طلاق کے بعد رجوع کا طریقہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایک طلاقِ رجعی کے بعد رجوع کا طریقہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میری شادی کو آٹھ سال ہو چکے ہیں، ہماری ایک بیٹی ہے، شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد حمل کے دوران میں نے زوجہ کو ایک مرتبہ یہ کہہ دیا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ اس کے بعد رجوع نہیں ہوا، اس واقعہ کے بعد سے اب تک ہم دونوں الگ الگ رہ رہے ہیں، بیٹی کی ولادت طلاق کے بعد ہوئی ہے۔ اس واقعے کے علاوہ میں نے کبھی زوجہ کو کوئی طلاق نہیں دی، اب ہم دونوں دوبارہ رجوع کرنا چاہتے ہیں، کیا اس کی کوئی جائز صورت ہو سکتی ہے؟
نوٹ: شوہر نے مذکورہ بالا مکمل بیان حلفاً دیا، زوجہ نے اس مکمل بیان کی تصدیق کی ہے۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کی زوجہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے۔ اب حکم یہ ہے کہ اگر عورت رضا مند ہو، تو آپ اس سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ کچھ سال پہلے جب آپ نے زوجہ کو ایک مرتبہ کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، تو اسی وقت آپ کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی، اس طلاق کے بعد آپ کے لئے دورانِ عدت رجوع کرنا شرعاً درست تھا، کیونکہ مدخولہ عورت کو طلاقِ رجعی دینے کے بعد دورانِ عدت بغیر نکاح اور بغیر حلالہ کے اس سے رجوع درست ہوتا ہے۔ آپ نے دورانِ عدت رجوع نہیں کیا، تو عدت گزرنے یعنی بچی پیدا ہونے پر یہ طلاق بائن ہو گئی اور زوجہ آپ کے نکاح سے نکل گئی، کیونکہ ایک یا دو طلاقِ رجعی کے بعد بھی اگر عدت ختم ہو جائے، تو نکاح ختم ہو جاتا ہے اور عورت نکاح سے نکل جاتی ہے، جب پہلا نکاح ختم ہو گیا، تو اکٹھے رہنے کے لئے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا۔
نوٹ: اسی عورت سے دوبارہ نکاح کی صورت میں آئندہ آپ کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔ اس کے بعد اگر آپ نے اسے کبھی بھی دو طلاقیں دیں، تو وہ بائنہ مغلظہ ہو کر آپ پر حرام ہو جائے گی اور بغیر حلالہ شرعیہ کے پھر حلال نہ ہو گی۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ“۔ ترجمہ کنز الایمان: یہ طلاق دو بار تک ہے، پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ (پارہ: 2، سورۃ البقرہ:2، آیت: 229)
طلاقِ رجعی میں دورانِ عدت رجوع کے بارے میں قدوری شریف میں ہے: ’’اذا طلق الرجل امراتہ تطلیقۃ رجعیۃ أو تطلیقتین فلہ أن یراجعھا فی عدتھا رضیت بذلک أو لم ترض‘‘ ترجمہ: جب مرد نے اپنی بیوی کو ایک یا دو رجعی طلاقیں دیں، تو اس کے لئے زوجہ کی عدت میں رجوع کرنا، جائز ہے، عورت راضی ہو یا نہ ہو۔ (قدوری، کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ص 167، مطبوعہ، قدیمی کتب خانہ، کراچی)
عدت کے بعد رجوع کافی نہیں، بلکہ نیا نکاح کرنا ہوگا۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’مابین عدت کے رجعت کا اختیار ہے اور بعد انقضائے عدت اگر عورت چاہے، اس سے نکاحِ جدید کر سکتا ہے اور ایامِ عدت حرہ موطوہ میں تین حیض کامل ہیں اور اگر بوجہ صغر یا کبر کے حیض نہ آتا ہوتو تین مہینا ۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 368، مطبوعہ، رضا فاونڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7466
تاریخ اجراء: 20 ذو الحجۃ الحرام 1445ھ/27 جون 2024ء