مضاربت میں نفع و نقصان کی تقسیم کا شرعی طریقہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مضاربت میں نفع و نقصان کی تقسیم کاری کیسے ہو گی؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر دو بندے مخصوص مدت کے لئے اس طرح کاروبار کریں کہ ایک بندہ دوسرے کو نقد رقم دے اور دوسرا اس سے کاروبار شروع کرے اور نفع ففٹی ففٹی طے کر لیں، مثلاً ایک لاکھ روپے کسی دوسرے بندے کو دے، دوسرا شخص اس رقم سے کتابیں خریدے، بیچے اور نفع آدھا آدھا رکھ لیں، تو کیا یہ طریقہ کار شرعاً درست ہے؟ اور خدا نخواستہ نقصان ہو جائے، تو وہ کس کے ذمے ڈالا جائے گا؟
جواب
ایک جانب سے فقط رقم کے ذریعے انویسٹمنٹ (Investment) ہو، دوسری جانب سے انویسٹمنٹ کے بغیر محض کام ہو، اس طرح کاروبار کرنا شرعاً عقد مضاربت کہلاتا ہے اور قوانین شرعیہ کی روشنی میں مضاربت میں نفع کی تقسیم کاری مشاع یعنی فیصد کے اعتبار سے ہوتی ہے، کسی کے لئے رقم معین کرنا جائز نہیں ہوتا، تو آپ کا آدھا آدھا نفع تقسیم کرنا یہ مشاع کے طور پر ہی ہے، لہذا یہ درست ہے، پھر جب حساب کیا جائے، تو کل نفع میں سے ضروری اخراجات منہا (مائنس) کر کے بقیہ نفع طے شدہ اصول کے مطابق تقسیم کر لیا جائے۔
البتہ نقصان والی صورت میں یہ طے کیا جائے کہ اگر مضارب (کام کرنے والے) کی تعدی (کوتاہی)کی وجہ سے نقصان ہوا، تو اس کا تاوان وہی ادا کرے گا، البتہ مضارب کی تعدی کے بغیر نقصان ہو جانے کی صور ت میں اولاً نفع سے پورا کیا جائے گا، اور اگر نفع ہوا ہی نہیں یا کم ہوا اور نقصان زیادہ ہے، تو پھر وہ رب المال (Invester) کا ہو گا، مالی اعتبار سے مضارب کو نقصان نہیں ہو گا، ہاں! اس کی محنت ضائع چلی جائے گی۔
مضاربت کی مشروعیت کے متعلق فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے: ’’المضاربة: ۔۔هي مشروعة للحاجة إليها، فإن الناس بين غني بالمال غبي عن التصرف فيه، وبين مهتد في التصرف صفر اليد عنه، فمست الحاجة إلى شرع هذا النوع من التصرف لينتظم مصلحة الغبي والذكي والفقير والغني وبعث النبي صلى الله عليه وسلم والناس يباشرونه فقررهم عليه وتعاملت به الصحابة‘‘ ترجمہ: مضاربت کی حاجت کی وجہ سے یہ مشروع ہے، کیونکہ بعض لوگ مالی لحاظ سے غنی اور اس میں تصرف کے اعتبار سے ناسمجھ ہوتے ہیں، اور دوسرے بعض تصرف میں مہارت رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس مال نہیں ہوتا، تو اس قسم کے تصرف کی مشروعیت کی حاجت پیش آتی ہے جو غبی، عقلمند، فقیر اور غنی کی مصلحت پر مشتمل ہو، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو لوگ ایسے عقد کیا کرتے تھے، تو آپ علیہ السلام نے اسے برقرار رکھا اور صحابہ کرام بھی یہ عقد کرتے رہے ہیں۔ (ھدایہ، کتاب المضاربۃ، جلد 3، صفحہ 262، مطبوعہ لاہور)
اسی میں عقدِ مضاربت کی وضاحت اور نفع کی تقسیم کاری کے متعلق فرمایا: ’’المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين" ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين "والعمل من الجانب الآخر۔۔۔ "ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة" من الربح لأن شرط ذلك يقطع الشركة بينهما ولا بد منها كما في عقد الشركة‘‘ ترجمہ: مضاربت نفع میں شرکت کا ایسا عقد ہے جانبین میں سے ایک مال کے بدلے میں نفع کا مستحق ہوتا ہے اور دوسرا عمل کے بدلے۔۔ اور اس کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ ان دونوں کے درمیان نفع مشاع کے طور پر ہو، دونوں میں سے کوئی ایک نفع میں سے معین درہم کے مستحق نہ ہوں، کیونکہ یہ شرط ان دونوں کے درمیان (نفع کی) شرکت کو قطع کر دے گی، حالانکہ شرکت کا ہونا ضروری ہے، جیسا کہ عقدِ شرکت میں ضروری ہے۔ (ھدایہ، کتاب المضاربۃ، جلد 3، صفحہ 263، 262، مطبوعہ لاہور)
نفع آدھا آدھا طے کرنا بھی درست ہے۔ بہار شریعت میں ہے: ”نفع دونوں کے مابین شائع ہو یعنی مثلاً نصف نصف یا دو تہائی ایک تہائی یا تین چو تھائی ایک چوتھائی، نفع میں اِس طرح حصہ معیّن نہ کیا جائے جس میں شرکت قطع ہو جانے کا احتمال ہو مثلاً یہ کہہ دیا کہ میں سو 100 روپیہ نفع لوں گا۔ اِس میں ہو سکتا ہے کہ کل نفع سو ہی ہو یا اس سے بھی کم تو دوسرے کی نفع میں کیوں کر شرکت ہوگی یا کہہ دیا کہ نصف نفع لوں گا اور اُس کے ساتھ دس 10 روپیہ اور لوں گا، اِس میں بھی ہو سکتا ہے کہ کل نفع دس 10 ہی روپے ہو تو دوسرا شخص کیا پائے گا۔ (بھار شریعت، حصہ 14، جلد 3، صفحہ 2، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اسی میں نقصان کے متعلق ہے: ’’مال مضارَبت سے جو کچھ ہلاک اور ضائع ہوگا وہ نفع کی طرف شمار ہوگا، راس المال میں نقصانات کو نہیں شمار کیا جاسکتا، مثلاً سو روپے تھے تجارت میں بیس روپے کا نفع ہوا اور دس روپے ضائع ہوگئے، تو یہ نفع میں منہا کیے جائیں گے، یعنی اب دس ہی روپے نفع کے باقی ہیں، اگر نقصان اتنا ہوا کہ نفع اُس کو پورا نہیں کرسکتا، مثلاً بیس نفع کے ہیں اور پچاس کا نقصان ہوا، تو یہ نقصان راس المال میں ہوگا، مضارِب سے کل یا نصف نہیں لے سکتا کیونکہ وہ امین ہے اور امین پر ضمان نہیں اگر چہ وہ نقصان مضارِب کے ہی فعل سے ہوا ہو۔ ہاں اگر جان بوجھ کر قصداً اُس نے نقصان پہنچایا مثلاً شیشہ کی چیز قصداً اُس نے پٹک دی، اس صورت میں تاوان دینا ہوگا کہ اس کی اُسے اجازت نہ تھی‘‘۔ (بھار شریعت، حصہ 14، جلد 3، صفحہ 19، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7418
تاریخ اجراء: 26 شعبان المعظم 1445ھ/08 مارچ 2024ء