logo logo
AI Search

دخول سے پہلے طلاق ہونے پر رجوع کا طریقہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خلوت کے بعد دخول سے پہلے طلاق ہو جائے تو رجوع کا طریقہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

خلوت صحیحہ کے بعد، اور دخول سے پہلے، اگر ایک طلاق ہو جائے، تو عدت کے دوران رجوع کا کیا حکم ہو گا ؟ نیز رجوع کیسے ہو گا؟

جواب

دخول سے پہلے جو طلاق دی، اگرچہ خلوت صحیحہ کے بعد دی، وہ طلاق بائن ہے، اگرچہ صریح الفاظ کے ساتھ دی، لہذا اس کے بعد زبانی رجوع نہیں ہو سکتا، بیوی کی رضا مندی سے، نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ہو گا۔

در مختار میں ہے ”(والخلوة لا) تكون كالوطء (في حق الرجعة)“ ترجمہ: رجعت کے معاملے میں خلوت طلاق کی طرح نہیں ہے۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے ”(قوله والرجعة) أي لا يصير مراجعا بالخلوة ولا رجعة له بعد الطلاق الصريح بعد الخلوة بحر: أي لوقوع الطلاق بائنا“ ترجمہ: یعنی محض خلوت سے وہ رجوع کرنے والا نہیں کہلائے گا، اور بعدِ خلوت، صریح طلاق دینے کے بعد اسے رجوع کا حق حاصل نہیں ہو گا (بحر) کیونکہ خلوت کے بعد دی جانے والی طلاق بائن ہو گی۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 4، ص 240، 248، 249، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے "بائن وُہ طلاق جس کے سبب عورت فوراً نکاح سے نکل جائے، اگر بعد نکاح ابھی وطی و جماع کی نوبت نہ پہنچی اگرچہ خلوت ہو چکی ہو تو طلاق دی جائے بائن ہی ہوگی۔ " (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 513، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے "رجعت اُسی عورت سے ہو سکتی ہے جس سے وطی کی ہو، اگر خلوت صحیحہ ہوئی مگر جماع نہ ہوا تو نہیں ہو سکتی اگرچہ اُسے شہوت کے ساتھ چُھوا یا شہوت کے ساتھ فرجِ داخل کی طرف نظر کی ہو۔" (بہار شریعت، ج 2، حصہ 8، ص 170، مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4982
تاریخ اجراء: 18 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 06 مئی 2026ء