سات روزہ تراویح اور ختمِ قرآن کا شرعی حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سات روزہ تراویح اور اس میں ختم قرآنِ پاک کا حکم ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا سات روزہ تراویح پڑھنا جائز ہے اور اس میں سات دنوں کے اندر ہی ختم قرآن کر لینا درست ہے؟
جواب
سات روزہ طویل تراویح پڑھنا اور ان سات دنوں میں ختم قرآن کر لینا شرعاً جائز ہے، اس سے ختم قرآن کی سنت ادا ہو جائے گی، البتہ شرط یہ ہے کہ قراءت درست یعنی ضروری تجوید کے ساتھ ہو اور نماز اس کے احکام کی رعایت کرتے ہوئے ادا کی جائے۔ مگر یہ یاد رہے کہ سات روزہ تراویح میں ختم قرآن کر یا سن لینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بقیہ سارا رمضان تراویح پڑھنے کی چھوٹ مل جائے، بلکہ ماہِ رمضان کے بقیہ ایام میں بھی بدستور تراویح ادا کرنی ہوگی؛ کیونکہ ہر عاقل بالغ مسلمان مرد و عورت کے لیے رمضان شریف کی ہر رات میں بیس رکعت تراویح پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔ اگر سات دن پڑھ لینے کے بعد تراویح ادا کرنا مستقل چھوڑ دی تو سنت مؤکدہ کے ترک کی عادت کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔
علامہ عبد الغنی بن اسماعیل نابلسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1143ھ/1731ء) لکھتے ہیں:
”عن مكحول قال: كان أقوياء أصحاب رسول الله صلي الله عليه وسلم يقرأون القرآن في سبع وبعضهم في شهر وبعضهم في شهرين وبعضهم في أكثر من ذلك“
ترجمہ: حضرت مکحول رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طاقتور صحابہ (مکمل) قرآن مجید سات دن میں پڑھا کرتے تھے اور ان کے بعض ایک مہینے میں اور بعض دو مہینوں میں اور بعض اس سے زیادہ مدت میں۔ (الحديقة الندية شرح الطريقة المحمدية، الفصل الثالث فی الاقتصاد فی العمل، جلد 1، صفحہ 444، دار الكتب العلمية، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”علما نے بنظر منع کسل و ملال اقل مدت ختم قرآن عظیم تین دن مقرر فرمائی، مگر اہل قدرت و نشاط بہر عبادت کو ایک شب میں ختم کی بھی ممانعت نہیں، بہت اکابر دین سے منقول ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحه 465، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”بعض لوگ ایسا جلد پڑھتے ہیں علیم یا حکیم، یعقلون، تعلمون غرض لفظ ختم آیت کے سوا، کچھ سمجھ میں نہیں آتا، یہ نفس سنت کا فانی اور بدعت شنیعہ اور اساءت ہے۔ ترک واجبات قرأۃ مثل مد متصل، یہ صورت گناہ و مکروہ تحریمی ہے۔ امتیازِ حروف متشابہ مثل ث س ص، ت ط، ز ذ ظ وغیرہا نہ رہنا، یہ خود حرام و مفسد نماز ہے، مگر ہندوستان کی جہالتوں کا کیا علاج! حفاظ و علما کو دیکھا ہے کہ تراویح درکنار، فرائض میں بھی اس کی رعایت نہیں کرتے، نمازیں مفت برباد جاتی ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحه 480، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امام اہل سنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”تراویح میں پورا کلام اللہ شریف پڑھنا اور سننا سنت مؤکدہ ہے، اور صحیح یہ ہے کہ بعد ختم کلام مبارک بھی تمام لیالی شہر مبارک میں بیس رکعت تراویح پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحه 458-459، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”تراویح سنت مؤکدہ است و نزد محققین بترک سنت مؤکدہ نیز آثم شود خاصہ چوں ترک را عادت گیر و عددش نزد جمہور علمائے امت بست رکعت ست“ ترجمہ: تراویح سنتِ مؤکدہ ہے اور محققین کے نزدیک سنتِ مؤکدہ کے ترک کرنے سے بھی آدمی گنہگار ہوتا ہے، خصوصاً جب ترک کو عادت بنا لے، اور تراویح کی تعداد جمہور علمائے امت کے نزدیک بیس رکعت ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحه 457، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1119
تاریخ اجراء: 10 رمضان المبارک 1447ھ/28 فروری 2026ء