logo logo
AI Search

شادی میں ڈھول بجانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

شادی کے موقع پر ڈھول بجانے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

شادی بیاہ کے موقع پر مروجہ انداز میں ڈھول بجانا، جائز نہیں بلکہ گناہ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ان اللہ حرم علیکم الخمر و المیسر و الکوبۃ و قال کل مسکر حرام“ ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول) حرام کیا اور فرمایا: ہر نشہ والی چیز حرام ہے۔ (سنن الکبری للبیھقی، کتاب الشھادات، جلد 10، صفحہ 360،دار الکتب العلمیہ، بیروت(

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اپنی تقریبوں میں ڈھول جس طرح فساق میں رائج ہے بجوانا، ناچ کرانا حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 98، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

ایک اور مقام پر فرمایا: ڈھول بجانا حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 491، رضا فاؤنڈیشن، لاھور(

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2520
تاریخ اجراء: 12 ربیع الآخر 1447ھ / 06 اکتوبر 2025ء