حمل کے دوران طلاق کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حمل (Pregnancy) کے دوران طلاق ہو جاتی ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا حمل (Pregnancy) کے دوران طلاق دی جائے تو ہو جاتی ہے؟
جواب
اگر کوئی اپنی بیوی کو حمل کے دوران طلاق دے تو طلاق واقع ہو جائے گی؛ کیونکہ عورت کا حاملہ ہونا وقوعِ طلاق کے مانع نہیں۔ البتہ حمل میں طلاق نہیں دینی چاہیے، بلکہ بلا وجہ شرعی طلاق دینا مطلقاً ممنوع و ناپسندیدہ ہے، ہاں واقعی کوئی حاجت ہو تو مباح ہے۔ بہر حال اگر حاملہ عورت کو طلاق دی گئی تو اس کی عدت وضع حمل یعنی بچہ جن لینے تک ہے۔
علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1088ھ / 1677ء) لکھتے ہیں: ”وحل طلاقهن أي الآيسة والصغيرة والحامل“ ترجمہ: اور ان کو یعنی آئسہ، نابالغ لڑکی اور حاملہ عورت کو طلاق دینا حلال ہے۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، کتاب الطلاق، صفحہ 205، دار الکتب العلمیة، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) سے سوال ہوا: ”عورت چار ماہ کا حمل رکھتی ہے اور شوہر طلاق دے تو طلاق جائز ہے یا نہیں؟“ تو جواباً ارشاد فرمایا: ”جائز و حلال ہے، اگر چہ ایام حمل میں، بلکہ آج ہی، بلکہ ابھی ابھی اس سے جماع کر چکا ہو...مگر (صرف) ایک طلاق رجعی دے، اگر دو تین دے گا گناہ گار ہوگا ... یوں ہی طلاق بائن ایک ہی دے جب بھی ظاہر الروایۃ میں گناہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 374-375، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزید ارشاد فرماتے ہیں: ”عورت کو حمل ہونا مانع وقوعِ طلاق نہیں، اگر طلاق بائن تھی تو مطلقاً، اور اگر رجعی تھی اور بچہ پیدا ہونے تک نہ زبانی رجعت کی نہ زوجہ کو ہاتھ لگایا، تو بعد ولادت عورت نکاح سے نکل گئی، اب اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 375-376، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”حمل میں طلاق نہ دی جائے، اگر دے گا ہو جائے گی، عدت وضع حمل ہے۔“ (احکام شریعت، حصہ 2، صفحہ 194، کتب خانہ امام احمد رضا، لاہور)
خلیل ملت مفتی محمد خلیل خان برکاتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1405ھ / 1985ء) لکھتے ہیں: ”طلاق واقع ہونے کے لیے عورت کی جانب سے کوئی شرط نہیں، حاملہ ہو خواہ نہ ہو، بالغہ ہو یا نابالغہ، طلاق قبول کرے یا رد کر دے، بہر صورت جب اسے طلاق دی جائے گی طلاق پڑ جائے گی۔ پھر تین طلاقیں دی جائیں گی تو عورت اس پر بحرمت مغلظہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جائے گی تاوقتیکہ حلالہ نہ ہو۔ ...عورت کہ حاملہ ہے وضع حمل تک عدت گزارے، پھر کسی اور سے نکاح کرے۔“ (فتاوی خلیلیہ، جلد 2، صفحہ 175، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاھور)
سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، سنن الکبری للبیہقی اور مشکوۃ المصابیح وغیرہ میں ہے: ”عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق“ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ طلاق ہے۔ (سنن أبي داود، كتاب الطلاق، باب في كراهية الطلاق، جلد 2، صفحہ 255، حدیث 2178، المكتبة العصرية، بيروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ”بلا وجہ شرعی طلاق دینا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند و مبغوض و مکروہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 323، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”اگر حاجتے باشد مباح ست ورنہ ممنوع ہمیں صحیح و مؤید بدلائل ست، صححہ العلامۃ المحقق علی الاطلاق فی الفتح وانتصر لہ خاتم المحققین العلامۃ الشامی“ ترجمہ: اگر (شوہر کو طلاق دینے کی) کوئی حاجت ہو تو طلاق دینا مباح ہے ورنہ ممنوع ہے، یہی قول صحیح اور دلائل سے مؤید ہے۔ علامہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس کو صحیح قرار دیا ہے اور خاتم المحققین علامہ شامی نے اس کی تائید کی ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 322، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1149
تاریخ اجراء: 19 شوال المكرم 1447ھ / 8 اپریل 2026ء