تین لوگوں کا برابر رقم ملا کر کاروبار کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تین دوستوں کا برابر رقم ملا کر کاروبار کرنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہم تین دوست (شعیب، فرحان اور محسن) مل کر ایک کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، جس میں کاسمیٹکس، کھانے، پینے کی اشیا اور دوسرا سستا سامان خرید کر بیچا جائے گا۔

ہم تینوں نے مل کر یہ طے کیا ہےکہ:

(1) شعیب، فرحان اور محسن میں سے ہر ایک، ایک لاکھ روپے سرمایہ کیش کی صورت میں انویسٹ کرے گا۔

(2) شعیب کو کل منافع کا 60 فیصد حصہ ملے گا، کیونکہ وہ دکان سنبھالے گا، جس میں دوکان کا انتظام، مال کی خریداری اور گاہکوں کو ڈیل کرنا شامل ہے۔ جبکہ فرحان اور محسن کو منافع کا 20 – 20 فیصد حصہ ملے گا۔

(3) فرحان اور محسن اپنی مستقل نوکری بھی کرتے ہیں، البتہ فارغ وقت میں شعیب کے ساتھ دکان پر کام بھی کریں گے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا پارٹنر شپ کا یہ طریقہ شرعی طور پر جائز ہے؟

جواب

جب دو یا دو سے زیادہ افراد پیسے ملا کر کام کریں تو اس کو شراکت کہتے ہیں۔ شراکت میں ہرایک شریک کے پیسے برابر ہوں یہ ضروری نہیں بلکہ کم یا زیادہ بھی ہو سکتے ہیں یونہی یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر پارٹنر کام کرے یا سب برابر برابر وقت دیں بلکہ وقت میں کمی بیشی یا کسی شریک کا کام نہ کرنا بھی جائز ہے،البتہ یہ ضروری ہے کہ ہر ایک کا نفع فیصد (Percentage) سے مقرر ہو اور کام نہ کرنے والے کے لیے اس کے اصل سرمائے (capital) کے تناسب سے زیادہ نفع مقرر نہ ہو۔ نیز کاروبار میں ہونے والا نقصان ،تمام پارٹنرز پر ان کے اصل سرمائے (capital) کے اعتبار سے تقسیم ہوتا ہے یعنی جس تناسب سے پارٹنرز کاروبار میں شریک ہیں اسی تناسب سےان کانقصان شمار ہوگا۔

سوال میں پوچھی گئی صورت میں آپ سب کا اصل سرمایہ(capital) برابر ہے، لہٰذا آپ سب باہمی رضامندی سے برابر برابر نفع بھی طے کر سکتے ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ زیادہ کام کرنے والے کے لیے زیادہ نفع مقرر کریں جیسا کہ آپ نے لکھا کہ چونکہ شعیب کام زیادہ کرے گا لہٰذا اس کا نفع 60 فیصد ہوگا، جبکہ نقصان ہونے کی صورت میں نقصان سب پر برابر ہی لازم آئے گا۔

الہدایہ شرح بدایہ میں ہے:

(و يصح أن يتساويا فی المال ويتفاضلا فی الربح) لأن الربح كما يستحق بالمال يستحق بالعمل كما فی المضاربة، و قد يكون أحدهما أحذق و أهدى و أكثر عملاً و أقوى فلا يرضى بالمساواة فمست الحاجة الى التفاضل

یعنی صحیح ہے کہ دونوں کے مال برابر ہوں اور نفع میں کمی بیشی ہو کیونکہ جیسے مال کے بدلے نفع کا حق حاصل ہوتا ہے (اسی طرح) کام کے بدلے بھی نفع کا حق حاصل ہوتا ہے جیسا کہ مضاربت میں ہوا کرتا ہے، اور کبھی ان دونوں میں سے ایک زیادہ تجربہ کار، زیادہ سمجھدار، زیادہ کام کرنے والا اور زیادہ اچھے طریقے سے کام کرنے والا ہوتا ہے تو وہ برابر برابر نفع پر راضی نہیں ہوتا، لہٰذا نفع کم و بیش رکھنے کی ضرورت پیش آئی۔ (الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی، جلد 4، صفحہ 349،دار السراج،المدینۃ المنورۃ)

بہارِ شریعت میں ہے:  اگر دونوں نے اس طرح شرکت کی کہ مال دونوں کا ہوگا مگر کام فقط ایک ہی کرے گا اور نفع دونوں لیں گے اور نفع کی تقسیم مال کے حساب سے ہوگی یا برابر لیں گے یا کام کرنے والے کو زیادہ ملے گا تو جائزہے اور اگر کام نہ کرنے والے کو زیادہ ملے گا تو شرکت ناجائز۔۔۔ اور اگر کام دونوں کریں گے مگر ایک زیادہ کام کریگا دوسرا کم اور جو زیادہ کام کریگا نفع میں اُس کا حصہ زیادہ قرار پایا یا برابر قرار پایا یہ بھی جائز ہے۔(ملتقطاً)۔ (بہارِ شریعت، جلد 2، صفحہ 499، مکتبۃ المدینہ کراچی)

شرکت میں نقصان ہوجانے کے حکم سے متعلق رد المحتار میں ہے:

و ما کان من وضیعۃ أو تبعۃ فکذلک (أی علی قدر رؤوس اموالھما) و لا خلاف ان اشتراط الوضیعۃ بخلاف قدر راس المال باطل

یعنی (شرکت میں) جو کچھ نقصان اور تاوان ہوگا تو وہ اسی طرح ہوگا (یعنی ان کے مالوں کی مقدار کے مطابق) اور اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ راس المال کی مقدار کے خلاف نقصان کی شرط کرنا باطل ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، جلد 6، صفحہ 469، مطبوعہ کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2318

تاریخ اجراء: 06 ذوالحجۃالحرام1446ھ/03 جون2025ء