logo logo
AI Search

طلاق یافتہ عورت کو شوہر کی جائیداد سے حصہ ملے گا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طلاق یافتہ عورت کا شوہر کی جائیداد سے حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کئی غیر مسلم ممالک میں یہ قانون ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے اور اس میں بیوی کی رضامندی اور مطالبہ شامل نہ ہو تو بیوی کو شوہر کی آدھی جائیداد بھی دی جائے گی۔ اسلامی قانون کے اعتبار سے بتائیں کہ طلاق ہو جانے کی صورت میں بیوی شوہر کے مال سے کس قسم کے حقوق رکھتی ہے؟ اور اگر کہیں شوہر طلاق دے اور ملکی قانون کی وجہ سے اسے شوہر کی مرضی کے بغیر جائیداد میں سے حصہ دلایا جائے، تو کیا عورت کے لیے وہ مال، جائیداد حلال ہوگی یا نہیں؟

جواب

عورت کے متعلق نکاح، طلاق، مہر، نان نفقہ، عدت اور وراثت کے احکام قرآن و حدیث میں اس قدر صراحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں کہ اس کے بعد عورت کے مالی حقوق کے متعلق کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔ قرآن مجید میں فقہی احکام کو زیادہ تفصیل سے بیان نہیں کیا جاتا، لیکن اس کے باوجود اوپر مذکور احکام کے متعلق ایک درجن کے قریب آیات موجود ہیں، جبکہ احادیث کی تعداد تو سینکڑوں تک جا پہنچتی ہے۔ خدائی احکام کے اس عظیم ذخیرے میں طلاق کی صورت میں عورت کو آدھی جائیداد دینے کا حکم کہیں بھی مذکور نہیں اور نہ ہی پوری تاریخ ِ اسلام میں کسی ایسی تحریف فی الدین کا ثبوت ملتا ہے، لہٰذا عورت کو طلاق کی صورت میں شوہر کی جائیداد میں نصف جائیداد کا مالک قرار دینا شرعا باطل و مردود ہے اور کوئی مسلم یا غیر مسلم حکومت کوئی ایسا حصہ عورت کو دلا بھی دے، تب بھی عورت کے لیے وہ مال حرام و باطل ہے۔

شریعت اسلامیہ کے مطابق جب کسی عورت کو طلاق ہو، تو وہ اپنے شوہر کے مال میں بنیادی طور پرتین چیزوں کی حق دار ہوتی ہے:

 (1)اگر حق مہر مقرر ہوا مگر نہیں ملا، تو وہ حاصل کرے گی۔ خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق ہوئی، تو آدھا مہر اور اس کے بعد طلاق ہوئی، تو پورا مہر، جبکہ اگر مہر مقرر ہی نہیں ہوا تھا اور خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق ہوئی، تو مخصوص نوعیت کا جوڑا دینا واجب ہوتا ہے۔ الغرض مہر سے متعلقہ احکام کتبِ فقہ میں تفصیلاً بیان کیےگئے ہیں۔

 (2)طلاق کے بعد عورت کو شوہر کی جانب سے عدت کے دوران رہائش، کھانا اور لباس مہیا کیا جائے گا۔

(3) اگر مرد نے طلاق دی ہو اور بیوی کی عدت کے دوران، شوہر کا انتقال ہو جائے، تو شرعی حصے کے مطابق شوہر کے مال میں بطورِ وارث حق دار ٹھہرے گی۔اس مسئلے میں مزید بھی تفصیل ہے۔

اِن تین صورتوں کے علاوہ  طلاق کے سبب عورت کا شوہر کی ذاتی جائیداد، مکان یا بینک بیلنس وغیرہا میں کوئی شرعی حصہ نہیں ہوتا، لہذا اگر طلاق ہونے کی صورت میں کوئی خاتون نصف جائیداد یا اثاثوں کے حصول کا تقاضا کرے، تو یہ سراسر شریعت کے خلاف اور باطل طریقے سے اپنے حق میں حرام مال کے حصول کی لالچ ہے اور اگر کسی باطل قانون کا سہارا لے کر شوہر کی رضامندی کے بغیر زبردستی حاصل کر ہی لیا (جیسے بعض غیر مسلم ممالک میں ایسا قانون ہے) تو عورت کو ایسے مال کا استعمال کرنا حرام ہے۔ اللہ کریم نے ناحق مال کھانے کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾

ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پرجان بوجھ کر کھالو۔ (پ 02، البقرۃ 188)

یہ آیت مبارکہ واضح طور پر بتاتی ہےکہ ناحق مال ہتھیانا اور پھر حاصل نہ ہوتا ہو، تو اداروں اور حُکام تک رسائی کر کے باطل طریقے سے مال حاصل کرنا، سراسر حرام ہے اور یہ بات تو ہر شخص کو واضح طور پر معلوم ہے کہ کسی قاضی یا ادارے کا ہر گز اختیار نہیں کہ وہ کسی کے ذاتی مال کو بلاوجہِ شرعی کسی اور کا حق قرار دے، کیونکہ کسی دوسرے کے لیے اُس میں تصرف حرام ہے۔ اگر قاضی اجازت دے بھی دے تو قاضی کا فیصلہ شریعت کے حرام کو حلال نہیں کر دے گا۔ چنانچہ اِسی آیت کے تحت علامہ ابنِ کثیر رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے قاضی وقت کا سہارا لے کر باطل طریقے سے مال حاصل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے نقل کیا:

’’وقد ورد في الصحيحين عن أم سلمة أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم، قال «ألا إنما أنا بشر وإنما يأتيني الخصم فلعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضي له، فمن قضيت له بحق مسلم، فإنما هي قطعة من نار فليحملها أو ليذرها» فدلَّت هذه الآية الكريمة وهذا الحديث على أن حكم الحاكم لا يغيّر الشيء في نفس الأمر، فلا يحل في نفس الأمر حرامًا هو حرام، ولا يحرم حلالًا هو حلال‘‘

ترجمہ: صحیحین میں حضرت ام سلمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت منقول ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے ہی جیسا انسان ہوں، میرے پاس لوگ مقدمہ لے کر آتے ہیں، ممکن ہے ایک فریق دوسرے سے زیادہ عمدہ بولنے والا ہو اور میں اس کے لیے اس حق کا فیصلہ کر دوں، تو میں جس کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو بلاشبہ یہ فیصلہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے، جو چاہے اسے لے لے، جو چاہے اسے رد کر دے۔ اس آیت مبارکہ اور اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حاکم یا جج کا فیصلہ کسی چیز کی اصل حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔ چنانچہ جو چیز حقیقت میں حرام ہے، وہ عدالتی فیصلے سے حلال نہیں ہو جاتی اور جو چیز حلال ہے، وہ حرام نہیں ہو جاتی۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 01، صفحہ 385، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

قاضی شریح رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اگر گواہوں کی گواہی پر فیصلہ کر بھی دیتے، تو جیتے ہوئے فریق کو لازمی تنبیہ کرتے اور یہ جملہ فرماتے:

’’وما يحل لك قضائي شيئا حرمه اللہ عليك‘‘

ترجمہ: میرا یہ فیصلہ تمہارے لیے کسی بھی ایسی چیز کو حلال نہیں کر سکتا جو اللہ نے تم پر حرام کی ہو۔ (الطبقات الكبرى، جلد 06، صفحہ 183، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

       جس كے حق میں فیصلہ ہوا ہے، جب اُسے معلوم ہے کہ درحقیقت یہ میرے لیے حرام ہے، تو اُس کا ایسی رقم یا چیز کو وصول کرنا ہی حرام ہے، چنانچہ علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 878ھ/1473ء)لکھتے ہیں:

’’ان رجلًا أقام  بيّنةً على آخر، فشهدوا أنّ له عليه مئة دينارٍ، فقضى بها القاضي، لم يحلّ للمقضي له أن يَأْخُذَهَا إذا علمها باطلًا‘‘

ترجمہ: اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے خلاف گواہ پیش کرے اور وہ گواہ یہ گواہی دیں کہ اِس شخص کے دوسرے پر سو دینار واجب الادا ہیں اور قاضی اسی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ سنا دے، تو جس شخص کے حق میں فیصلہ ہوا ہے اس کے لیے وہ رقم لینا ہرگز حلال نہیں ہے، اگر وہ جانتا ہو کہ یہ گواہی اور دعوی باطل اور جھوٹا ہے۔ (مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، صفحۃ 517، مطبوعۃ دار النوادر، سوریا)

حرام مال کا اِس قدر وبا ل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ مال حرام حاصل کرتا ہے، اگر اس کو صدقہ کرے تو قبول نہیں اور خرچ کرے تو اُس کے لیے اُس میں برکت نہیں اور اپنے بعد چھوڑ کر مرے تو جہنم میں جانے کا سامان ہے۔ (مسند احمد، 06/189، ط: بیروت) اور ایسے مال کو کھانے، پینے اور اپنی اولادوں پر لگانے کی شناعت بیان کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس جسم پر جنت حرام کر دی ہے جو حرام غذا سے پلا بڑھا ہو۔ (کنز العمال، 04/14، ط: مؤسسۃ الرسالۃ) اور اِس حرام خوری کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کریم اُس کی کوئی بھی دعا قبول نہیں فرماتا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ذکر کیا، جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال پراگندہ اور بدن غبار آلود ہے اور وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر یارب! یارب! پکار رہا ہے، حالانکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور غذا حرام پھر اس کی دعا کیسے قبول ہوگی! (صحیح مسلم، 03/85، ط: دار الطباعۃ)

ذیل میں وہ اسلامی قوانین بیان کیے جائیں گے، جو یہ واضح کریں گے کہ عورت کو طلاق ہونے کی صورت میں شوہر کے مال پر کس قدر استحقاق ہے اور وہ کس لحاظ سے ہے۔

مہر: جب شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے اور مہر پہلے ادا کیا جا چکا ہو، تو وہ رقم عورت کا حق ہے۔ مرد کو قطعاً اختیار نہیں کہ وہ اُس سے واپس لے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح ارشاد فرمایا:

﴿وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْــٴًـا﴾

ترجمہ: اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم نے جو کچھ عورتوں کو دیاہو اس میں سے کچھ واپس لو۔(پ 02، البقرۃ: 229) مزید فرمایا:

﴿وَ  اِنْ  اَرَدْتُّمُ  اسْتِبْدَالَ  زَوْجٍ  مَّكَانَ  زَوْجٍۙ-وَّ  اٰتَیْتُمْ  اِحْدٰىهُنَّ  قِنْطَارًا  فَلَا  تَاْخُذُوْا  مِنْهُ  شَیْــٴًـاؕ- ﴾

ترجمہ: اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ (پ 04، النساء: 20)

اور اگر طلاق دے دی، لیکن مہر نہیں دیا تھا، تو بعض اوقات عورت کو شوہر کے مال سے مکمل مہر اور کبھی آدھے مہر کا استحقاق ہوتا ہے اور ایک صورت میں ایک عدد سوٹ، جس میں قمیص، شلوار اور دوپٹہ شامل ہوگا یا اُس کی قیمت دی جائے گی۔ اِس کی تفصیل فقہاءِ کرام نے اپنی کتب میں بیان کی ہے، اُسے وہاں مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ ذیل میں ایک فقہی اقتباس مطالعہ کیجیے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

’’و المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، و الخلوة الصحيحة، و موت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، كذا في البدائع، و إن تزوجها ولم يسم لها مهرا أو تزوجها على أن لا مهر لها فلها مهر مثلها إن دخل بها أو مات عنها، و كذا إذا ماتت هي فإن طلقها قبل الدخول و الخلوة فلها المتعة‘‘

ترجمہ: مہر تین چیزوں سے مؤکد ہوجاتا ہے۔(1) عملِ ازدواج (2) خلوت صحیحہ(3) اور میاں بیوی میں سے کسی ایک کی موت، چاہے مہر مسمیٰ ہو یا مہر مثل۔ اس کے علاوہ کوئی چیز مہر کو ساقط نہیں کر سکتی، ہاں اگر خود صاحبِ حق ہی دستبردار ہو جائے تو جدا بات ہے، جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے۔ اور اگر نکاح کیا اور مہر مقرر نہ کیا، یا اس شرط پر نکاح کیا کہ اس کے لیے مہر نہیں، تو عورت کے لے مہر مثل ہوگا جبکہ ہمبستری ہوجائے یا شوہر وفات پاجائے، اسی طرح جب عورت وفات پاجائے اور اگر ہمبستری یا خلوت سے پہلے طلاق دیدی تو عورت کے لیے ”متعہ(مخصوص لباس)“ ہوگا۔ (الفتاوى الھندیۃ، جلد 01، الباب السابع في المهر، صفحہ 304، مطبوعہ کوئٹہ)

رہائش، کھانا اور لباس: عورت کو ”طلاق“ رجعی، بائنہ یا مغلظہ، کسی بھی طرح ہو، وہ ناشزہ نہ ہونے کی صورت میں شوہر کی طرف سے رہائش کی حق دار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مطلقاً ارشاد فرمایا:

﴿اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ﴾

ترجمہ کنز العرفان: عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی طاقت بھر۔ (پ 28، الطلاق: 06) اِسی آیت مبارکہ سے دورانِ عدت عورت کا نفقہ بھی ثابت ہوتا ہے، کیونکہ جب اُس نے رہنا ہی گھر میں ہے، تو یقیناً اخراجات کوئی دوسرا ہی پورے کرے گا اور وہ شوہر ہے۔ اِس آیت سے استدلال کرتے ہوئے ”بدائع الصنائع“ میں ہے:

’’الأمر بالإسكان أمر بالإنفاق‘‘

ترجمہ: رہائش دینے کا حکم درحقیقت خرچ کرنے کا حکم بھی ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 02، صفحہ 332، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

’’المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان‘‘

ترجمہ: طلاق کی عدت گزارنے والی عورت نان و نفقہ اور رہائش کی حقدار ہے، چاہے طلاق رجعی ہو یا بائن، یا تین طلاقیں ہوں، اور خواہ عورت حاملہ ہو یا نہ ہو، جیسا کہ فتاوٰی قاضی خان میں ہے۔ (الفتاوى الھندیۃ، جلد 01، الفصل الثالث في نفقة المعتدة، صفحہ 557، مطبوعہ کوئٹہ)

نفقہ اپنی تمام صورتوں کے ساتھ اُسی وقت تک ہے، جب تک عدت باقی ہے، عدت کے بعد رشتہ سو فیصد ختم ہو جاتا ہے، لہذا عورت کو شوہر کے مال پر کسی طرح کا حق بھی نہیں رہتا، چنانچہ ”ردالمحتار“ میں ہے: ’’أن ‌النفقة ‌تابعة للعدة‘‘ ترجمہ: بے شک نفقہ عدت کے تابع ہوتا ہے۔ (ردالمحتار، جلد 03، صفحة 609، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

وراثت: اگر مرد نے طلاق رجعی دی ہو یا مرض الموت میں عورت کی رضا مندی کے بغیر طلاق بائن دی ہو اور دورانِ عدت شوہر کا انتقال ہو جائے تو شرعی حصے کے مطابق شوہر کے مال میں بطورِ وارث حق دار ٹھہرے گی۔ آثارِ صحابہ میں واضح ثبوت موجود ہیں۔ ”بدائع الصنائع“ میں ہے:

’’روي توريث امرأة الفار عن جماعة من الصحابة من غير نكير، مثل عمر وعثمان وعلي وعائشة وأبي بن كعب رضي الله عنهم فإنه روي عن إبراهيم النخعي أنه قال: جاء عروة البارقي إلى شريح بخمس خصال من عند عمر رضي اللہ عنه منهن أن الرجل إذا طلق امرأته وهو مريض ثلاثا ورثت منه ما دامت في عدتها‘‘

ترجمہ: بیوی کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے طلاق دینے والے کی بیوی کو وارث بنانے کا حکم صحابہ کرام کی ایک جماعت سے بغیر کسی اختلاف کے مروی ہے، جیسے حضرت عمر، عثمان، علی، عائشہ اور ابی بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم، چنانچہ حضرت ابراہیم نخعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: عروہ بارقی، قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف سے پانچ احکامات لے کر آئے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ: اگر کوئی شخص بیماری (مرض الموت)کی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، تو جب تک وہ عورت اپنی عدت میں رہے گی، (شوہر کی وفات کی صورت میں) وہ اس شخص کی وارث بنے گی۔ (بدائع الصنائع، جلد 03، صفحہ 218، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

یاد رہے کہ جو رقم، زمین و جائیداد یا کسی بھی شکل کا سرمایہ، عورت کو اُس کے والدین، سسرال یا شوہر نے تحفۃً دیا، یا اُس نے خود کمایا، یا کسی اور جگہ سے تحفے میں ملا، وہ اُسی عورت کا کہلائے گا۔ مرد اُس میں کسی طرح کا حق دار نہیں ہو گا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9901
تاریخ اجراء:15 شوال المکرم 1447ھ/04 اپریل 2026