چوری کے کپڑوں میں نماز ہوجائیگی؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
چوری کےلباس میں نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
چوری کے لباس میں نماز مکروہِ تحریمی ہے، یعنی چوری کے کپڑوں میں نماز پڑھنے سے فرض ادا ہوجائے گا لیکن نماز واجب الاعادہ ہوگی، یعنی جائز کپڑے پہن کر اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا۔ نیز ایسے کپڑے کو اس کے مالک تک پہنچانا اور چوری کے گناہ سے توبہ کرنا بھی لازم ہے۔
علامہ حسن بن عمار شرنبلالی رحمۃ اللہ علیہ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں لکھتے ہیں: و الثوب الحرير و المغصوب و أرض الغير تصح فيها الصلاة مع الكراهة‘‘ ترجمہ: ریشمی کپڑے، اور چوری کیے ہوئے کپڑے، اور دوسرے کی زمین میں (بغیر اجازت) نماز کراہت کے ساتھ درست ہوجاتی ہے۔
علامہ احمد بن محمد طحطاوی رحمۃ اللہ علیہ اس کے تحت لکھتے ہیں: قوله: مع الكراهة أي التحريمية ذكره السيد و في السراج و القهستاني تكره الصلاة في الثوب الحرير و الثوب المغصوب و إن صحت‘‘ ترجمہ: مصنف کا قول: کراہت کے ساتھ، یعنی کراہت تحریمی کے ساتھ درست ہوجاتی ہے، یہ بات سید نے ذکر کی ہے۔ اور سراج اور قہستانی میں ہے کہ ریشمی کپڑے اور چوری کیے ہوئے کپڑے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، اگرچہ نماز صحیح ہو جاتی ہے(یعنی فرض ادا ہوجاتا ہے)۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، باب شروط الصلاۃ وارکانھا، صفحہ 211،دار الکتب العلمیہ، بیروت)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: چوری کا کپڑا پہن کرنماز پڑھنے میں اگرچہ فرض ساقط ہوجائے گا: لان الفساد مجاور (کیونکہ فساد نماز سے باہرہے) مگرنماز مکروہ تحریمی ہوگی ’’للاشتمال علی المحرم (حرام چیز پر مشتمل ہونے کی وجہ سے) کہ جائز کپڑے پہن کراس کااعادہ واجب ’’کالصلوۃ فی الارض المغصوبۃ سواء بسواء (جیسے غصب کی ہوئی زمین میں نماز کا حکم ہے، بالکل ویسا ہی اس کا حکم ہے)۔ و اللہ تعالٰی اعلم۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد7، صفحہ394، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1253
تاریخ اجراء: 19 محرم الحرام 1448ھ / 04 جولائی 2026ء