اس کے جائز ہونے کی صورت یہ ہے کہ جانور کا مالک جانور كا آدھا حصہ، پالنے والے شخص کو ایک معین رقم پر فروخت کردے اور رقم کی ادائیگی کی مدت طے کرلے مثلاً: جانورکا نصف دوسرے کو بیس ہزار روپے میں بیچ دیا اور بیس ہزار کی ادائیگی چھ مہینے بعد وہ کرے گا (اگر جانور کا مالک چاہے، تو اپنی مرضی سے یہ رقم بعد میں معاف بھی کرسکتا ہے) تو یوں جانور دونوں کے درمیان مشترک ہو جائے گا، اس صورت میں وہ جانور اور اس کے پیدا ہونے والے بچے سب دونوں کے درمیان مشترک ہوں گےاور یہ آدھے آدھے جانور تقسیم کرلیں گے، یہ طریقہ اختیار کرنے سے دونوں کا مقصود حاصل ہوجائے گا، جبکہ سوال میں مذکور طریقہ کار جو عموما رائج ہے، وہ ناجائز و گناہ ہے۔

فتح القدیرمیں ہے: ’’إذا دفع بقرة إلى آخر يعلفها ليكون الحادث بينهما بالنصف فالحادث كله لصاحب البقرة و له على صاحب البقرة ثمن العلف و أجر مثله، و على هذا إذا دفع الدجاج ليكون البيض بالنصف‘‘ ترجمہ: جب کوئی کسی کو گائے دے کہ وہ اسے پالے تاکہ جو بچے پیدا ہوں، وہ آپس میں برابر برابر تقسیم کرلیں، تو پیدا ہونے والے سارے بچے گائے کے مالک کے ہوں گے اورپالنے والے کو گائے کے چارے کی قیمت اور اس کے عمل کی اجرت مثل ملے گی اور اسی اصول پر یہ صورت ہے کہ جب کوئی مرغی دے اس طور پر کہ انڈے آدھے آدھے تقسیم کیے جائیں گے۔ (فتح القدیر، جلد 06، صفحہ 421، دار الفکر، بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے: ”دفع بقرۃ إلی رجل علی أن یعلفھا و ما یکون من اللبن و السمن بینھما أنصافا فالإجارۃ فاسدۃ و علی صاحب البقرۃ للرجل أجر قیامہ و قیمۃ علفہ إن علفھا من علف ھو ملکہ و الحیلۃ فی جوازہ أن یبیع نصف البقرۃ منہ بثمن و یبرئہ عنہ ثم یأمر بإتخاذ اللبن و المصل فیکون بینھما“ ترجمہ: ایک شخص نے دوسرے کو گائے اس طور پر دی کہ وہ گائے کو چارہ کھلائے گا اور جو دودھ اور گھی حاصل ہوگا وہ دونوں میں مشترک ہوگا، تو یہ اجارہ فاسده ہے، اس صورت میں گائے کے مالک پر اس کے رکھنے اور چارہ کھلانے کی اجرت دینا لازم ہو گا، جبکہ دیکھ بھال کرنے والا اپنی مِلک میں سے اس کو چارہ کھلائے ۔ ۔ ۔ اس کے جواز کا حیلہ یہ ہے کہ مالک اس شخص کو آدھی گائے کچھ ثمن کے بدلے بیچ دے اور اس کو ثمن سے بری کر دے، پھر اس شخص کو دودھ، گھی اور لسی وغیرہ حاصل کرنے کی اجازت دے دے، تو اس صورت میں وہ گائے دونوں میں مشترک ہو جائے گی۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 4، صفحہ 504، مطبوعہ کراچی)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: گائے، بھینس خرید کر دوسرے کو دیدتے ہیں کہ اسے کھلائے، پلائے، جو کچھ دودھ ہوگا، وہ دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا، یہ اجارہ بھی فاسد ہے۔ کُل دودھ مالک کا ہے اور دوسرے کو اس کے کام کی اجرتِ مثل ملے گی اور جو کچھ اپنے پاس سے کھلایا ہے، اس کی قیمت ملے گی اور گائے نے جو کچھ چرا ہے، اس کا کوئی معاوضہ نہیں اور دوسرے نے جو کچھ دودھ صرف کرلیا ہے، اتنا ہی دودھ مالک کو دے کہ دودھ مثلی چیز ہے۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 14، صفحہ 150، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اس کے جواز کا طریقہ بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: اس کے جواز کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ گائے، بکری، مرغی وغیرہ میں آدھی دوسرے کے ہاتھ بیچ ڈالیں، اب چونکہ ان جانوروں میں شرکت ہوگئی، بچے بھی مشترک ہوں گے۔ (بھار شریعت، جلد 2، حصہ 10، صفحہ 512، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-1442
تاریخ اجراء: 21 صفر المظفر 1440ھ / 31 اکتوبر 2018ء