عید الاضحیٰ کی نماز دوسرے دن پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عید الاضحیٰ کی نماز دوسرے دن پڑھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد کی کمیٹی کا صدر کہتا ہے کہ ہماری مسجد میں نمازِ عید الاضحیٰ 28 مئی 2026ء بروز جمعرات کو ہوگی، جبکہ پورے پاکستان میں نمازِ عید الاضحیٰ 27 مئی 2026ء بروز بدھ کو ہوگی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا بغیر عذرِ شرعی نمازِ عید الاضحیٰ عید کے دوسرے دن پڑھنا صحیح ہے یا نہیں ؟ سائل: محمد فرخ (اوکاڑہ)
جواب
جب شریعت کے اصولوں کے مطابق چاند کی رویت ثابت ہو چکی ہو اور حاکمِ اسلام کی طرف سے اس کے مطابق فیصلہ و اعلان بھی کر دیا گیا ہو تو ایسی صورت میں اصل دن کو چھوڑ کر بلا دلیلِ شرعی نمازِ عید الاضحیٰ عید کے دوسرے دن قائم کرنا فتنہ و انتشار اور گمراہی کا دروازہ کھولنا ہے اور ناجائز و گناہ ہے۔ لہٰذا سوال میں مذکور مقام کے لوگوں پر بھی لازم و ضروری ہے کہ وہ سبیلِ مؤمنین کی اتباع اور مسلمانوں کے اجتماعی فیصلہ کے مطابق 27 مئی 2026ء بروز بدھ کو ہی مسجد میں نمازِ عید قائم کروانے کا اہتمام کرے، اگر عید کے دوسرے دن نمازِ عید قائم کی جائے گی تو یہ بغیر عذر کے نمازِ عید کو دوسرے دن قائم کرنا ہوگا اور بغیر عذر کے نمازِ عید الاضحیٰ دوسرے دن قائم کرنا مکروہ تحریمی یعنی گناہ ہے۔ اگر مسجد کی کمیٹی کا صدر اس گناہ سے باز نہ آئے تو اہل محلہ پر لازم ہوگا کہ وہ عید کے پہلے دن ہی کسی اور جگہ نمازِ عید پڑھنے کا اہتما م کریں۔
رؤیتِ ہلال سےمتعلق مسلمانوں کو اپنی ریاست کے جمہور اہلِ ایمان کی پیروی کرنے سے متعلق جامع ترمذی کی حدیثِ پاک میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”الصوم يوم تصومون، والفطر يوم تفطرون و الأضحى يوم تضحون۔وفسر بعض أهل العلم هذا الحديث فقال: إنما معنى هذا أن الصوم والفطر مع الجماعة وعظم الناس“ ترجمہ: روزہ اس دن ہے، جس دن تم سب روزہ رکھو، عید الفطر اس دن ہے، جس دن تم سب عید کرو، اور عید الاضحیٰ اس دن ہے، جس دن تم سب قربانی کرو۔ (امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ) بعض اہلِ علم نے اس حدیث کی یہ تفسیر کی ہے کہ روزہ اور عید الفطر کا اعتبار جماعت اور مسلمانوں کی بڑی تعداد کے ساتھ ہے۔ (جامع ترمذی، رقم الحدیث 697، جلد 02، صفحہ 74، مطبوعہ مصر)
مذکورہ بالا حدیثِ پاک کی شرح میں حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ میں ہے: ”والظاهر أن معناه أن هذه الأمور ليس للآحاد فيها دخل وليس لهم التفرد فيها بل الأمر فيها إلى الإمام والجماعة ويجب على الآحاد اتباعهم للإمام والجماعة“ ترجمہ: اور ظاہر یہ ہے کہ اس حدیثِ پاک کا معنی یہ ہے کہ ان اُمور میں انفرادی لوگوں کو دخل حاصل نہیں اور نہ ہی انہیں ان میں الگ رائے اختیار کرنے کا حق ہے، بلکہ ان معاملات کا فیصلہ امام اور جماعت کے سپرد ہے، اور افراد پر واجب ہے کہ وہ امام اور جماعت کی پیروی کریں۔ (حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ، جلد 01، صفحہ 509، مطبوعہ دار الجیل بیروت)
مفتی محمد نور اللہ نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1403ھ) لکھتے ہیں: ”جماعتِ مسلمین جبکہ وہ اکثریت میں ہوں اور اپنے طور پر حسبِ دستور رمضان پاک یا عیدِ قربانی منارہے ہوں یا حج کے لئے عرفات کی حاضری دیں تو ان کی موافقت ضروری ہے، کیونکہ عند اللہ وہ ایامِ رمضان یا عید یا یومِ عرفہ ہی شمار ہوں گے۔“ (فتاویٰ نوریہ، جلد 02، صفحہ 271، 272، مطبوعہ دارالعلوم حنفیہ فریدیہ، بصیر پور)
اتباعِ سبیلِ مؤمنین کی مخالف کرنے سے متعلق اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِـعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا (115) ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ’’اور جو اس کے بعد کہ اس کے لئے ہدایت بالکل واضح ہوچکی رسول کی مخالفت کرے اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے تو ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے، جدھر وہ پھرتا ہے اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ کتنی بری لوٹنے کی جگہ ہے۔‘‘ (القرآن الکریم، پارہ 05، سورۃ النساء، آیت 115)
مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”اس آیت میں دو چیزوں سے منع کیا گیا ہے، جو حقیقت میں ایک ہیں۔ پہلی چیز کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت جائز نہیں اور دوسری بات کہ مسلمانوں کے راستے سے ہٹ کر چلنا جائز نہیں، کیونکہ مسلمانوں کا راستہ اطاعت ِ رسول کا راستہ ہے تو اس سے ہٹنا اطاعتِ رسول سے ہٹنا ہوگا۔۔۔یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کا اجماع و اتفاق حجت و دلیل ہے اور اس کی مخالفت جائز نہیں، جیساکہ کتاب و سنت کی مخالفت جائز نہیں ۔“ (صراط الجنان فی تفسیر القرآن، جلد 2، صفحہ 308، مکتبۃ المدینہ)
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”گمراہی کہہ کر نہیں آتی، گمراہی کا پہلا پھاٹک یہی ہے کہ آدمی کے دل سے اتباع ِسبیل مومنین کی قدر نکل جائے، تمام امّت مرحومہ کو بیوقوف جانے اور اپنی رائے الگ جانے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 06، صفحہ 323، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
بلاعذرِ شرعی عید الاضحیٰ کو دوسرے یا تیسرے دن تک مؤخر کرنا مکروہ تحریمی ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ”يجوز تأخيرها إلى آخر ثالث أيام النحر بلا عذر مع الكراهة“ ترجمہ: عذر کے بغیر نمازِ عید الاضحیٰ کو ایامِ نحر کے آخری یعنی تیسرے دن تک مؤخر کرنے سے عید تو ہو جائے گی لیکن کراہت (تحریمی اور گناہ) کے ساتھ ہوگی ۔ (تنویر الابصار مع در مختار، باب العیدین، جلد 02، صفحہ 176، دارالفکر بیروت)
مذکورہ مسئلہ میں مکروہ سے مراد "مکروہ تحریمی" ہے، چنانچہ طوالع الانوار اور رد المحتار علی در مختار میں ہے،: (واللفظ للاول): ”بلاعذرمع الكراهة التحریمیۃ ۔واللفظ لرد المحتار:قلت: إطلاق الكراهة تبعا للبحر والدرر يفيد التحريم“ ترجمہ: بغیر عذر کے ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ (علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ) میں کہتا ہوں کہ صاحب بحر الرائق اور صاحب درر کی اتباع کرتے ہوئے مکروہ کو مطلق رکھا، جو کہ کراہت تحریمی کا فائدہ دیتا ہے۔ (طوالع الانوار، جلد 2، صفحہ 544، مخطوطہ) (رد المحتار علی در مختار، جلد 2، صفحہ 176، دار الفکر)
بہارِ شریعت میں ہے: ”اور عيدالاضحیٰ کی نماز عذر کی وجہ سے بارہویں تک بلا کراہت مؤخر کر سکتے ہیں، بارہویں کے بعد پھر نہیں ہو سکتی اور بلا عذر دسویں کے بعد مکروہ ہے۔“ (بہارِ شریعت، عیدین کا بیان، حصہ 4، جلد 1، صفحہ 784، مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0279
تاریخ اجراء: 06 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ/23 مئی 2026ء