رخصتی سے پہلے طلاق ہونے پر عدت کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رخصتی سے پہلے طلاق ہو جائے تو عدت کا کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک لڑکی کو رخصتی سے پہلے طلاق ہو گئی ہے، اور آپس میں کسی قسم کی تنہائی نہیں ہوئی، تو اس عورت پر عدت ہوگی یا نہیں؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔
جواب
اگر واقعی رخصتی و تنہائی سے پہلے ہی طلاق ہوگئی ہے، تو اس صورت میں اس پر عدت نہیں ہے۔ چنانچہ قران ِ کریم فرقان حمید میں ہے
(یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَاۚ)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بے ہاتھ لگائے چھوڑ دو تو تمہارے لیے کچھ عدت نہیں جسے گنو۔ (پارہ22، سورۃ الاحزاب، آیت: 49)
اس آیت کے تحت احکام القرآن للجصاص میں ہے
” وقوله تعالى: (من قبل أن تمسوهن )قد بينا في سورة البقرة أن الخلوة مرادة بالمسيس وأن نفي العدة متعلق بنفي الخلوة والجماع جميعا“
ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ کےفرمان " (پھر) انہیں بے ہاتھ لگائے( چھوڑ دو) "کے بارے میں ہم نے سورۂ بقرہ میں بیان کر دیا ہے کہ ہاتھ لگانےسے مراد خلوت ہے، اور یہ کہ عدت کی نفی خلوت اور جماع دونوں کی نفی سے متعلق ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، ج 3، ص 477، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے
”أربع من النساء لا عدة عليهن: المطلقة قبل الدخول“
ترجمہ: چار عورتیں ایسی ہیں کہ جن پر عدت واجب نہیں ان میں سے ایک وہ عورت ہے جس کو دخول سے پہلے طلاق دی جائے۔ (الفتاوی العالمگیری، جلد1، صفحہ526، مطبوعہ: کوئٹہ)
خلوت سے پہلے طلاق کی صورت میں عدت نہ ہونے کے متعلق فتاوی قاضی خان میں ہے"وکذا لو طلّقھا قبل الخلوۃ"ترجمہ: اور یونہی اگر خلوت ِصحیحہ سے پہلے بیوی کو طلاق دے دی، (تو عدت واجب نہیں)۔ (فتاوی قاضی خان مع الھندیۃ، کتاب الطلاق، باب العدۃ، جلد1، صفحہ549، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے"اگرخلوت بھی نہ ہوئی اور ویسے ہی طلاق دے دی، تو ہندہ پر عدّت نہیں، اسے اختیار ہے کہ اِسی وقت جس سے چاہے نکاح کرلے۔" (فتاویٰ رضویہ، جلد12، صفحہ371، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4659
تاریخ اجراء: 03 شعبان المعظم1447ھ/23 جنوری 2026ء