logo logo
AI Search

تین شرط طلاق کہنے سے کتنی طلاق ہوگی؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

تین شرط طلاق کے الفاظ سے طلاق دینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میری شادی کو دو سال ہو چکے ہیں، ہماری کوئی اولاد نہیں ہے، ہمارے مکان کے اوپر دوسری منزل پر کرائے دار رہتے ہیں، میری زوجہ دو تین مرتبہ ان کے ساتھ جھگڑ چکی ہے، میں نے آخری مرتبہ اس کو وارننگ دی تھی کہ آئندہ کوئی جھگڑا نہ کرنا۔ کچھ دن پہلے کرائے دار کی زوجہ نے اوپر سے ہمارے گھر میں پانی گرا دیا تو میری زوجہ نے اس کے ساتھ جھگڑا کیا، پھر مجھے فون کیا کہ اس طرح اس نے پانی گرا دیا ہے، میں نے کہا کہ تم کچھ نہ کہنا ، جب میں آؤں گا تو خود دیکھ لوں گا، جب میں گھر آیا تو زوجہ نے مجھ سے جھگڑنا شروع کر دیا، اور مجھے کہا کہ تم ان کی سائیڈ لیتے ہو،میں نے اس کو دھکا دیا تو وہ بیڈ پر گر گئی، پھر اٹھ کر اس نے میرا گریبان پکڑ لیا، میں نے اپنا گریبان چھڑایا اور اس کو کہا کہ یہاں سے نکل جاؤ۔ جب وہ جا رہی تھی تو میں نےاس کو غصے میں کہہ دیا کہ میں تمہیں تین شرط طلاق دیتا ہوں، زوجہ کہتی ہے کہ میں نے یہ الفاظ نہیں سنے، ہمارے ہاں ان الفاظ سے طلاق دی جاتی ہے، اس سے پہلے کبھی بھی کوئی طلاق زوجہ کو میں نے نہیں دی ہے۔ اب آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ یہ طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟ اگر زوجہ طلاق کے الفاظ نہ سنے تو بھی طلاق ہو جاتی ہے یا نہیں؟کیا غصے کی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے؟ اب ہمارے لیے دوبارہ اکٹھے رہنے کی کوئی جائز صورت ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ کے جواب سے پہلے تمہیداً یہ سمجھ لیں کہ ہمارے علاقوں میں ’’تین شرط طلاق‘‘ سے مراد تین عدد طلاقیں ہونا معروف ہے لہذا اگر کوئی شخص اپنی زوجہ کو ان لفظوں سے طلاق دیتا ہے تو اس کی زوجہ کو تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔

یہ خیال رہے کہ طلاق واقع ہونے کے لیے زوجہ کا یا کسی اور گواہ وغیرہ کا وہاں پر موجود ہونا یا الفاظ طلاق کو سننا ضروری نہیں ہے، اگر شوہر کسی جگہ پر اکیلا ہو، جہاں کوئی انسان موجود نہ ہو، اس حالت میں وہ کہہ دے کہ میں اپنی زوجہ کو طلاق دیتا ہوں، تو بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

نیز جس غصے میں عقل اور ہوش و حواس قائم رہیں، اس میں دی ہوئی طلاق واقع ہو جاتی ہے، بلکہ عموماً طلاق غصے کی حالت میں ہی دی جاتی ہے۔

اس تمہید کے بعد صورت مستفسرہ کا جواب یہ ہے کہ یہ بیان درست ہونے کی صورت میں آپ کی زوجہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اور وہ بائنہ مغلظہ ہو کر آپ پر حرام ہو گئی ہے، اب آپ دونوں کے لیے بغیر حلالہ شرعیہ کے میاں بیوی کی حیثیت سے دوبارہ اکٹھے رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں اکٹھی دینے کی وجہ سے تینوں واقع ہو جاتی ہیں، البتہ ایک سے زیادہ طلاقیں ایک ہی مجلس میں اکٹھی دینے کی وجہ سے آپ گناہ گار ہوئے، جس کی وجہ سے آپ پر توبہ لازم ہے۔

اب آپ کی عدت گزارنے کے بعد آپ کی زوجہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، کیونکہ قرآن و حدیث کے فیصلہ کے مطابق شوہر کو نکاح کے ساتھ یا بلا نکاح رجوع کرنے کا اختیار دو طلاق تک حاصل ہوتا ہے، اگر تین طلاقیں دے دی جائیں تو اب عورت اس سابق شوہر کے لیے بغیر حلالۂ شرعیہ ہر گز حلال نہیں ہوتی، پہلے شوہر کی عدت گزارنے کے بعد وہ آزاد ہے، جس سے چاہے نکاح کے دیگر احکام و شرائط کو سامنے رکھ کر نکاح کر سکتی ہے اور یہ نکاح عورت کی رضا مندی سے ہو گا، اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا، اب اگر عورت دوسری جگہ نکاح کر لیتی ہے تو دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا زندگی گزارنا میاں بیوی کی باہمی رضا مندی سے ہے، لیکن اس دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلقات (یعنی نکاح صحیح کے بعد جماع جس میں وطی بھی ضروری ہے انزال شرط نہیں) قائم ہونے کے بعد اگر اس سے بھی طلاق ہو جائے یا اس دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے تو اس کی عدت طلاق یا وفات گزارنے کے بعد یہ عورت اور اس کا سابقہ شوہر آپس میں پھر سے نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، جب کہ انہیں غالب گمان ہو کہ اب دوبارہ شروع ہونے والی ازدواجی زندگی میں اللہ عز وجل کی حدود قائم رکھ سکیں گے اور ایک دوسرے کے حقوق ٹھیک طور پر ادا کر سکیں گے۔

قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ- فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ- وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(230)﴾ ترجمۂ کنز الایمان: ”پھر اگر تیسری طلاق اسے دی، تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی، جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے، تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں، اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، جنہیں بیان کرتا ہے، دانشمندوں کے لیے۔ (پارہ: 2 سورۃ البقرۃ: 2 آیت: 230)

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ’’تین شرطیں طلاق‘‘ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”(اس میں) ایک احتمال یہ بھی ممکن کہ اس نے اپنے جاہلانہ محاورہ سے تین عدد کو تین شرطیں کہا ہو، جیسے تین بار ہاتھ دھونے کو بعض جہال کہتے ہیں، تینوں شرطیں پوری کر لو، اگر یہ اس کا محاورہ و مقصود ہے تو تین طلاقیں ہو گئیں، رد المحتار میں ہے: ”یحمل کلام کل عاقد و حالف علی عرفہ“ عقد کرنے والے کے اور حلف دینے والے کے کلام کو اس کے عرف پر محمول کیا جائے گا۔ (فتاوی رضویہ ج 13، ص 213, 214، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

غصے کی حالت میں دی جانے والی طلاق کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ”غضب مانع طلاق نہیں بلکہ غالباً طلاق بحالتِ غضب ہی ہوتی ہے، و الدھش شیٔ اٰخربینہ فی الخیریۃ و ردالمحتار و تحقیقہ فی فتاوٰنا۔“ (فتاوی رضویہ ج 12، ص 367، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”غضب اگر واقعی اس درجۂ شدت پر ہو کہ حد جنون تک پہنچا دے تو طلاق نہ ہو گی اور یہ کہ غضب اس شدت پرتھا یا تو گواہان عادل سے ثابت ہو یا وہ اس کا دعوی کرے اور اس کی یہ عادت معہود و معروف ہو تو قسم کے ساتھ اس کا قول مان لیں گے، ورنہ مجر ددعوی معتبر نہیں، یوں تو ہر شخص اس کا ادعا کرے اور غصہ کی طلاق واقع ہی نہ ہو، حالانکہ غالبا طلاق نہیں ہوتی، مگر بحالت غضب، رد المحتار میں خیریہ سے ہے: ”الدھش من أقسام الجنون فلا یقع و إذا کان یعتادہ بأن عرف ھٰذا الدھش مرۃ یصدق بلا برھان اھ۔“ مدہوشی، جنون کی قسم ہے، لہذا طلاق نہ ہوگی، اور جب عادت بن چکی ہو اور ایک مرتبہ مدہوشی معلوم ہو چکی ہو تو خاوند کی بات بلا دلیل مان لی جائے گی اھ۔“ (فتاوی رضویہ ج 12، ص 378، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

طلاق واقع ہونے کے لیے زوجہ یا کسی اور کا طلاق کے الفاظ کو سننا ضروری نہیں ہے، سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ”طلاق کے لیے زوجہ خواہ کسی دوسرے کا سننا ضرور نہیں، جب کہ شوہر نے اپنی زبان سے الفاظ طلاق ایسی آواز سے کہے، جو اس کے کان تک پہنچنے کے قابل تھے، اگرچہ کسی غل شور یا ثقل سماعت کے سبب نہ پہنچی، عند اللہ طلاق ہو گئی۔ (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 362، رضا فاؤنڈیشن لاھور)

اپنی مدخولہ بیوی کو چاہے ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دی جائیں یا متفرق طور پر، ایک ہی مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ مجلس میں، لکھ کر دی جائیں یا زبانی، تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ احادیث مبارکہ اور صحابۂ کرام کے اقوال و افعال اور ان کے سامنے پیش ہونے والے مقدمات پر ان کے فیصلوں کی رو سے بھی ایک ہی مجلس میں اکٹھی تین طلاقیں دینے سے تینوں واقع ہو جاتی ہیں، چنانچہ حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: ”کنت عند ابن عباس فجاءہ رجل، فقال: انہ طلق امرأتہ ثلاثا، قال: فسکت، حتی ظننت أنہ رآدھا الیہ، ثم قال ینطلق أحدکم فیرکب الحموقۃ ثم یقول یابن عباس! یابن عباس! و ان اللہ قال:﴿وَ مَنْ یَّـتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا﴾ و انک لم تتق اللہ، فلا أجد لک مخرجا، عصیت ربک و بانت منک امرأتک۔“ ترجمہ: میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس موجود تھا، تو ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی: میں نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں اکٹھی دے دی ہیں، راوی کہتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے، تو میں نے خیال کیا کہ شاید حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس شخص کی زوجہ کو اس کی طرف واپس کر دیں گے، پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی شخص زوجہ کو طلاق دیتے وقت حماقت سے کام لیتا ہے، پھر پکارتا ہے، اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دیتا ہے“، اور بے شک تو نے اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں کیا، اس لیے میں تیرے لیے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا، تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تیری زوجہ تجھ سے بائن ہو گئی ہے۔ (سنن ابو داؤد ج 1، ص 317، مطبوعہ لاھور)

اسی طرح مصنف عبد الرزاق اور مؤطا امام مالک میں ہے، و اللفظ من المؤطا: ”ان رجلا قال لابن عباس انی طلقت امرأتی مائۃ تطلیقۃ، فما ذا تری علی؟ فقال لہ ابن عباس طلقت منک بثلث و سبع و تسعون اتخذت بھا آیات اللہ ھزوا۔“ ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عرض کی کہ میں نے اپنی زوجہ کو سو طلاقیں دے دی ہیں، آپ اس کے بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: تیری بیوی تین طلاقوں سے تجھ پر بائن ہو گئی ہے اور ستانوے طلاقوں سے تو نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے ٹھٹھا کیا ہے۔ (مؤطا امام مالک ص 404، مطبوعہ لاھور)

فتاوی عالمگیری میں ہے: ”ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاح صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ“ یعنی اگر آزاد عورت کو تین طلاقیں او رلونڈی کو دو طلاقیں دیں، تو وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس عورت سے وطی بھی کرے، پھر اس کو طلاق دے دے یا فوت ہو جائے، ہدایہ میں اسی طرح ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 1، ص 506، مطبوعہ کراچی)

سیدی اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں اکٹھی دینے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”ایک بار تین طلاق دینے سے نہ صرف نزد حنفیہ بلکہ اجماع مذاہب اربعہ تین طلاقیں مغلظہ ہو جاتی ہیں، امام شافعی، امام مالک، امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہم ائمہ متبوعین سے کوئی امام اس باب میں اصلاً مخالف نہیں، صورت مستفسرہ میں ہندہ (عورت مذکورہ) پر تین طلاقیں ہو گئیں، ایک ساتھ تین طلاقیں دینا گناہ ہے، شوہر گناہگار ہوا اور عورت اس کے نکاح سے ایسی خارج ہوئی کہ اب بے حلالہ ہر گز اس کے نکاح میں نہیں آ سکتی، اگر یونہی رجوع کر لیا، بلا حلالہ نکاح جدید باہم کر لیا، تو دونوں مبتلائے حرام کاری ہوں گے، اور عمر بھر حرام کاری کریں گے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 410، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Pin-7305
تاریخ اجراء: 20 ربیع الاول 1445ھ / 07 اکتوبر 2023ء